دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اقول : (میں کہتا ہوں ) جو کچھ عاصم کے حوالے سے مذکور ہے اس کو اس گفتگو پر محمول کرنا جائز بلکہ واجب ہے جو ہم نے پہلے کلامِ یحیٰی پر کی تھی اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ثقہ کا ایك دوسرا اطلاق نہایت ہی محدود اخص ہے جیسا کہ تدریب میں ہے کہ ابن مہدی کہتے ہیں کہ ہمیں ابوخلدہ نے بیان کیا کہ ان سے کہاگیا کہ کیا وہ ثقہ ہے تو کہا کہ وہ صدوق اور مامون ہے اور بہتر ثقہ شعبہ اور سفیان ہیں اور کہا کہ مروزی نے بیان کیا کہ میں نے ابن حنبل سے عبدالوہاب بن عطا کے ثقہ ہونے کے بارے میں پُوچھا تو انہوں نے کہا تم ثقہ کو نہیں جانتے ثقہ صرف یحیٰی بن سعید القطان ہے اھ اس پر قائم رہنا کیونکہ معاملہ بڑا ہی واضح ہے۔ (ت)

عــــہ :  فی معرفۃ من تقبل روایتہ ۱۲ منہ (م)

جس کی روایت مقبول ہو اسکی معرفت میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)

ثم اقول : (ہمارے امام اعظم جس سے رعایت فرمالیں اس کی ثقاہت ثابت ہوگئی) انہیں ائمہ محتاطین سے ہیں علم اعلم امام اعظم سیدنا ابوحنیفۃ النعمان انعم الله   تعالٰی علیہ بانعام الرضوان ونعمہ بانعم نعم الجنان ، یہاں تك کہ اگر بعض مختلطین سے روایت فرمائیں تو اخذ قبل التغیر پر محمول ہوگا جس طرح احادیث صحیحین میں کرتے ہیں محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :

قال محمد بن الحسن رضی الله  تعالٰی عنہ فی کتاب الاٰثار اخبرنا ابوحنیفۃ ثنالیث بن ابی سلیم عن مجاھد عن ابن مسعود رضی الله  تعالٰی عنہ قال لیس فی مال الیتیم زکٰوۃ ولیث کان احد العلماء العباد وقیل اختلط فی اٰخر عمرہ ومعلوم ان اباحنیفۃ لم یکن لیذھب فیاخذ عنہ فی حال اختلاطہ ویرویہ وھو الذی شدد فی امرالروایۃ مالم یشددہ غیرہ علٰی ماعرف [1] اھ۔                                                                                                           

امام محمد بن حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکتاب الآثار میں فرماتے ہیں کہ ہمیں امام ابوحنیفہ نے ازلیث بن ابی سلیم ازمجاہد ازابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ یتیم کے مال میں زکٰوۃ نہیں ، لیث علمائے عابدین میں سے تھا اور انہیں آخر عمر میں اختلاط ہوگیا اور یہ بات مسلّم ہے کہ امام اعظم ان سے اختلاط کے بعد حدیث اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ آپ حدیث اخذ کرنے اور بیان کرنے میں جتنے سخت ہیں دوسروں سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ معلوم ومعروف ہے اھ (ت)

تنبیہ : (قلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث من زمن التابعین اخذِ حدیث میں نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہُوئی ہے۔ ت)

قلت ھذا التوسع وقلۃ المبالاۃ فی الاخذ قدحدث فی العلماء من لدن التابعین الاعلام اخرج الدارقطنی عن ابن عون قال قال محمد بن سیرین اربعۃ یصدقون من حدثھم فلایبالون ممن یسمعون ، الحسن وابوالعالیۃ وحمید بن ھلال ولم یذکر الرابع وذکرہ غیرہ فسماہ انس بن سیرین [2]ذکرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عــــہ وقال علی بن المدینی کان عطاء یاخذ عن کل ضرب ، مرسلات مجاھد احب الیّ من مرسلاتہ بکثیر وقال احمد بن حنبل مرسلات سعید بن المسیب اصح المرسلات ،  ومرسلات ابراھیم النخعی لاباس بہا ، ولیس فی المرسلات اضعف من مرسلات الحسن وعطاء بن ابی رباح فانھما کانا یاخذان عن کل احد [3]وقال الشافعی فی مراسیل الزھری لیس بشیئ لانانجدہ یروی عن سلیمٰن بن الارقم [4]ذکرھا فی التدریب۔

قلت ومراسیل الائمۃ الثقات مقبولۃ عندنا وعندالجماھیر ولاشك ان عطاء والحسن والزھری منھم وقلۃ المبالاۃ عندالتحمل لایقتضیھا عند الاداء فقدیاخذ الامام عمن شاء ولایرسلہ الا اذااستوثق وقد وافقنا علی قبول مراسیل الحسن ذاك الورع الشدید عظیم التشدید قدوۃ الشان یحیی بن سعید القطان وذاك الجبل العلی علی بن مدینی الذی کان البخاری یقول مااستصغرت نفسی الاعندہ وذلك الامام الاجل نقاد العلل ابوزرعۃ الرازی وناھیك بھم قدوۃ اما القطان فقال ماقال الحسن فی حدیثہ قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم الا وجدنا لہ اصلا الاحدیثا اوحدیثین واما علی فقال مرسلات الحسن البصری التی رواھا عنہ الثقات صحاح مااقل مایسقط منھا ، واما ابوزرعۃ فقال کل شیئ قال الحسن قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم وجدت لہ اصلا ثابتا ماخلا اربعۃ احادیث [5] نقلھا فی التدریب۔

قلت وعدم الوجدان لایقتضی عدم الوجود فلم یفت یحیی الاواحدا و اثنان ولعل غیر یحیی وجد مالم یجدہ  وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ(۷۶)[6] ونقل فی مسلم الثبوت عنہ رضی الله  تعالٰی عنہ انہ قال متی قلت لکم حدثنی فلان فھو حدیثہ ومتی قلت قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم فعن سبعین [7] اھ وفی التدریب قال یونس بن عبید سألت الحسن قلت یاابا سعید انك تقول قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم وانك لم تدرکہ فقال یاابن اخی لقد سألتنی عن شیئ ماسألنی عنہ احد قبلك ولولا منزلتك منی مااخبرتك انی فی زمان کماتری وکان فی زمن الحجاج کل شیئ سمعتنی اقول قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم فھو عن علی بن ابی طالب غیرانی فی زمان لااستطیع ان اذکر علیا [8] اھ والله  تعالٰی اعلم۔                

 قلت (میں کہتا ہوں ) اخذِ حدیث میں وسعت اور نرمی اکابر تابعین کے زمانہ سے پیدا ہوئی ہے ، دارقطنی نے ابنِ عون سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین کہتے ہیں چار ایسے آدمی ہیں جو ان سے حدیث بیان کرے (اساتذہ) اس کو سچّا سمجھتے ہیں ! اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے سماع کررہے ہیں ، وہ چار یہ ہیں حسن ، ابوالعالیہ ، حمید بن ہلال اور چوتھے کا نام نہیں لیا اور ان کے غیر نے چوتھے کا نام ذکر کیا اور اس کا نام انس بن سیرین بتایا ہے ، اس کو امام زیلعی نے نصب الرایہ میں ذکر کیا ہے۔ علی بن مدینی نے کہا کہ عطاء ہر قسم کی روایات لیتا تھا ، مجاہد کی مرسلات اس کی کثیر مرسلات سے مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اور احمد بن حنبل کا قول ہے مرسلات میں سے سعید بن مسیب کی مرسلات اصح ہیں اور مرسلاتِ ابراہیم نخعی میں کوئی حرج نہیں ، حسن اور عطاء بن رباح کی مراسیل سب سے ضعیف ہیں کیونکہ وہ دونوں ہر ایك سے حدیث اخذ کرلیتے تھے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ زہری کی مراسیل میں کوئی شیئ نہیں کیونکہ ہم نے اسے سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہوئے پایا ہے اس کا ذکر تدریب میں ہے۔ (ت)

قلت (میں کہتا ہوں ) ثقہ ائمہ کی مراسیل ہمارے اور جمہور علما کے ہاں مقبول ہیں ، اس میں کوئی شك نہیں کہ عطا ، حسن اور زہری ان میں سے ہیں اور اخذ میں نرمی کے لئے لازم نہیں کہ بیان کرتے وقت بھی نرمی ہو ، بعض اوقات امام کسی شخص سے حدیث اخذ کرلیتے ہیں مگر ارسال اسی وقت کرتے ہیں جب اسے وہ ثقہ محسوس کرتے ہوں ، اور ہمارے ساتھ حسن کی مراسیل کو قبول کرنے میں یحیٰی بن سعید القطان شریك ہیں جو ورع وتقوٰی اور حدیث کے اخذ کرنے میں نہایت ہی سخت ہیں ، اور اس فن کا عظیم شخص علی بن مدینی بھی جن کے بارے میں امام بخاری کا قول ہے میں نے اپنے آپ کو ان کے سوا کسی کے سامنے ہیچ نہیں سمجھا ، اور امام اجل نقاد العلل ابوزرعہ رازی بھی شریك ہیں اور یہ لوگ اقتدا کے لئے کافی ہیں ، لیکن قطان نے کہا ہے کہ جس حدیث کے بارے میں امام حسن یہ کہہ دیں “ قال رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم“ تو ہمیں ایك یا دو کے علاوہ ہر حدیث کی اصل ضرور ملی ، علی بن



[1]   فتح القدیر  کتاب الزکوٰۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۱۵

[2]   نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الطہارۃ واما المراسیل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا ریاض ۱ / ۵۱

[3]   تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۳

[4]   تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۵

[5]   تدریب الراوی شرح تقریب النواوی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۴

[6]   القرآن ۱۲ / ۷۶

[7]   مسلم الثبوت تعریف المرسل مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص ۲۰۲

[8]   تدریب الراوی شرح تقریب النوادی الکلام فی احتجاج الشافعی بالمرسل مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن