دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

راجع الحلیۃ شرح المنیۃ للامام ابن امیرالحاج تجد مایرشدك الی الحق بسراج وھاج فی لیل داج۔

امام ابن امیرالحاج کی کتاب حلیہ شرح منیہ کا مطالعہ کرو اس میں تُو اندھیری رات میں روشن چراغ کے ساتھ حق کو پالے گا۔ (ت)

(۵) سب سے طرفہ تر یہ کہ حدیث مسلسل بالاضافۃ کہ شاہ ولی الله   صاحب نے اس کی اجازت مع ضیافت آب وخرما اپنے شیخ علامہ ابوطاہر مدنی سے لی اور اسی طرح مع ضیافت اپنے صاحبزادہ مولانا شاہ عبدالعزیز اور انہوں نے اپنے نواسے میاں اسحاق صاحب کو دی اُس کا مدار عبدالله   بن میمون قداح متروك پر ہونے کے علاوہ خود الفاظِ متن ہی سخت منکر واقع ہوئے ہیں بااینہمہ اکابر محدثین کرام آج تك اس سے برکت تسلسل چاہا کئے ہیں ان کے اسماءِ کرام سلسلہ سند سے ظاہر شیخ شیخانی الحدیث مولانا عابد سندی مدنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ اپنے ثبت حصر الشارو میں اُسے ذکر کرکے فرماتے ہیں :

ھذا بماتفردبہ عبدالله  بن میمون القداح وصرح غیر واحد بانہ متھم بالکذب والوضع قال السخاوی لایباح ذکرہ الامع ذکر وضعہ لکن المحدثین مع کثرۃ کلامھم فیہ ورمبالغتھم فیہ ورمیہ بالوضع لایزالون یذکرونہ یتبرکون بالتسلسل [1] اھ                                        

یہ حدیث صرف بروایت قداح آئی اور متعدد ائمہ نے اُس کے متہم بکذب ووضع ہونے کی تصریح فرمائی ، امام سخاوی فرماتے ہیں اُس کا ذکر بے بیان موضوعیت روا نہیں مگر محدثین کثرت سے کلام اور مبالغہ آرائی کرتے رہے اور اُس پر وضع حدیث کا طعن کرتے رہے پھر بھی ہمیشہ اس حدیث کو ذکر کرتے اس سے مسلسل برکت چاہتے رہے ہیں ۔ اھ (ت)

اقول : یہ حدیث ہمیں اپنے مشائخ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے دو۲ طریق سے پہنچی ، اول بطریق شیخ محقق مولانا عبدالحق محدّث دہلوی :

بسندہ الی الامام ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد ابن الجزری بسندہ الی ابی الحسن الصقلی بطریقۃ الی القداح عن الامام جعفر الصادق عن آبائہ الکرام عن امیرالمؤمنین علی کرم الله  تعالٰی وجوھھم عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم۔

اپنی سند سے امام ابوالخیر شمس الدین ابن جزری تك وہ اپنی سند سے ابوالحسن الصقلی تك وہ اپنی سند سے قداح تك امام جعفر صادق سے وہ اپنے آباءِ کرام سے وہ حضرت علی کرم الله   وجوھھم سے وہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)

دوسری بطریق شاہ ولی الله   صاحب دہلوی :

بسندہ الی ابی الحسن الی القداح الی امیرالمؤمنین عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم۔

اپنی سند سے ابوالحسن تك وہ قداح تك وہ امیرالمومنین علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمتك وہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں ۔ (ت)

قداح رجال جامع ترمذی سے ہے متروك سہی حد وضع تك منتہی نہیں متن طریق دوم میں مبالغات عظیمہ ہیں اُس پر حکمِ بطلان نہیں شاہ ولی الله   صاحب کی روایت وہی ہے اور اُسی میں ہمارا کلام مگر طریق اول میں صرف اتنا ہے کہ :

من اضاف مؤمنا فکانما اضاف آدم ومن اضاف اثنین فکانما اضاف آدم وحواء ومن اضاف ثلثۃ فکانما اضاف جبر ائیل ومیکائیل واسرافیل [2]۔

وہ شخص جس نے کسی ایك مومن کی ضیافت کی گویا اس نے آدم کی ضیافت کی اور جس نے دو۲ کی ضیافت کی اس نے آدم وحوا کی ضیافت کی جس نے تین مومنوں کی ضیافت کی گویا اس نے جبریل ، میکائیل اور اسرافیل کی مہمان نوازی کی۔ (ت)

اس میں کوئی ایسا امر نہیں کہ قلب خواہی نخواہی وضع پر شہادت دے ولہذا امام الجزری نے اسی قدر فرمایا کہ حدیث غریب لم یقع لنابھذا الاسناد [3](یہ حدیث غریب ہے ہمیں اس طور پر صرف اسی سند کے ساتھ معلوم ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ تفرد متروك مستلزم وضع نہیں ،

کمابیناہ فی الافادۃ التاسعۃ اماما اعلہ الشیخ ابومحمد محمد بن الامیر المالکی المصری المدرس بالجامع الازھر بعد ایرادہ فی ثبتہ بالمتن الثانی المذکور فیہ الاضافۃ الی تمام العشرۃ بذك الملئکۃ فی الضیافۃ وھم لایاکلون ولایشربون قال فان صح فھو خارج مخرج الفرض والتقدیر [4]  اھ کماانبأنا بہ فی جملۃ مرویانۃ شیخنا العلامۃ زین الحرم السید احمد بن زین بن دحلان المکی عن الشیخ عثمان بن حسن الدمیاطی عن مؤلفہ الشیخ الامیر المالکی ،

فاقول :  لیس باعجب مماانبأنا السید حسین بن صالح جمل اللیل المکی عن الشیخ محمد عابد السندی المدنی بسندہ المشھور الٰی صحیح مسلم بسندہ المعلوم الی ابی ھریرۃ رضی الله  تعالٰی عنہ قال قال رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ان الله  عزوجل یقوم یوم القیٰمۃ یاابن اٰدم مرضت فلم تعدنی الحدیث “ وفیہ یاابن اٰدم استطعمتك فلم تطمعنی قال یارب کیف                                                 اطعمك وانت رب العٰلمین قال اما علمت انہ استطعمك عبدی فلان فلم تطعمہ اماعلمت انك لواطعمتہ لوجدت ذلك عندی یاابن آدم استسقیتك فلم تسقنی الحدیث المعروف [5]۔

جیسا کہ ہم نے اسے نویں افادہ میں بیان کردیا ہے لیکن شیخ ابومحمدمحمد بن امیر مالکی مصری جو جامع ازہر کے مدرس بھی ہیں انہوں نے اس کو اپنے ثبت میں متن ثانی مذکور کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد جو علّت بیان کی ہے ، اس متن میں ضیافۃ میں ذکرِ ملائکہ کے ساتھ دس مومنوں تك کا اضافہ ذکر ہے حالانکہ نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتو یہ تمثیل بطور فرض وتقدیر ہے اھ جیسا کہ اس کی خبر ہمیں ان کی جملہ مرویات میں ہمارے شیخ علّامہ زین الحرم سید احمد بن زین بن دحلان مکی نے شیخ عثمان بن حسین دمیاطی سے اس کے مؤلف شیخ امیر مالکی سے دی ہے۔

فاقول : یہ اس سے کوئی زیادہ عجیب نہیں جس کی خبر ہمیں سید حسین بن صالح جمل اللیل المکی نے شیخ محمد عابد سندھی مدنی سے اپنی مشہور سند کے ساتھ دی جوکہ صحیح مسلم تك ہے وہك اپنی سند معلوم سے حضرت ابوہریرہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا الله   عزوجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابنِ آدم! میں بیمار ہواتھا تُونے میری عیادت نہ کی “ الحدیث “ اور اسی میں ہے کہ اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا

تُونے مجھے نہیں کھلایا وہ عرض کرے گا اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھلاتا حالانکہ تُو تمام جہانوں کا رب ہے ، فرمایا کیا تُو نہیں جانتا تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا اور تُونے نہیں دیاتھا کیا تُو نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھِلادیتا تو اسے آج میرے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تُونے مجھے نہیں پلایا۔ حدیث معروف ہے۔ (ت)

ثمّ اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ عمل بموضوع وعمل بمافی موضوع میں زمین آسمان کا فرق ہے کمایظھر مماقدمناہ فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین (جیسا کہ ظاہر ہے اسے ہم اکیسویں فائدے میں بیان کرآئے ہیں ۔ ت) ثانی مطلقا ممنوع نہیں ورنہ ایجاب وتحریم کی باگ مفتریان بیباك کے ہاتھ ہوجائے لاکھوں افعال مباحہ جن کے خصوص میں نصوص نہیں وضاعین ان میں سے جس کی ترغیب میں حدیث وضع کردیں حرام ہوجائے جس سے ترہیب میں گھڑلیں وہ واجب ہوجائے کہ تقدیر اول پر فعل ثانی پر ترك مستلزم موافقت موضوع ہوگا اور وہ ممنوع لطف یہ کہ اگر ترغیب وترہیب دونوں میں بنادیں تو فعل وترك دونوں کی جان پر بنادیں نہ کرتے بَن پڑے نہ چھوڑتے فاعلم وافھم انکنت تفھم (جان لے سمجھ لے اگر تُو سمجھ سکتا ہے۔ ت) اور اول میں بھی حقیقۃً مخدور نفس فعل میں نہیں بلکہ نظر امتثال واعتقاد ثبوت میں تو بفرض وضع اس نظر سے منع ہے نہ اصل فعل سے ، سفہائے وہابیہ ہمیشہ ذات وعارض میں فرق نہیں کرتے  ع

 



[1]   ثبت حصر الشارد

[2]   کنزالعمال کتاب الضیافت من قسم الافعال حدیث ۲۵۹۷۵ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۶۹

[3]   کنزالعمال بحوالہ ابن الجزری حدیث ۲۵۹۷۵ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۶۹

[4]   ثبت ابومحمد محمد بن امیر مالکی مصری

[5]   صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض مطبوعہ مطبع اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۱۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن