30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدینی کہتے ہیں کہ وہ مراسیل حسن بصری جو ان سے ثقہ لوگوں نے روایت کی ہیں وہ صحیح ہیں ، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب سے ساقط ہونے والی کتنی ہیں اور ابوزرعہ کہتے ہیں جس شَے کے بارے میں بھی حسن نے “ قال رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم“ کہا ہے مجھے چار احادیث کے علاوہ ہر ایك کی اصل مل گئی ہے۔ اس عبارت کو تدریب میں نقل کیا ہے۔ (ت)
قلت (میں کہتا ہوں ) عدمِ وجدان عدمِ وجود کو مستلزم نہیں تو یحیٰی کو ایك یا دو احادیث جو نہ ملیں ممکن ہے کسی اور محدّث کو وہ مل گئی ہوں اورشاد باری ہے وفوق کل ذی علم علیم (ہر علم والے پر ایك علم والا ہے) اور مسلّم الثبوت میں حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے جب تم کو یہ کہوں کہ مجھے فلاں نے حدیث بیان کی تو وہ اس کی حدیث ہوتی ہے اور جب میں یہ کہوں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا تو وہ ستر۷۰ سے مروی ہوتی ہے اھ تدریب میں ہے یونس بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے پُوچھا اے ابوسعید! آپ کہتے ہیں نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا حالانکہ آپ نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زیارت نہیں کی؟ فرمایا اے بھتیجے! تُو نے مُجھ سے ایسا سوال کیا ہے جو تجھ سے پہلے آج تك مجھ سے کسی نے نہیں کیا ، اگر تیرا یہ مقام میرے ہاں نہ ہوتا تو میں تجھے اس سوال کا جواب نہ دیتا میں جس زمانے میں ہوں (وہ جیسے تجھے معلوم ہے) اور یہ حجاج کا زمانہ تھا جو کچھ مجھ سے آپ لوگ سنتے ہیں کہ میں کہتا ہوں نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا وہ حضرت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے میں نے سُنا ہوتا ہے (یہ نہیں کہ میں نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی ظاہری حیات پائی ہے) چونکہ میں ایسے دَور میں ہُوں جس میں حضرت علی کا نام ذکر نہیں کرسکتا (اس لئے میں حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نام لیتا ہوں ) والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
عــــہ : فصل نواقض الوضو ۱۲ منہ
فائدہ ۱۰ : (فائدہ ۱۰ متعلق افادہ ۲۴ دربارہ احادیث طبقہ رابعہ) سُفہائے زمانہ نے احادیث طبقہ رابعہ کو مطلقًا باطل وبے اعتبار محض قرار دیا جو شان موضوع ہے جس کا ابطال بین بابین وجوہ افادہ ۲۴ میں گزرا ، یہاں اتنا اور سُن لیجئے کہ برعکس اس کے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اُن کی روایت کو دلیل عدم موضوعیت قرار دیا ہے ، موضوعات کبیر میں زیر حدیث :
من طاف بالبیت اسبوعا ثم اتی مقام ابراھیم فرکع عندہ رکعتین ثم اتی زمزم فشرب من مائھا ، اخرجہ الله من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ [1]۔
جو سات پھیرے طواف کرکے مقامِ ابراہیم میں دو رکعت نماز پڑھے پھر زمزم شریف پر جاکر اس کا پانی پئے الله عزوجل اُسے گناہوں سے ایسا پاك کردے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
فرماتے ہیں :
حیث اخرجہ الواحدی فی تفسیرہ والجندی فی فضائل مکّۃ والدیلمی فی مسندہ لایقال انہ موضوع غایتہ انہ ضعیف [2]۔
جبکہ اسے واحدی نے تفسیر اور جندی نے فضائل مکّہ اور دیلمی نے مسند میں روایت کیا تو اسے موضوع نہ کہا جائیگا نہایت یہ کہ ضعیف ہے۔
اقول : وجہ یہ ہے کہ اصل عدم وضع ہے اور بوجہ خلط صحاح وسقام وثابت وموضوع جس طرح وضع ممکن یونہی صحت محتمل تو جب تك خصوص متن وسند کے لحاظ سے دلیل قائم نہ ہو احد الاحتمالین خصوصًا خلاف اصل کو معین کرلینا محض ظلم وجزاف ہے تو اُن کی حدیث قبل تبین حال جس طرح بسبب احتمال ضعف وسقوط احکام میں مستند ومعتبر نہ ہوگی یوں ہی بوجہ احتمال صحت وحسن وضعف محض موضوع وباطل وساقط بھی نہ ٹھہر سکے گی لاجرم درجہ توقف میں رہے گی اور یہی مرتبہ ضعیف محض کا ہے جس طرح وہاں توقف مانع تمسك فی الفضائل نہیں یونہی یہاں بھی کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ اصحابِ فہم پر مخفی نہیں ۔ ت) فواتح الرحموت عــــہ میں ہمارے علماءِ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے ہے :
الراوی انکان غیر معروف بالفقاھۃ ولا بالروایۃ بل انما عرف بحدیث اوحدیثین فان قبلہ الائمۃ اوسکتوا عنہ عند ظھور الروایۃ اواختلفوا کان کالمعروف وان لم یظھر منھم غیر الطعن کان مردودا وان لم یظھر شیئ منھم لم یجب العمل بل یجوز فیعمل بہ فی المندوبات والفضائل والتواریخ [3]۔
راوی حدیث اگر فقاہت وروایت میں معروف نہ ہو بلکہ کسی ایك یا دو۲ احادیث سے معروف ہو اور محدثین نے اسے قبول کرلیا یا ظہور روایۃ کے وقت اس سے خاموشی اختیار کی ہو یا اس میں اختلاف کیا ہوتو یہ بھی معروف کی طرح ہی ہوگا اگر اس پر محدثین نے طعن کا اظہار ہی کیا ہے تو وہ مردود ہوگا اور اگر محدثین نے کسی شیئ کا اظہار نہیں کیا تو اب عمل واجب نہیں بلکہ جائز ہوگا تو وہ مستحبات ، فضائل اور تاریخ میں قابلِ عمل ہے۔ (ت)
عــــہ : فی مسئلۃ معرف العدالۃ ۱۲ منہ (م)
معرف العدالۃ کے بحث میں ہے ۱۲ منہ (ت)
فائدہ ۱۱ : (تذکرۃ الموضوعات محمد طاہر فتنی میں ذکر مستلزم گمان وضع نہیں ) اُن ضروری فوائد سے کہ بوجہ تعجیل ہنگام تبییض تحریر سے رہ گئے تذکرۃ الموضوعات علامہ محمد طاہر فتنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا حال ہے کہ اس میں مجرد ذکر سے موضوعیت پر استدلال تو بڑے بھاری متکلمین منکرین نے کیا حالانکہ محض جہالت وبے رہی یا دیدہ ودانستہ مغالطہ دہی تذکرہ مذکورہ بھی کتب قسم ثانی سے ہے اُس میں ہر طرح کی احادیث لاتے اور کسی کو موضوع کسی کو لم یجد کسی کو منکر کسی کو لیس بثابت کسی کو لایصح کسی کو ضعیف کسی کو مؤول کسی کو رجالہ ثقات کسی کو لاباس بہ کسی کو صححہ فلان کسی کو صحیح فرماتے ہیں ، حدیث تقبیل ابہامین اُنہیں میں ہے جنہیں ہرگز موضوع نہ کہا بلکہ صرف لایصح پر اقتصار اور تجربہ کثیرین سے استظہار کیا خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
فصل فی تعیین ف۱ بعض الاحادیث المشتھرۃ علی الالسن والصواب خلافھا علی نمط ذکرتہ فی التذکرۃ [4] فیہ من عرف نفسہ عرف ربہ لیس بثابت ، ح رأیت ربی فی صورۃ شاب لہ وفرۃ صحیح محمول علی رویۃ المنام اومؤول ح المؤمن غرّکریم والمنافق خب لئیم موضوع عــــہ ح ماشھد رجل علی رجل بکفر الاباء بہ احدھما ضعیف عــــہ۱ فیہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم طرقھا واھیۃ عــــہ۲ ح من ادی الفریضۃ وعلم الناس الخیر کان فضلہ علی العابد الحدیث ضعیف اسنادہ لکنھم یتساھلون فی الفضائل ، ح الوضوء علی الوضوء نورعلٰی نور لم یوجد عــــہ۱ فیہ مسح العینین بباطن السبابتین بعد تقبیلھما لایصح وروی تجریۃ ذلك عن کثیرین فیہ الصلاۃ عماد الدین ضعیف وصلاۃ التسبیح ضعیف عــــہ ۲ الدارقطنی اصح شیئ فی فضل الصلٰوت صلاۃ التسبیح فیہ طعام الجواد واء وطعام البخیل داء فی المقاصد عــــہ۳ رجالہ ثقات وفی المختصر منکر فی المقاصد ماء زمزم لماشرب لہ ضعیف عــــہ۴ لکن لہ شاھد فی مسلم ح ان الله یبعث لھذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ من یجدد لھا دینھا صححۃ عــــہ۵ الحاکم ح مثل امتی کالمطر لایدری اولہ خیر ام اٰخرہ موضوع (عہ) فی الوجیز انا وابوبکر وعمر خلقنا من تربۃ واحدۃ فیہ مجاھیل قلت لہ طریق اٰخر ولہ شاھد فی اویس حدیث فی ورقتین قال ابن حبان باطل قلت الوقف اولی فان لہ طرقا عدیدۃ لاباس ببعضھا ح من اخلص لله اربعین یوما سندہ ضعیف ولہ شاھد ح یکون فی اٰخر الزمان خلیفۃ لایفضل علیہ ابوبکر ولاعمر موضوع قلت بل مؤول الی ھنا مافی التذکرۃ [5] اھ ملتقطا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع