30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(اگر دُور کرنے تو دُور نہ ہوگا اور اگر چلاجائے تو واپس آجائے گا نجدی کے کلام سے تناقض جدا نہیں رہ سکتا)طائفہ جدید کے استاد رشید نے اپنی کتاب عجاب براہین قاطعہ “ ماامرالله بہ ان یوصل “ میں مسئلہ قبول ضعاف فیما دون الاحکام کے اگرچہ بکمال سلیم القلبی وبصیر العینی وعجیب وغریب معنے تراشے کہ جدت کی لہریں ، حدث کے تماشے ایك ایك ادا پر ہزارہزار مکابرے ، اپنی جانیں واریں عقل وہوش وچشم وگوش اپنے عدم ملکہ کو صدقے اتاریں خادمانِ شریعت چاکر اِن ملّت مالم تسمعوا انتم ولااٰباؤکم (جو تم نے اور تمہارے آبا و اجداد نے کبھی نہیں سُنیں ۔ ت)
پکاریں حضرت کی تمام سعی باطل تطویل لاطائل کا یہ حاصل بے حاصل کہ ارشادات عــــہ۱ علماء کی یہ مراد کہ صرف۱ وہ حدیث ضعیف قابل قبول جس میں کسی عمل صالح کی فضیلت اور اس پر ثواب مذکور اگرچہ خاص اس عمل میں حدیث صحیح نہ آئی ہو جیسے روزہ ماہِ رجب وغیرہ اس کے بغیر اگرچہ حدیث میں عمل کی طلب نکلے جب کوئی خاص ثواب وفضیلت مذکور نہ ہو مقبول نہیں کہ یہ تو حدیث۲ عمل کی ہوئی نہ فضائل عمل کی پھر بشرط عــــہ۲ مذکور حدیث اگرچہ مقبول ہوگی مگر وہ عمل۳ باوصف قبول حدیث وتسلیم فضیلت مستحب ہرگز نہ ٹھہرے گا جب تك حدیث حسن لغیرہ نہ ہوجائے ، حدیث۴ ضعیف سے ثبوتِ استحباب محض اختراع وخلافِ اجماع ہے علما نے جتنے ۵ اعمال کو بہ نظرِ ورود احادیث مستحب مانا اُن سب میں حدیث حسن لغیرہ ہوگئی ہے دلیل۶ یہ کہ احادیث ادعیہ وضو کو علامہ طحطاوی نے کہہ دیا کہ حسن لغیرہ ہیں ۔ بس معلوم ہوگیا کہ سب جگہ ایسے ہی ہیں آخر دیگ میں ایك ہی چاول دیکھتے ہیں یہ تو ان کا حکم تھا جو حدیثیں افعال
عــــہ۱ : اقوال قبول ضعیف کو کہا سب کا یہی (ص ۹۶) مدعا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف پر عمل درست ہے بھلا لیلۃ الجمعہ شب برأت ، عیدین کے صدقہ میں کون سی فضیلت وثوابِ عظیم مذکور ہے جس پر عمل جائز ہو روایات میں کوئی ثواب مذکور نہیں فقط روح کا آنا اور حسرتناك بات کرنا اور طلب صدقہ کرنا ہے یہ فضائل اعمال کس طرح ہوئے ، ہاں اعلام اُن کے آنے کا ہے یہ باب (ص ۹۹)علم کا ہے نہ فضل عمل کا کیونکہ ان روایات(ص ۹۷) میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے اور اگر کوئی بپاس خاطر مؤلف عمل تسلیم بھی کرلے تو فقط عمل ہے نہ فضل عمل ہاں حدیث صومِ رجب وصلاۃ الاوابین میں فضل عمل ہے ص۹۷ اھ ملتقطا ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : انوار ساطعہ میں تھا فقہاء اس عمل کو جو حدیث ضعیف سے ثابت ہو مستحسن لکھتے ہیں چنانچہ صلاۃ الاوابین ، گردن کا مسح ، رجب کا روزہ اس پر کہا یہ سرتاپا غلط ہے کسی نے یہ نہ کہا محض ایجاد ناصواب ہے مستحب کا ثبوت صحیح یا حسن سے ہوتا ہے ضعاف کہ ان امور میں ہیں تعدد طرق سے حسن لغیرہ ہوگئے ہیں ۔
قال فی الدرالمختار رواہ ابن حبان وغیرہ من طرق ، فی ردالمحتار فارتقی الی مرتبۃ الحسن ط اقول لکن ھذا اذاکان ضعفہ لسوء ضبط الراوی الصدوق الامین اولا رسالہ اوتدلیس اوجھالۃ الحال اما لوکان لفسق الراوی اوکذبہ فلاانتھٰی[1]۔ ملتقتًا
درمختار میں کہا اس کو ابن حبان وغیرہ نے کئی طریقوں سے روایت کیا ہے ، ردالمحتار میں ہے اس طرح حدیث مرتبہ حسن تك ترقی کرتی ہے طحطاوی۔ اقول لیکن یہ اس وقت ہے جب حدیث کا ضعف صدوق میں راوی کے سوءِ ضبط یا ارسال یا تدلس یا جہات حال کی وجہ سے ہو۔ اگر وہ ضعف فسق راوی یا کذب راوی کی وجہ سے ہوتو وہ ترقی نہ کرے گی انتہی۔ (ت)
پس جس قدر نظائر مؤلف نے لکھے اور جس قدر کتبِ فقہ میں ہیں سب حسن لغیرہ سے ثابت ہوئے ہیں ۱۲ منہ (م)
متعلقہ بجوارح میں آئیں اور ۷ جو کچھ متعلق بجوارح نہیں وہ اگرچہ سِیر۸ ہوں خواہ مواعظ۹ معجزات خواہ فضائل صحابہ۱۰ واہلبیت وسائر رجال جن میں قبول ضعاف کی علماء برابر تصریحیں فرماتے چلے آئے ہیں خواہ کسی اور خبر زائد کا بیان جس میں کسی طرح کا اعلام واخبار ہو اگرچہ وہ نفیا واثباتًا عقائد میں اصلًا داخل نہ ہو یہ سب کا سب باب عقاید سے ہے جس میں ضعاف درکنار بخاری ومسلم کی صحیح حدیثیں بھی مردود ہیں جب تك متواتر وقطعی الدلالۃ نہ ہوں مثلًا یہ حدیث کی رُوحیں شبِ جمعہ اپنے مکانوں پر آتی اور صدقات چاہتی ہیں باب عــــہ عقائد سے ہے اور بنظر طلب صدقہ اگر ہوتو بابِ عمل سے کہ یہاں کوئی فضیلت صدقہ تو مذکور نہ ہُوئی خلاصہ یہ کہ جو متعلق بجوارح نہیں اُس میں صحاح احاد بھی بے اعتبار اور متعلق بجوارح بے ذکر ثواب مخصوص میں خاص صحاح درکار ، ہاں ثواب بھی مذکور ہوتو ضعاف قبول اور یہی مراد علما مگر مستحب نہ ٹھہرے گا جب تك حسن لغیرہ نہ ہو شروع صفحہ۸۱ سے وسط صفحہ ۸۹ تك ان محدث نے یہی قاعدہ حادثہ احداث کیا ہے ان خرافاتِ بے سروپا کے ابطال میں کیا وقت ضائع کیجئے جس نے افادات سابقہ میں ہمارے کلمات رائقہ دیکھے وہ اس تاروپود عنکبوت کو بعونہٖ تعالٰی نیم جنبش نظر میں تار تارکرسکتا ہے معہذا ہم نے یہاں بھی تلخیص تقریر میں اس کے اجمالی ابطال کی طرف اشارے کیی اور مواقع مواخذات پر ہند سے لگادیی خیریہ تو اُن کا نہیں اُن کی سمجھ کا قصور ہے جب خدا فہم نہ دے بندہ مجبور ہے مگر ہمیں یہاں یہ کہنا ہے کہ تقبیل ابہامین کی سنیت ثابت ہوگئی کہ اگر بہ نظر تعدد طرق اس کی حدیث کو حسن لغیرہ کہئے فبہا ورنہ یہ تو آپ کی تفسیر پر بھی بابِ فضائل سے ہے کہ متعلق بعمل جوارح بھی اور اس میں ثواب خاص بھی مذکور تو احادیث مفید استحباب نہ سہی جواز تو ضرور ثابت کریں گے قبول ضعاف فی الفضائل کا اجماعی مسئلہ یہاں تو آپ کو بھی جاری ماننا ہوگا اب اس جواز کو خواہ اس حدیث سے مستفاد مانیے کہ جو حدیث جس باب میں مقبول لاجرم وہ اس میں دلیل شرعی ہے خواہ اجماعِ علماء سے کہ ایسی جگہ ایسی حدیث معمول بہ خواہ قرآنِ عظیم وحدیث صحیح “ کیف وقدقیل “ وحدیث صحیح ارتقائے شبہات واحادیث مذکورہ افادہ ۱۸ وغیرہا سے کہ قبول وعمل کی طرف ہدایت فرماتے ہیں خواہ قاعدہ مسلمہ شریعتِ محمدیہ علٰی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ یعنی اخذ بالاحتیاط سے ہر طرح ایك دلیل شرعی اُس پر قائم اور آپ کے نزدیك جس فعل کے جواز پر کوئی دلیل شرعی صراحۃً دلالۃً کسی طرح دال ہو اگرچہ وہ فعل خاص بلکہ اُس کے جنس کا بھی کوئی فعل قردنِ ثلاثہ میں نہ پایا گیا ہو سب سنّت ہے تو اب اس کی سنیت میں کیا کلام رہا۔ اسی براہین کے صفحہ ۲۸ و ۲۹ پر ارشاد ہوتا ہے :
عــــہ : شبِ جمعہ وغیرہ ارواح کے آنے اور صدقہ چاہنے کی احادیث کو کہا ان روایات ص۹۷ میں عمل ہی نہیں بلکہ علم ہے عقیدہ کے باب میں یہ حدیث ہے یہ مسئلہ ص۹۶ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے ، یہ اعتقادیات میں داخل ہے کہ ارواح کا شبِ جمعہ کو گھر آنا اعتقاد کرے اور اعتقاد میں قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنیاتِ صحاح کا [2] اھ بالالتقاط ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
“ مؤلف اپنی خوبی فہم سے معنی قرون ثلٰثہ میں نہ موجود ہونے کے یہ سمجھ رہا ہے کہ اگر جزئی خاص نے اُن قرون میں وجود خارجی نہ پایا اگرچہ دلیل جواز کی موجود ہوتو وہ بدعت سیہ ہے مگر یہ بالکل غلط فاحش اور کور علمی اور کج فہمی ہے بلکہ معنے یہ ہیں کہ جو شے بوجود شرعی قرون ثلٰثہ میں موجود ہو وہ سنت ہے اور جو بوجود شرعی موجود نہ ہو وہ بدعت ہے ، وجودِ شرعی اس کو کہتے ہیں کہ بدون شارع کے بتلانے کے معلوم نہ ہوسکے پس اس شے کا وجود شارع کے ارشاد پر موقوف ہوا خواہ صراحۃً ارشاد ہو یا اشارۃً ودلالۃً پس جب کسی نوعِ ارشاد سے حکمِ جواز کا ہوگیا وہ شے وجود شرعی میں آگئی اگرچہ اس کی جنس بھی خارج میں نہ آئی ہو پس جس کے جواز کا حکم کلیۃ ہوگیا وہ بجمیع جزئیات شرع میں موجود ہوگیا اور جس کے عدمِ جواز کا حکم ہوگیا تو شرع میں اس کا عدم ثابت ہوگیا پس یہ حاصل ہوا کہ جس کے جواز کی دلیل قرونِ ثلٰثہ میں ہو خواہ وہ جزئیہ بوجود خارجی اُن قرون میں ہُوا یا نہ ہوا اور خواہ اس کی جنس کا وجود خارج میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو وہ سب سنت ہے اور وہ بوجود شرعی ان قرون میں موجود ہے اور جس کے جواز کی دلیل نہیں تو کواہ وہ ان قرون میں بوجود خارجی ہوا یا نہ ہوا وہ سب بدعت ضلالہ ہے اس قاعدہ کو خُوب سمجھ لینا ضرور ہے مولف اور اس کے اشیاع نے اُس کی ہوا بھی نہ سُونگھی اس عاجز کو اپنے اساتذہ جہاندیدہ کی توجہ سے حاصل ہوا ہے اس جوہر کو اس کتاب میں ضرورۃً رکھتا ہوں کہ موافقین کو نفع اور مخالفین کو شاہد ہدایت ہو [3] الخ ملخصًا۔ “
اقول : ماشاء الله کیا چمکتا جوہر کتاب میں رکھا ہے کہ آدھی وہابیت اپنا جوہر کر گئی ، نجدیت بیچاری کے دو۲ رکن ہیں شرك وبدعت ، رکن پسین پر قیامت گزرگئی ، کبرائے طائفہ کی برسوں کی مالا جسے جپتی بیتی جس کا لقب بحمدالله اب آپ ہی کی زبان سے غلط وفاحش وکور علمی وکج فہمی کہ فلاں فعل صحابہ نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا تابعین نے نہ کیا فلاں صدی میں شائع ہوا فلاں شخص بانی تھا تم کیا صحابہ وتابعین سے بھی محبت وتعظیم میں زیادہ کہ انہوں نے نہ کیا تم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع