دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شریعت ظاہر ہونے اور باقی انبیاء کی شریعتیں یکسر منسوخ ہونے کے بعد۔ اور حدیث میں رکوع کا قیام اور سجود کے ساتھ مذکور ہونا ، واضح دلیل ہے کہ یہاں شرعی رکوع مراد ہے۔ لغوی رکوع یعنی خشوع مراد ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے جبکہ انبیاء کیلئے تین۳ قسم کی عبادات مذکور ہیں یعنی قیام ، رکوع اور سجود۔ کیا تمہارے خیال میں جو انبیاء قائم یا ساجد تھے وہ خشوع کرنے والے نہیں تھے؟ میں نے جو کچھ حاشیہ میں لکھا تھا وہ ختم ہوا۔ (ت)

ثمّ اقول :  الحدیث ان دلّ علی خلوصلاۃ بنی اسرائیل عن الرکوع ، کان ادل علی خلوصلاۃ الامۃ الابرھیمیۃ عنہ ، فان ملتنا ھذہ ھی الملۃ الابرھیمیۃ ، مع ان الله تعالٰی یقول وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)[1] 

وقال تعالٰی وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۲۶)[2]۔

وادعاء ان المراد بالرکع الامۃ المحمدیۃ خاصۃ واضح البعد۔ صلی الله تعالٰی علی الجیب واٰلہ وامتہ و بارك وسلّم۔

پھر میں کہتا ہوں کہ (حضرت علی والی) حدیث اگر اس پر دال ہے کہ بنی اسرائیل کی نمازیں رکوع سے خالی تھیں تو ملتِ ابراہیمیہ کی نمازوں کے رکوع سے خالی ہونے پر بطریقِ اولٰی دال ہوگی کیونکہ ہماری ملّت تو ملتِ ابراہیمی ہی ہے باوجودیکہ الله  تعالٰی فرماتا ہے : “ اور عہد کیا ہم نے ابراہیم واسمٰعیل کی طرف کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لئے ، اعتکاف کرنے والوں کے لئے اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے پاك رکھو “ ۔ اور الله  تعالٰی فرماتا ہے “ اور جب ٹھکانا بنادیا ہم نے ابراہیم کے لئے بیت الله  کی جگہ کو کہ نہ شریك ٹھہراؤ میرے ساتھ کسی کو اور میرے گھر کو پاك رکھو طواف کرنے والوں کے لئے ، قیام کرنے والوں کیلئے اور رکوع وسجود کرنے والوں کیلئے۔ اور یہ دعوٰی کرنا کہ رکوع کرنے والوں سے مراد صرف امتِ محمدیہ ہے واضح طور پر بعید ہے صلی الله  علی الحبیب وآلہٖ وامتہٖ وبارك وسلم۔ (ت)

بالجملہ مدار کار صحت حدیث مذکور طبرانی وبزار پر ہے اگر وہ صحیح ہے تو ثابت ہوگا کہ معراج شریف سے پہلے کی نمازیں بلکہ ایك نماز بعد کی بھی بے رکوع تھی ورنہ ظاہر احادیث یہی ہے کہ نماز سابق ولا حق باہم یکساں ومتوافق ہیں ۔

ھذا کلہ ماظھرلی ، والعلم بالحق عندربی ، والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ، وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

یہ سب کچھ میرے لیے ظاہر ہوا ہے اور حق کا علم میرے رب کو ہے ، الله  سبحٰنہ وتعالٰی بہتر علم رکھنے والا ہے اور اسی کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔ (ت)

مسئلہ(۲۵۱)            اس بنارس محلہ کتواپورہ۔ مرسلہ مولوی حاجی محمد رضا علی صاحب ماہِ رمضان ۱۳۰۸ھ

سوال :

خلاصہ فتوائے مولوی صاحب موصوف کہ بطلب تصدیق نزد فقیر فرستادند

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

ایك اشتہار جو چھاپا گیا ہے اُس میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالله  نامی بماہ ربیع الاول ۱۳۰۷ھ شبِ جمعہ روضہ مبارك رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر بیٹھے تھے اُن کو پیغمبرِ خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اونگھ میں باتیں کیں جب آنکھ کھلی سب مضمون اشتہار کاغذ پر لکھا قبر شریف پر دھرا تھا اور بہت باتیں اُس میں مکتوب میں درباب اس اشتہار کے کیا ارشاد ہے۔ بینوا ایہا العلماء رحمکم الله۔

الجواب وھو العلیم :

کہتا ہے فقیر محمد رضا علی البنارسی الحنفی اُس میں جو علامات قیامت لکھے ہیں بے شك علامات صغرٰی سب اس زمانہ میں موجود ہیں اور اسلام میں ضعف خصوصًا ہندوستان میں الله  تعالٰی سب مسلمانوں کو اور فقیر کو تو بہ نصیب کرے مگر اشتہار میں جو لکھا ہے کہ شیخ عبدالله  سے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے خواب یا اونگھ میں فرمایا علماء کتب معتبرہ میں لکھتے ہیں اگر کوئی کہے ہم سے رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے خواب میں ایسا فرمایا اگر قائل فاسق ہے تو بلاشك کاذب ہے اور متقی ہے تو دیکھیں گے کہ یہ حکم جو یہ شخص پیغمبر خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی طرف نسبت کرتا ہے اگر برابر ہے قرآن وحدیث اور نصوص قطعیہ شرعیہ اور فقہ کے تو یہ قول بھی واجب الاذعان اور واجب الاتباع ہے اور اگر مخالف ہے ہرگز معتبر اور واجب الاتباع نہیں کیونکہ جو کلمہ پیغمبر خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے بیداری میں صحابہ کرام سے فرمایا اور متواتر منقول ہے اُسی کا اعتبار کریں گے مخالف کو اَضغاث احلام شمار کریں گے ورنہ تعارض آپ کے کلام میں لازم آئے گا۔

کذا ذکرہ الملا علی قاری فی المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمۃ وفی الحرز الثمین والعارف بن ابی جمرۃ الاندلسی المالکی فی بھجۃ النفوس شرح مختصر صحیح البخاری والشھاب احمد الخفاجی الحنفی فی نسیم الریاض وغیرھم فی کتبھم۔                                       

اسی طرح ذکر کیا ہے ملّا علی قاری نے “ المقدمۃ السالمۃ فی خوف الخاتمہ “ اور “ الحرز الثمین “ میں ۔ اور عارف ابن ابی جمرہ اندلسی نے “ بہجۃ النفوس “ میں جوکہ مختصر صحیح بخاری کی شرح ہے اور شہاب احمد خفاجی حنفی نے “ نسیم الریاض “ میں ، اور دیگر علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں ۔ (ت)

اور بھی فرمایا الله  تعالٰی نے اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ[3]۔ (آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہے)

 کلامِ الٰہی اور کلام رسالت پناہی بعد اکمال کے اب منسوخ نہیں ہوسکتا الغرض کذب اس اشتہار کا کئی طور سے معلوم ہوتا ہے والله العلیم الخبیر (اور الله  علم اور خبر والا ہے) اُس میں لکھا ہے تارك الصلاۃ پر نمازِ جنازہ نہ پڑھیں ، غسل نہ دیں ، قبرستانِ اہلِ اسلام میں نہ دفن کریں ، اُس کے ساتھ کھانا نہ کھائیں ، عیادت نہ کریں ۔ یہ سب مسائل خلافِ قرآن اور حدیث اور فقہ کے ہیں ، خلاف اہلِ سنّت کے ہیں ، خوارج سے ملتے ہوئے ہیں ، ہمارے مذہب اہل سنّت میں ترك نماز گناہِ کبیرہ ہے اور ترك فرض اور ارتکابِ کبیرہ سے آدمی کافر نہیں ہوسکتا ، ہاں کبیرہ کو کبیرہ نہ جانے تو بلاشك کافر ہے ، منکر نصوصِ قطعیہ کا بلاشك کافر ہے ، اور کلمہ گو کوغسل نہ دینا ، نمازِ جنازہ نہ پڑھنا ، مقابرِ اہلِ اسلام میں دفن نہ کرنا نہایت مذموم اور بڑے فساد اور بڑی اہانت کی بات ہے۔ اور تارك الصلاۃ کے کفر واسلام کا بحث درمیان ائمہ اربعہ کے معلوم ہے ہمارے امام اعظم تارك الصلاۃ کو کافر نہیں کہتے فاسق کہتے ہیں اور اس کو ادلہ شرعیہ سے ثابت کرتے ہیں اور مراد کُفر سے تعذیب مثل کفار کے ہے۔

کذا فی شرح الفقہ الاکبر [4]  لملاّ علی قاری

ملّا علی قاری کی شرح فقہ اکبر میں ،

ومیزان الشعرانی ورحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ وشرح الشیخ عبدالحق للمشکٰوۃ وغیرھا من الکتب المعتبرات۔

امام شعرانی کی میزان میں ، رحمۃ الامّہ فی اختلاف الائمہ میں ، شیخ عبدالحق کی شرح مشکوٰۃ میں اور دوسری معتبر کتابوں میں اسی طرح مذکور ہے۔ (ت)

 



[1]   القرآن سورہ البقرۃ ۲ آیت ۱۲۵

[2]   القرآن سورہ الحج ۲۲ آیت ۲۶

[3]   القرآن سورۃ المائدۃ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن