30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے پر آمادہ بہتر ہوتا تو وہی کر گزرتے فعل میں اتباع ہے ترك میں کیوں نہیں کرتے نیم شوخی میں سارے بکھرگئی صحابہ وتابعین نے ہزار نہ کیا ہو بلکہ اُس جنس کا بھی کوئی کار نہ کیا ہو کچھ ضرر نہیں اشارۃً دلالۃً جزئیہ کسی طرح ارشاد شارع سے جواز نکلے پھر سنّت ماننے سے مضر نہیں ؎
طائفہ بھر کے خلاف آپ سبق کہتے ہیں لله الحمد اسے ہیبت حق کہتے ہیں
طرفہ یہ کہ اب قرونِ ثلٰثہ کی وہ ہٹ نئے طائفہ کی پُرانی رٹ جسے یہاں بھی نباہ رہے ہو مہمل رہ گئی لفظ کا سوار پکڑا کیجئے ، معنی کی نیا اُس پار بہہ گئی جب اُن میں وجود سے سود نہ عدم سے زیاں پھر اُن کا قدم کیا درمیاں ۔ خود کہتے ہوکہ وجود خارجی درکار نہیں اور وجود شرعی بے ارشاد شارع محال تو کیا صحابہ تابعین پر کوئی نئی شریعت اُترے گی کہ اُن کے قرون میں وجود نو کا خیال ارشاد شارع سے جس کا جواز مستفادہ وہ ہر قرن میں بوجود شرعی موجود اور جس کا منع مقتضائے ارشاد وہ ہر قرن میں شرع مطہر سے معدوم ومفتود ، پھر قرن دون قرن سے کیا کام رہا ، محض ارشاد اقدس میں کلام رہا یعنی فعل کبھی حادث ہوا ہو قواعد شرعیہ پر عرض کریں گے اباحت سے وجوب یا ترك اولٰی سے حرمت تك جس اصل میں داخل ہو وہی فرض کریں گے یہی خاص مذہب مہذب اربابِ حق ہے ، صاف نہ کہہ دو شرم نباہنے کو اگلی رٹ کا ناحق سبق ہے تم سمجھنا کہ اب تو جو کہنی تھی کہہ گئے ہم جانیں گے تم جہنم کے ایسے ہی تھے چلو ؎
نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے
پسینہ پُونچھیی اپنی جبیں سے
طرفہ تر یہ کہ جس کا جواز دلیل شرع میں موجود وہ سب سنّت ، جس کا معدوم وہ سب بدعت ضلالت ، اب تیسری شق کی کون سی صورت ، تمام افعال انہیں دو۲ حکموں میں محصور ہوگئے خصوصًا اباحت واستحباب وکراہت تنزیہ عــــہ تین حکم شرع کو کافور ہوگئے ، اساتذہ جہابذہ نے سُجھائی تو اچھی کہ دونی اُلجھ گئی سلجھائی لچھی اسی ہستی پر یہ ناز وغرور کہ لوگ تو اس کی ہوا سے دُور ، حضرت یہ اپنی ہوا خود آپ ہی سُونگھیں ، اہلِ حق کو معاف ہی رکھیں ، اچھی تعلیم بھلے تلامذہ رہے تلقین خہے اساتذہ ؎
گرہمیں مکتب وھمیں مُلّا
کارطفلاں تمام خواہد شد
خیریہ تو وہابیہ جدیدہ کا نامعتقد عقیدہ کہ تقبیل ابہامین سنّتِ مجیدہ ، پُرانوں کی سُنیے تو وہ اور ہی ہوا پر کہ یہ فعل معاذالله زنا وربا وقذف محصنہ وقتل ناحق نفس مومنہ سب سے بدتر بلکہ عیاذًا بالله شرك کے انداز اصل ایمان میں خلل انداز کہ آکر باجماعِ طائفہ بدعت حائضہ اور تقویۃ الایمان کا یہ عقیدہ فوائقہ شرك وبدعت سے بہت بچے کہ یہ دونوں چیزیں اصل ایمان میں خلل ڈالتی ہیں اور باقی گناہ ان سے نیچے ہیں کہ وہ اعمال میں خلل ڈالتے ہیں ۔ اب خدا جانے اُنہوں نے سنت کو کفر سے ملایا انہوں نے قریب بہ کفر کو سنّت بنایا خیر طویلے کے لتیاؤ میں ہمیں کیا مقال ،
کفی الله اھل الحق القتال والحمدلله المھیمن المتعال والصلاۃ والسلام علٰی ذی الافضال واٰلہ وصحبہ خیر صحب وآل آمین۔
اہل حق کی طرف سے قتال میں الله کافی ہے اور تمام تعریف اس باری تعالٰی کے لئے جو محافظ وبلند ہے اور صلوۃ وسلام اس ذات پر جو صاحبِ فضل واکرام ہے اور آپ کی آل پر اور اصحاب پر جو بہترین ہیں آمین۔ (ت)
عــــہ : ظاہر ہے کہ ضلالت کا ادنٰی درجہ کراہت تحریم ہے مکروہ تنزیہی ہرگز ضلالت نہیں ، دلیل واضح یہ کہ ہر ضلالت میں باس ہے اور مکروہ تنزیہی لاباس بہ ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
حکم اخیر وخلاصہ تحریر بالجملہ حق اس میں اس قدر کہ فعل مذکور بحکم احادیث وبہ تصریح کتب فقہیہ مستحب ومندوب وامید گاہ فضل مطلوب وثواب مرغوب جو کتب علما وعمل قدما وترغیب وارد پر نظر رکھ کر اُسے عمل میں لائے اُس پر ہرگز کچھ مواخذہ نہیں بلکہ ثواب مروی کی اُمید وارحسن ظن وصدق نیت باعث فضل جاوید اور جو اُسکے مکروہ وممنوع وبدعت بتائے مبطل وخاطی علمائے کرام مقتدایان عام جب کسی منکر کو دیکھیں اُس کے سامنے ضرور ہی کریں کہ بد مذہب کا رد اور اُس کے دل پر غیظ اشد ہو جس طرح ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو نہر سے افضل مگر معتزلی عــــہ۱ منکر حوض کے سامنے حوض سے بہتر [1] کمابینہ المولی المحقق فی فتح القدیر وغیرہ فی غیرہ عــــہ۲ جب ترك افضل اس نیت سے افضل تو مستحب ومندوب تو آپ ہی افضل ،
والحمدلله ولی الانعام وافضل الصلاۃ واکمل السلام علٰی سیدالختام قمر التمام واٰلہ وصحبہ الغر الکرام اٰمین۔
تمام تعریف الله کے لئے جو انعام کا مالك ہے اور افضل صلاۃ اور اکمل سلام ہو انبیاء کے خاتم وسربراہ پر ، جو چودھویں کا کامل چاند ہیں ، اور آپ کی آل واصحاب پر ، جو نہایت ہی روشن اور مکرم ہیں آمین!
خاتمہ فوائد منثورہ : میں ایہا المسلمون اس مسئلہ کا سوال فقیر کے پاس بلادِ نزدیك ودُور سے باربار آیا ہر دفعہ بمقتضائے حال کبھی مختصر کبھی کچھ مطول کبھی دو ایك صفحہ کبھی دوچار ہی سطر جواب لکھتا رہا بار آخر قدرے زیادہ تفصیل کی کہ ایك جز تك پہنچ کر صورت رسالہ میں جلوہ گر ہُوئی سائل نے علمائے اعلام بدایوں وبریلی ورامپور وقین عن الشروع وبقین بالسرور (جو شر سے دُور سرور سے معمور رہتے ہیں ۔ ت) سے مُہریں کرائیں تصدیقیں لکھائیں اصل رسالہ منیرالعین اُسی قدر تھا کہ بفرمائش سید معظم مولانا مولوی غلام حسین صاحب جُونا گڈھی نزیل بمبئی حفظہ الله عن شرکل بشرو رئی (الله تعالٰی انہیں ہر بشر اور نظرِ بد کے شر سے محفوظ رکھے۔ ت)واہتمام تمام نام مولانا المکرم مولوی محمد عمرالدین صاحب ہزاروی جعلہ الله کاسمہ عمرالدین وعمر بہ عمران الدین المتین (الله تعالٰی انہیں ان کو نام کی طرح دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ان کے ذریعے اپنے دین متین کو آباد فرمائے۔ ت) وعلو ہمت سیٹھ حاجی محمد بن حاجی محمد عبداللطیف لطف بھما المولی اللطیف (لطف فرمانے والا مولٰی ان دونوں پر لطف فرمائے۔ ت) ماہ مبارك اشرف وافضل شہرر ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں چھپنا آغاز ہُوا سرکار مفیض سے مضامین کثیرہ کا القا وافادہ دلنواز ہُوا اور اُدھر کاپی کی تیاری اِدھر تصنیف جاری ، جو جز لکھا روانہ کیا یہاں تك کہ ایك جز کا رسالہ دس جز تك پہنچا الحمدلله مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-[2] (تمام تعریف الله کے لئے جو ایك نیکی پر دس اجر عطا فرماتا ہے۔ ت) جس میں رسالہ عربیہ مدارج طبقات الحدیث جُدا کرلیا اُدھر یہ تعجیل اِدھر ورود فتاوٰی سے فرصت قلیل ، نظر ثانی کی بھی فرصت نہ ملی ، بعض فوائد حاضرہ کی تجرید رہ گئی ، بعض نے نظر یا خاطر میں وقعت غابر میں تجلی کی ہنوز کہ سیارہ طبع بذریعہ حرکت بمعنی القطع مبدء کا تارك منتہی کا طالب ہے نہ الحاق باقی مواقع ماضیہ سے متیسر نہ اُس کا ترك ہی مناسب ہے اور ائمہ تصنیف کا داب شریف کہ آخر کتاب میں کچھ مسائل تازہ کچھ متعلق بابواب سابقہ تحریر اور انہیں مسائل شتی یا مسائل منثورہ سے تعبیر فرماتے ہیں لہذا اقتضاءً بہم یہ فوائد منثورہ بعونہٖ تعالٰی سلك تحریر میں انتظام پاتے ہیں ۔
عــــہ۱ : یہ لفظ یہاں عجب لطیف واقع ہوا کہ معتزلہ حوض سے وضو ناجائز بتاتے ہیں یہاں یہی معنی مراد اور وہ اشقیا حوضِ کوثر کے بھی منکر ہیں ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : کلد روحواشیہ وآخرین کلہم فی المیاہ ۱۲ منہ (م)
فائدہ ۱ : نفیسہ جلیلہ (فضیلت وافضلیت میں فرق ہے دربارہ تفضیل حدیث ضعیف ہرگز مقبول نہیں ) فضیلت وافضلیت میں زمین آسمان کا فرق ہے وہ اسی باب سے ہے جس میں ضعاف بالاتفاق قابلِ قبول اور یہاں بالاجماع مردود ونامقبول۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع