دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اعلم [1] اھ۔  وقال بعد ذلك معنی ھذا الکلام ان الحسن بن عمارۃ کذب فروی ھذا الحدیث عن الحکم عن یحیٰی عن علی وانما ھو عن الحسن البصری من قولہ وقد قدمنا ان مثل ھذا وان کان یحتمل کونہ جاء عن الحسن وعن علی لکن الحفاظ یعرفون کذب الکاذبین بقرائن وقدیعرفون ذلك بدلائل قطعیۃ یعرفھا اھل ھذا الفن فقولھم مقبول فی کل ھذا [2]  اھ۔

 اماقولك افبمثل ھذا یعتمد الخ اقول :  افترا علی ھٰولاء الائمۃ الجلۃ الاعاظم یشھدون جزافا من دون ثبت ثم ھذا کلہ انما ذکرناہ لیعرف ان الذھبی کیف یحتال للذب عن قدری امرہ قدظھر واذاوقع بسنی اشعری اوولی الله  صوفی صارلایبقی ولایذرکما بینہ تلمیذہ الامام تاج الدین السبکی رحمہ الله  تعالٰی فی الطبقات والافا الراجح عند علمائنا ایضا ھو توثیق ابن اسحٰق کماسنذکرہ ان شاء الله  تعالٰی والله  تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)                                 

اس سے خلاصی میزان میں ان کے اس قول سے ہوجاتی ہے : میں کہتا ہوں ہشام بن عروہ کیا جانے شاید انہوں نے اس سے مسجد میں سنا ، یا اس وقت اس سے سنا جب وہ بچّے تھے یا وہ اس کے پاس گئے ہوں تو اس خاتون نے پردے کے پیچھے سے بیان کیا ہو ، کیا معلوم کہ ان میں سے کون سی صورت ہے حالانکہ وہ خاتون بُوڑھی اور سِن والی ہوچکی تھی (صاحب فتنہ نہ تھی) اھ 

پھر کہا : کیا اس طرح کی صورت میں اہلِ علم شخص کو جھُوٹا قرار دینا درست ہے یہ مردود ہے (درست نہیں ) پھر اس سے محمد بن سوقہ نے بھی روایت لی ہے الخ اقول : (میں کہتا ہوں ) قائل کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ حفاظ ناقدین بعض اوقات کسی آدمی کا جھُوٹ قرائن کی وجہ سے جانتے ہوتے ہیں اور ہم ائمہ کی ایك ایسی جماعت کا علم رکھتے ہیں جس نے کسی شخص کو جھوٹا کہا مگر سب ذکر نہ کیا صرف وہ ہے جو ہمارے نزدیك قاصر ہے کیونکہ ان قرائن کو نہیں جانتے ، تو ہمارے لئے متعدد احتمالات ظاہر ہوں گے ، شاید یہ ہویا یہ ہو اور وہ تمام ان کے ہاں مدفوع ہوں ، اس پر امام نووی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں کئی جگہ تصریح کی ہے اور کہا کہ یہاں ایك قاعدہ ہے جس پر ہم تنبیہ کرتے ہیں ۔ اگر الله   تعالٰی نے چاہا اس پر حوالہ دیں گے اور وہ یہ ہے کہ عفان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بیان کیا کہ ہشام (ابن زیاد اموی) مبتلا ہُوئے ، یعنی اس حدیث کی وجہ سے ان کو لوگوں نے ضعیف کہا جس کے متعلق وہ کہتے تھے مجھے یحیٰی نے محمد سے بیان کیا پھر دعوٰی کیا کہ اس نے یہ محمد سے روایت سنی ہے اور صرف یہ چیز ضعف کا تقاضا نہیں کرتی کیونکہ اس میں کذب صراحۃً نہیں ہے ممکن ہے اس نے محمد سے سُنا ہو  پھر بھُول گیا ہو پھر ہشام نے یحیٰی سے حدیث بیان کی ہو پھر یحیٰی کو محمد سے سماع یاد آیا تو دونوں نے محمد کے حوالے سے روایت بیان کی ہو ، لیکن اس فن کے ماہرین اور اس کے راویوں کے دقیق اصول پہچاننے والوں پر ایسے قرائن آشکار ہوئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محمد سے نہیں سُنا ، جب ان کے ہاں اس پر دلائل ظاہری قائم ہوگئے تو اب انہوں نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہشام نے محمد سے نہیں سُنا ، اور اس کے بعد عنقریب ائمہ کے اقوال میں اسی طرح سے کثرت کے ساتھ جرح کا ذکر آئے گا ان سب میں وہی بات کہی جائے گی جو ہم نے یہاں کہہ دی ہے والله  تعالٰی اعلم اھ۔ اور اس کے بعد کہا کہ اس کلام کا معنٰی یہ ہے کہ حسن بن عمارہ نے جھوٹ بولتے ہوئے اس حدیث کو حکم از یحیٰی ازعلی روایت کیا حالانکہ وہ حسن بصری سے ان کے قول سے مروی ہے اور ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ اس کی مثل یہ ہے اگرچہ اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ حسن سے اور علی سے ہو ، لیکن اس فن کے حفاظ قرائن سے جھُوٹوں کے جھُوٹ سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کو وہ ایسے دلائل قطعیہ سے جان لیتے ہیں جن کو صرف اہل فن ہی پہچانتے ہیں لہذا ان کا فیصلہ ان تمام میں مقبول ہوگا اھ۔

رہا تیرا قول : افبمثلہ ھذا یعتمد الخ  اقول : یہ ان عظیم ائمہ پر اسی بات کا افترا ہے کہ وہ اندازے سے کام لیتے ہیں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ذہبی نے کس حیلہ سے قدری سے کذب کیا ، جس کا معاملہ واضح تھا اور جس وقت یہ معاملہ کسی سخی اشعری یا کسی ولی الله   صوفی کو رد کیا ہوتو وہ نہ چھوڑے نہ باقی رہنے دے جیسے کہ ان کے شاگرد امام تاج الدین سبکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے طبقات میں اس کو بیان کیا ہے ورنہ ہمارے ہاں بھی راجح یہی ہے کہ ابن اسحٰق ثقہ ہیں جیسا کہ عنقریب ہم اسے بیان کریں گے۔ (ت)

امام بخاری عــــہ۱ جزء القرأۃ خلف الامام میں توثیق عــــہ۲ ابن اسحٰق ثابت فرمانے کو اُس سے جواب دیتے ہیں :

رأیت علی بن عبدالله  یحتج بحدیث ابن اسحاق وقال علی عن ابن عیینۃ مارأیت احدا یَتَّھِمُ محمد بن اسحاق (الی ان قال) ولوصح عن مالک تناولہ عن ابن اسحاق فلم بماتکلم الانسان فیرمی صاحبہ بشیئ واحد ولایتھمہ فی الامور کلھا [3]الخ

میں نے علی بن عبدالله   کو حدیث ابن اسحاق سے استدلال کرتے ہوئے پایا ہے اور علی ابن عینیہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو محمد بن اسحٰق پر اتہام کرتا ہو (آگے چل کر کہا) اور اگر امام مالك سے ابن اسحاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ صحیح ہوتو اکثر ہوتا رہتا ہے کہ ایك آدمی دوسرے پر کسی ایك بات میں طعن کرتا ہے اور باقی تمام امور میں اس پر تہمت نہیں لگاتا الخ (ت)

عــــہ۱  :  نقلہ زیلعی فی نصب الرایۃ قبیل کتاب الخنثی ۱۲ منہ (م)

جیسے کہ زیلعی نے نصب الرایۃ میں کتاب الخنثی سے تھوڑا پہلے اس کو ذکر کیا ہے۔ (ت)

عــــہ۲ :  ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کے نزدیك بھی راجح محمد بن اسحاق کی توثیق ہی ہے محقق علی الاطلاق فتح میں زیر مسئلہ یستحب تعجیل المغرب فرماتے ہیں :

توثیق ابن اسحاق ھو الحق الابلج ومانقل عن کلام المالك فیہ لایثبت ولوصح لم یقبلہ ھل العلم کیف وقدقال شعبۃ فیہ ھو امیرالمؤمنین فی الحدیث وروی عنہ مثل الثوری وابن ادریس وحماد بن زید ویزید بن زریع وبن علیۃ وعبدالوارث وابن المبارك واحتملہ احمد وابن معین وعامۃ اھل حدیث غفرالله  تعالٰی لھم وقداطال البخاری فی توثیقہ فی کتاب القرأۃ خلف الامام لہ وذکرہ ابن حبان فی الثقات وان مالکا رجع عن الکلام فی ابن اسحاق واصطلح معہ وبعث الیہ ھدیۃ ذکرھا [4] اھ ۱۲ منہ (م)         

ابن اسحاق کی توثیق ہی واضح اور حق ہے اور امام مالك کا ان کے بارے میں جو قول منقول ہے وہ ثابت نہیں ، اگر وہ ثابت بھی ہو تب بھی اہلِ علم کے ہاں قابلِ قبول نہیں ، ایسا کیونکر ہو حالانکہ شعبہ نے ان کے بارے میں امیرالمومنین فی الحدیث کہا اور ان سے ثوری ، ابنِ ادریس ، حمادبن زید ، یزید بن زریع ، ابن علیہ ، عبدالوارث اور ابن مبارك جیسے محدثین نے روایت لی ہے ، اور احمد ، ابن معین اور اکثر محدثین (رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) نے ان کے بارے میں (عدم توثیق کا) احتمال غیر یقینی طور پر بیان کیا۔ امام بخاری نے اپنی کتاب القرأۃ خلف الامام میں ان کی توثیق کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے۔ ابن حبان نے ثقات میں ان کا ذکر کیا اور یہ کہ امام مالك نے ابن اسحٰق کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کرلیا ، ان کے ساتھ متفق ہوگئے اور ان کے پاس ہدیہ ارسال کیا جس کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

دیکھو صاف تصریح ہے کہ ایك جگہ کاذب پانے سے ہر جگہ مہتم سمجھنا لازم نہیں ، لاجرم امام ابن عراق تنزیہ الشریعۃ میں فرماتے ہیں :

قال الزرکشی فی نکتہ علی ابن الصلاح بین قولنا موضوع وقولنا لایصح بون کبیر فان الاول اثبات الکذب والاختلاق والثانی اخبار عن عدم الثبوت ولایلزم منہ اثبات العدم وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی لایصح ونحوہ قلت وکان نکتۃ تعبیرہ بذلك حیث عبربہ انہ لم یلح لہ فی الحدیث قرینۃ تدل علی انہ موضوع ، غایۃ الامرانہ احتمل عندہ ان یکون موضوعا لانہ من طریق متروك اوکذاب وھذا انما یتم عندتفرد الکذاب اوالمتھم علی ان الحافظ ابن حجر خص ھذا فی النخبۃ باسم المتروك ولم ینظمہ فی مسلك الموضوع [5]۔                                                                                            

زرکشی نے اپنی نکت علی ابن الصلاح میں لکھا کہ ہمارے قول موضوع اور لایصح میں بہت بڑا فرق ہے ، پہلی صورت میں کذب اور گھڑنے کا اثبات ہے اور دوسری صورت میں عدم ثبوت کی اطلاع ہوتی ہے اور اس سے عدمِ وجود کا اثبات لازم نہیں آتا اور یہ ضابطہ ہر اس حدیث میں جاری ہوگا جس کے بارے میں ابن جوزی نے 'لایصح “ کہا یا اس کی مثل کوئی کلمہ کہا ہے ، میں کہتا ہوں کہ حدیث کو ان الفاظ سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ان کے لئے اس



[1]   شرح الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴

[2]   شرح الصحیح لمسلم باب بیان الاسناد الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷

[3]   نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ آخر کتاب الوصایا مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴ / ۴۱۶

[4]   حاشیہ فتحہ القدیر فصل فی استحباب التعجیل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۰۰

[5]   تنزیہ الشریعۃ لابن عراق کتاب التوحید فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۱ / ۱۴۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن