دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

اقول : جس نے قبول ضعاف فی الفضائل کا منشا کہ افاداتِ سابقہ میں روشن بیانوں سے گزرا ذہن نشین کرلیا ہے وہ اس فرق کو بنگاہِ اولین سمجھ سکتا ہے قبول ضعاف صرف محل نفع بے ضرر میں ہے جہاں اُن کے ماننے سے کسی تحلیل یا تحریم یا اضاعتِ حق غیر غرض مخالفت شرع کا بوجہ من الاجوہ اندیشہ نہ ہو فضائل رجال مثل فضائل اعمال ایسے ہی ہیں ، جن بندگانِ خدا کا فضل تفصیلی خواہ صرف اجمالی دلائل صحیحہ سے ثابت ہے اُن کی کوئی منقبت خاصہ جسے صحاح وثوابت سے معارضت نہ ہو اگر حدیث ضعیف میں آئے اُس کا قبول تو آپ ہی ظاہر کہ اُن کا فضل تو خود صحاح سے ثابت ، یہ ضعیف اُسے مانے ہی ہوئے مسئلہ میں تو فائدہ زائدہ عطا کرے گی اور اگر تنہا ضعیف ہی فضل میں آئے اور کسی صحیح کی مخالفت نہ ہو وہ بھی مقبول ہوگی کہ صحاح میں تائید نہ سہی خلاف بھی تو نہیں بخلاف افضلیت کے کہ اس کے معنی ایك کو دوسرے سے عندالله   بہتر وافضل ماننا ہے یہ جب ہی جائز ہوگا کہ ہمیں خدا ورسول جل جلالہ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ارشاد سے خوب ثابت ومحقق ہوجائے ، ورنہ بے ثبوت حکم لگادینے میں محتمل کہ عندالله   امر بالعکس ہوتو افضل کو مفضول بنایا ، یہ تصریح تنقیص شان ہے اور وہ حرام تو مفسدہ تحلیل حرام وتضیع حق غیر دونوں درپیش کہ افضل کہنا حق اس کا تھا اور کہہ دیا اس کو۔ یہ اس صورت میں تھا کہ دلائل شرعیہ سے ایك کی افضلیت معلوم نہ ہو۔ پھر وہاں  کا تو کہنا ہی کیا ہے ، جہاں عقائدِ حقّہ میں ایك جانب کی تفصیلی محقق ہو اور اس کے خلاف احادیث مقام وضعاف سے استناد کیا جائے ، جس طرح آج کل کے جہال حضرات شیخین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپر تفضیل حضرت مولا علی کرم الله   تعالٰی وجہہ الکریم میں کرتے ہیں ۔ یہ تصریح مضادتِ شریعت ومعاندتِ سنّت ہے۔ ولہذا ائمہ دین نے تفضیلیہ کو روافض سے شمار کیا کمابیناہ فی کتابنا المبارك مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین۱۳۹۷ھ (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی مبارك کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ میں بیان کیا ہے۔ ت) بلکہ انصافًا اگر تفضیل شیخین کے خلاف کوئی حدیث صحیح بھی آئے قطعًا واجب التاویل ہے اور اگر بفرضِ باطل صالح تاویل نہ ہو واجب الرد کہ تفضیل شیخین متواتر واجماعی ہے کمااثبتنا علیہ عرش التحقیق فی کتابنا المذکور (جیسا کہ ہم نے اپنی اس مذکورہ کتاب میں اس مسئلہ کی خوب تحقیق کی ہے۔ ت) اور متواتر واجماع کے مقابل اعاد ہرگز نہ سُنے جائیں گے ولہذا امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں زیر حدیث عرض علی عمر بن الخطاب وعلیہ قمیص یجرّہ قالوا فمااولت ذلك یارسول الله   (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) قال الذین (مجھ پر عمر بن الخطاب کو پیش کیا گیا اور وہ اپنی قمیص گھسیٹ کر چل رہے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا یارسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمآپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ فرمایا دین۔ ت) فرماتے ہیں :

لئن سلّمنا التخصیص بہ (ای بالفاروق رضی الله  تعالٰی عنہ) فھو معارض بالاحادیث الکثیرۃ البالغۃ درجۃ التواتر المعنوی الدالۃ علی افضلیۃ الصدیق رضی الله  تعالٰی عنہ فلاتعارضھا الاحاد ، ولئن سلمنا التساوی بین الدلیلین لکن اجماع اھل السنۃ والجماعۃ علی افضلیتہ وھو قطعی فلایعارضہ ظنی[1]۔                                                 

اگر ہم یہ تخصیص ان (یعنی فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کے ساتھ مان لیں تو یہ ان اکثر احادیث کے منافی ہے جو تواتر معنوی کے درجہ پر ہیں اور افضلیت صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر دال ہیں اور احاد کا ان کے ساتھ تعارض ممکن ہی نہیں اور اگر ہم ان دونوں دلیلوں کے درمیان مساوات مان لیں لیکن اجماعِ اہلسنت وجماعت افضلیت صدیق اکبر پر دال ہے اور وہ قطعی ہے ، تو ظن اس کا معارض کیسے ہوسکتا ہے! (ت)

الجملہ مسئلہ افضلیت ہرگز باب فضائل سے نہیں جس میں ضعاف سن سکیں بلکہ موافقت وشرح مواقف میں تو تصریح کی کہ بابِ عقائد سے ہے اور اس میں احاد صحاح بھی نامسموع ،

حیث قال لیست ھذہ المسألۃ یتعلق بھا عمل فیلتفی فیھا بالظن الذی ھوکاف فی الاحکام العلمیۃ بل ھی مسألۃ علمیۃ یطلب فیھا الیقین [2]۔

ان دونوں نے کہا کہ یہ مسئلہ عمل سے متعلق نہیں کہ اس میں دلیل ظنی کافی ہوجائے جو احکام میں کافی ہوتی ہے بلکہ یہ معاملہ تو عقائد میں سے ہے اس کے لئے دلیل قطعی کا ہونا ضروری ہے۔ (ت)

فائدہ ۲ : مہمہ عظیمہ (مشاجرات صحابہ میں تواریخ وسیر کی موحش حکایتیں قطعًا مردود ہیں ) افادہ ۲۳ پر نظر تازہ کیجئے وہاں واضح ہوچکا ہے کہ کتبِ سیر میں کیسے کیسے مجروحوں میں مطعونوں شدید الضعفوں کی روایات بھری ہیں وہیں کلبی رافضی متہم بالکذب کی نسبت سیرت عیون الاثر کا قول گزرا کہ اُس کی غالب روایات سیر وتواریخ ہیں جنہیں علما ایسوں سے روایت کرلیتے ہیں وہیں سیرت انسان العیون کا ارشاد گزرا کہ سیر موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف وسقیم وبے سند حکایات کو جمع کرتی ہے پھر انصافًا یہ بھی انہوں نے سیر کا منصب بتایا جو اُسے لائق ہے کہ موضوعات تو اصلًا کسی کام کے نہیں اُنہیں وہ بھی نہیں لے سکتے ورنہ بنظر واقع سیر میں بہت اکاذیب واباطیل بھرے ہیں کمالایخفی بہرحال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بدمذہبی ہے بد مذہبی نہیں تو جنون ہے ، سیر جن بالائی باتوں کے لئے ہے اُس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے اُس کی روایات مذکورہ کسی حیض ونفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذالله   اُن واہیات ومعضلات وبے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلٰی آلہٖ وعلیہم افضل الصّلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا اعتراض نکالنا اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر گمراہ بددین مخالف ومضاد حق تبیین آج کل کے بدمذہب مریض القلب منافق شعار ان جزافات سیروخرافات تواریخ وامثالہا سے حضرات عالیہ خلفائے راشدین وام المومنین وطلحہ وزبیر ومعاویہ وعمروبن العاص ومغیرہ بن شعبہ وغیرہم اہلبیت وصحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش ومہل حکایات بیہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب وواحض اور بہت الحاقات ملعونہ روافض چھانٹ لاتے اور اُن سے قرآن عظیم وارشاداتِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمواجماعِ اُمّت واساطین ملّت کا مقاببلہ چاہتے ہیں بے علم لوگ اُنہیں سُن کر پریشان ہوتے یا فکر جواب میں پڑتے ہیں اُن کا پہلا جواب یہی ہے کہ ایسے مہملات کسی ادنٰی مسلمان کو گنہگار ٹھہرانے کیلئے مسموع نہیں ہوسکتے نہ کہ اُن محبوبانِ خدا پر طعن جن کے مدائح تفصیلی خواہ اجمالی سے کلام الله   وکلام رسول الله   مالامال ہیں جل جلالہ ، وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم، امام حجۃ الاسلام مرشد الانام محمدمحمد محمد غزالی قدسہ سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :

لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیا فان ذلك یثت متواترا [3]۔

کسی مسلمان کو کسی کبیرہ کی طرف بے تحقیق نسبت کرنا حرام ہے ، ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الآخرین نے امیرالمومنین مولٰی علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو شہید کیا کہ یہ بتواتر ثابت ہے۔ (ت)

حاش لله  اگر مورخین وامثالہم کی ایسے حکایات ادنٰی قابلِ التفات ہوں تو اہل بیت وصحابہ درکنار خود حضرات عالیہ انبیاء ومرسلین وملٰئکم مقربین صلوات الله   تعالٰی وسلامہ علیہم اجمعین سے ہاتھ دھوبیٹھا ہے کہ ان مہملات مخذولہ نے حضرات سعادتنا ومولٰنا آدم صفی الله   وداؤد خلیفۃ الله   وسلیمان نبی الله   ویوسف رسول الله   سے سیدالمرسلین محمد حبیب الله   صلی الله   تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم تك سب کے بارہ میں وہ وہ ناپاك بیہودہ حکایات موحشہ نقل کی ہیں کہ اگر اپنے ظاہر پر تسلیم کی جائیں تو معاذالله   اصل ایمان کو رد بیٹھنا ہے ان ہولناك اباطیل کے بعض تفصیل مع رد جلیل کتاب مستطاب شفا شریف امام قاضی عیاض اور اس کی شروح وغیرہا سے ظاہر لاجرم ائمہ ملّت وناصحانِ اُمت نے تصریحیں فرمادیں کہ ان جہال وضلال کے مہملات اور سیر وتواریخ کی حکایت پر ہرگز کان نہ رکھا جائے شفا وشروح شفا ومواہب وشرح مواہب ومدارج شیخ محقق وغیرہا میں بالاتفاق فرمایا ، جسے میں صرف مدارج النبوۃ سے نقل کروں کہ عبارت فارسی ترجمہ سے غنی اور کلمات ائمہ مذکورین کا خود ترجمہ ہے فرماتے ہیں رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ:

ازجملہ توقیر وبرآنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتوقیر اصحاب وبرایشاں است وحسن ثنا ورعایت ادب بایشاں ودُعا واستغفار مرایشاں راوحق است مرکسے راکہ ثنا کردہ حق تعالٰی بروے وراضی ست ازوے کہ ثنا کردہ شوبروے وسب وطعن ایشاں اگر مخالف اولہ قطعیہ است ، کفر والا بدعت وفسق ، وہمچنیں امساك وکف نفس ازذکر اختلاف ومنازعات ووقائع کہ میان ایشاں شدہ وگزشتہ است واعراض واضراب ازاخبار مورخین وجہلہ رواۃ وضلال شیعہ وغلاۃ ایشاں ومبتدعین کہ ذکر قوادح وزلالت ایشاں کنند کہ اکثر آں کذب وافتراست وطلب کردن درآنچہ نقل کردہ شدہ است ازایشاں ازمشاجرات ومحاربات باحسن تاویلات واصوب خارج وعدم ذکر ہیچ یکے ازیشاں بہ بدی وعیب بلکہ



[1]   ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب تفاضل اہل ایمان فی الاعمال مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۱ / ۱۰۶

[2]   شرح مواقف المرصد الرابع ازموقف سادس فی السمعیات مطبوعہ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۸ / ۳۷۲

[3]   احیاء علوم الدین کتاب آفات اللسان  الآفۃ الثامنۃ : اللعن مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۳ / ۱۲۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن