دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ذکر حسنات وفضائل وعمائد صفات ایشاں ازجہت آنکہ صحبت ایشاں بآنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمیقینی ست وماورائے آں ظنی است وکافیست دریں باب کہ حق تعالٰی برگزید ایشاں رابرائے صحبت حبیبہ خود صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمطریقہ اہل سنّت وجماعت دریں باب این است درعقائد نوشتہ اند لاتذکر احدا منھم الابخیر ف۱ وآیات واحادیث کہ درفضائل صحابہ عمومًا وخصوصًا واقع شدہ است دریں باب کافی است [1] اھ مختصرا۔             

نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی تعظیم واحترام درحقیقت آپ کے صحابہ کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی ہے ان کی اچھی تعریف اور رعایت کرنی چاہے اور ان کے لئے دعا وطلبِ مغفرت کرنی چاہئے بالخصوص جس جس کی الله   تعالٰی نے تعریف فرمائی ہے اور اس سے راضی ہوا ہے اس سے وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے پس اگر ان پر طعن وسب کرنے والا دلائل قطعہ کا منکر ہے تو کافر ورنہ مبتدع وفاسق ، اسی طرح ان کے درمیان جو اختلافات یا جھگڑے یا واقعات ہُوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کرنا ضروری ہے اور ان اخبار واقعات سے اعراض کیا جائے جو مورخین ، جاہل راویوں اور گمراہ وغلو کرنے والے شیعوں نے بیان کیے ہیں اور بدعتی لوگوں کے ان عیوب اور برائیوں سے جو خود ایجاد کرکے ان کی طرف منسوب کردئے اور ان کے ڈگمگا جانے سے کیونکہ وہ کذب بیانی اور افترا ہے اور ان کے درمیان جو محاربات ومشاجرات منقول ہیں ان کی بہتر توجیہ وتاویل کی جائے ، اور ان میں سے کسی پر عیب یا برائی کا طعن نہ کیا جائے بلکہ ان کے فضائل ، کمالات اور عمدہ صفات کا ذکر کیا جائے کیونکہ حضور علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت یقینی ہے اور اس کے علاوہ باقی معاملات ظنی ہیں اور ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ الله   تعالٰی نے انہیں پانے حبیب علیہ السلام کی محبت کے لئے منتخب کرلیا ہے اہل سنت وجماعت کا صحابہ کے بارے میں یہی عقیدہ ہے اس لئے عقائد میں تحریر ہے کہ صحابہ میں سے ہر کسی کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کیا جائے اور صحابہ کے فضائل میں جو آیات واحادیث عمومًا یا خصوصًا وارد ہیں وہ اس سلسلہ میں کافی ہیں اھ مختصرا (ت)

امام محقق سنوسی وعلّامہ تلمسانی پھر علّامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں : مانقلہ المؤرخون قلۃ حیاء وادب [2] (مؤرخین کی نقلیں قلت حیا وادب سے ہیں ) امام اجل ثقہ مثبت حافظ متقن قدوہ یحیٰی بن سعید قطان نے کہ اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں عبدالله   قوایری سے پُوچھا کہاں جاتے ہو؟ کہا وہب بن جریر کے پاس سیر لکھنے کو ، فرمایا : تکتب کذبا کثیرا [3] (بہت سا جھوٹ لکھوگے)ذکرہ فی المیزان عــــہ (اس کا ذکر میزان میں ہے۔ ت)تفصیل اس مبحث کی اُن رسائل فقیر سے لی جائے کہ مسئلہ حضرت امیر معٰویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں تصنیف کیے یہاں شاہ عبدالعزیز صاحب کی ایك عبارت تحفہ اثنا عشریہ سے یاد رکھنے کی ہے مطاعن افضل الصدیقین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے طعن سوم تخلف حبیش اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے رَد میں فرماتے ہیں :

عــــہ :  فی ترجمۃ محمد بن اسحٰق حیث قال                                                                                                

اس کا ذکر محمد بن اسحاق کے ترجمہ میں ہے جہاں (باقی اگلے صفحہ پر)

ف۱ : مدارج النبوہ مطبوعہ سکھر میں “ وآیات کا لفظ نہیں ہے

جملہ لعن الله  من تخلف عنہا ہرگز درکتب اہل سنت موجود نیست قال الشھرستانی فی الملل والنحل ان ھذہ الجملۃ موضوعۃ ومفتراۃ وبعضے فارسی نویسان کہ خود رامحدثین اہل سنت شمردہ اند ودرسیر خود ایں جملہ را اوردہ برائے الزام اہل سنت کفایت نمی کند زیراکہ اعتبار حدیث نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین نزد اہل سنت بیافتن حدیث درکتب مسندہ محدثین است مع الحکم بالصحۃ وحدیث بے سند نزد ایشاں شتربے مہار است کہ اصلا عــــہ گوش بآں نمی نہند[4]۔              

جملہ “ لعن الله  من تخلف عنھا “ کتب اہلِ سنت میں ہرگز موجود نہیں ، شہرستانی نے الملل والنحل میں کہا کہ یہ جملہ موضوع اور جھُوٹا ہے ، اور بعض فارسی لکھنے والوں نے خود کو محدثین اہلسنت ظاہر کیا ہے اور اہل اسنت کو الزام دینے کے لئے اپنی کتب میں اس جملہ کو شامل کردیا لیکن یہ قابلِ اعتبار نہیں ، اہلسنت کے ہاں حدیث وہی معتبر ہے جو محدثین کی کتب احادیث میں صحت کے ساتھ ثابت ہو ، ان کے ہاں بے سند حدیث ایسے ہی ہے جیسے بے مہار اونٹ ، جو کہ ہرگز ناقابلِ سماعت نہیں ۔ (ت)

 (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

مالہ عندی ذنب الاماقد حشانی فی السیرۃ من الاشیاء المنکرۃ المنقطعۃ والاشعار المکذوبۃ ، قال الفلاس سمعت یحیی القطان یقول لعبیدالله  القواریری الٰی این تذھب ، قال الٰی وھب بن جریر ا کتب السیرۃ قال تکتب کذبا کثیرا [5]  ۱۲ منہ (م)

انہوں نے کہا میرے نزدیك اس کا کوئی گناہ نہیں ماسوائے اس کے کہ انہوں نے سیرت میں منکر ومنقطع روایات اور جھُوٹے اشعار شامل کردئے ہیں ، فلاس نے کہا میں نے یحیٰی قطان کو عبیدالله   قواریری سے یہ کہتے ہُوئے سُنا کہ کہاں جارہے ہو ، انہوں نے کہا وہب بن جریر کی طرف سیرت لکھنے کیلئے ، اس نے کہا تُو وہاں بہت زیادہ جھُوٹ لکھے گا ۱۲ منہ (ت)

عــــہ :  اقول :  یعنی درامثال باب تاباب احکام فاما دون اوکہ باب تساہل ست نقل معتمدی بسند است

اقول : یعنی یہ مثالِ مقام تاباب میں ہے اسکے علاوہ جو باب تساہل ہے کوئی ایك معتمد نقل سند کے ساتھ ہو

فائدہ ۳ : (اظہر یہی ہے کہ تفرد کذاب بھی مستلزم موضوعیت نہیں ) افادہ دہم دیکھیے جو حدیث اُن پندرہ قرائن وضع سے منزہ ہو ہم نے اُس کے بارے میں کلمات علماء تین طرز پر نقل کئے اصلًا موضوع نہ کہیں گے تفرد کذاب ہوتو موضوع تفرد متہم ہو تو موضوع ، اور افادہ ۲۳ میں اشارہ کیا کہ ہمارے نزدیك مسلك اول قوی واقرب بصواب ہے افادہ ۱۰ میں امام سخاوی سے اُس کی تصریح اور کلام علی قاری سے نظیر صریح ذکر کی دوسری نظیر صاف وسفید حدیث مرغ سپید کہ کلام علامہ مناوی سے افادہ ۲۳ میں گزری وہیں دلیل ثامن میں بشہادت حدیث وحکم عقل اس کی تقویت کا ایما کیا۔

والاٰن اقول  : یہی مذہب فقیر نے کلامِ امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن طجاج سے استنباط کیا ، فائدہ تاسعہ میں آتا ہے کہ انہوں نے قسم کھاکر کہا ابان بن ابی عباس حدیث میں جھُوٹ بولتا ہے پھر خود ابان سے حدیث سنی ، اس پر پُوچھا گیا ، فرمایا اس حدیث سے کون صبر کرسکتا ہے ، معلوم ہوا کہ مطعون بالکذب کی ہر حدیث موضوع نہیں ورنہ اس کی طرف ایسی رغبت اور وہ بھی ایسے امام اجل سے چہ معنی۔

ثم اقول : اور فی الواقع یہی اظہر ہے کہ آخر الکذوب قدیصدق (جھوٹ بولنے والا بھی کبھی سچ کہتا ہے۔ ت) میں کلام نہیں اور یہ بھی مسلّم کہ ایك شخص واحد کا روایت حدیث سے تفرد ممکن یہاں تك کہ غریب فرد میں صحیح حسن ضعیف بہ ضعف قریب وضعف شدید سب قسم کی حدیثیں مانی جاتی ہیں تو یہ کیوں نہیں ممکن کہ کبھی موسم بتکذیب بھی تفرد کرے اور اس حدیث خاص میں سچّا ہو اس کے بطلان پر کیا دلیل قائم ، لاجرم یہی مذہب مہذب مقتضائے ارشادات امام ابن الصلاح وامام نووی وامام عراقی وامام قسطلانی وغیرہم اکابر ہے ان سب ائمہ نے موضوع کی یہی تعریف فرمائی کہ وہ حدیث کہ جو نری گھڑت اور افترا اور نبی عــــہ صلی الله   تعالٰی علیہ وسلم پر جھُوٹ بنائی گئی ہو ، علوم الحدیث امام ابوعمر وتقریب میں ہے : الموضوع ھوالمختلق المصنوع [6](موضوع وہ حدیث ہے جو من گھڑت اور بناوٹی ہو۔ ت)الفیہ میں ہے :  ؎

دگرچندبے سنداست چنانکہ در افادہ بست وہفتم تحقیق نمودیم خود شاہ صاحب درہچو مقام بہ بسیارے ازروایات بے سند استنادکردہ است کما لایخفی علی من طابع کتبہ وسر انجام است کہ کمال تحقیق ایں معنی در فائدہ اخیر کردیم ۱۲منہ(م)

 



[1]   مدارج النبوۃ وصل درتوقیر حضور واصحاب وے صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۳۱۳

[2]   شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ باب وفات امہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۲۰۴

[3]   میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق  مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۶۹

[4]   تحفہ اثناعشریہ  باب دہم طعن سوم ازمطاعن ابی بکر  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۶۵

[5]   میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۷۱۹۷ محمد بن اسحاق دارالمعرفۃ بیروت ۱۳ / ۴۶۹

[6]   تقریب النواوی مع شرح تدریب الراوی النوع الحادی والعشرون مطبوعہ دارنشر ال

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن