دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

                                               

ابنِ عدی نے کامل میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں عفیف کندی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے تخریج کی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ آیا ، میں مکہ کے کپڑے اور عطر خریدنا چاہتا تھا اس لئے عباس کے پاس آیا کیونکہ وہ تجارت کیا کرتے تھے ابھی میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور سُورج خوب روشن تھا اور آسمان پر بلند ہوچکا تھا کہ اچانك ایك نوجوان آئے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر قبلہ رُو ہوکر کھڑے ہوگئے ، تھوڑی دیر کے بعد ایك لڑکے آئے اور جوان کے دائیں طرف کھڑے ہوگئے

تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایك خاتون آئیں اور دونوں کے پیچھے کھڑی ہوگئیں ، جوان نے رکوع کیا تو لڑکے اور خاتون نے بھی رکوع کیا ، وہ جوان رکوع سے کھڑے ہوئے تو وہ دونوں بھی کھڑے ہوگئے ، جوان سجدے میں گئے تو وہ دونوں بھی سجدے میں چلے گئے۔ میں نے کہا : “ اے عباس! یہ تو کوئی بڑا معاملہ ہے “ ۔ عباس نے کہا : “ ہاں ، بڑا معاملہ ہے ، جانتے ہو یہ جوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد بن عبدالله  ہے۔ جانتے ہو یہ لڑکا کون ہے؟ یہ علی ہے میرا بھتیجا۔ جانتے ہو یہ خاتون کون ہے؟ یہ خدیجہ بنتِ خویلد ہے ، جوان کی بیوی۔ میرے اس بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے رب نے ، جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے ، اس کو اِس دین کا حکم دیا ہے ، اور ابھی ان تین کے علاوہ کسی نے اس دین سے اتفاق نہیں کیا ہے۔

اس میں ابن خثیم ہلالی ہے۔ ازدی نے کہا ہے کہ سعید ، اسد ابن عبدالله  العسری سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے بخاری نے کہا :

اس کی حدیث پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)

 عــہ ھکذا فی الاصل بخط الناسخ وکتب علیہ بعض المصححین لعلہ العنبری اقول الصحیح القسری والعسری لیس بشیئ عثرنا علیہ قط فی الانساب وھو اسد بن عبدالله بن یزید بن البجلی اخو خالد القسری بفتح القاف وسکون المھملۃ فی حدیثہ لین          

اصل کتاب میں کاتب کا لکھا ہُوا اسی طرح ہے ، بعض تصحیح کرنے والوں نے لکھا ہے کہ شاید العنبری ہو اقول : (میں کہتا ہوں ) میرے نزدیك یہ لفظ القسری ہے العسری کوئی لفظ نہیں ۔ انساب میں ہم اس پر اصلًا مطلع نہ ہوسکے ، یہ اسد بن عبدالله  بن یزید بن البجلی خالد القسری کے بھائی ہیں قاف پر زبر اور سین(باقی اگلے صفحہ پر)

اور دعوی اختصاص امت پر آیہ کریمہ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩(۲۴)[1] (اور داؤد نے گمان کیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے تو اس نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور رکوع میں گرگیا اور انابت اختیار کی۔ ت) کے ورود میں اگر تامل بھی ہو فان کثیرا منھم فسروا ھھنا الرکوع بالسجود وان قال الحسین بن الفضل ان معناہ خربعد ماکان راکعا ای سجد (کیونکہ بہت سے علماء نے یہاں رکوع سے سجود مراد لیا ہے ، اگرچہ حسین ابن فضل نے کہا ہے کہ “ گرگیا “ کا معنٰی یہ ہے کہ رکوع کے بعد گرگیا یعنی سجدے میں چلاگیا۔ ت) تو آیہ کریمہ   یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) [2] (اے مریم! عاجزی اختیار کرو اپنے رب کے رُوبرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ ت) ظاہرۃ الورود ہے۔ معالم میں ہے :

انما قدم السجود علی الرکوع لانہ کذلك کان فی شریعتھم ، وقیل :  بل کان الرکوع قبل السجود فی الشرائع کلھا ، ولیس الواو للترتیب

کہا گیا ہے کہ یہاں سجدے کا ذکر رکوع سے پہلے اس لئے ہے کہ ان کی شریعت میں اسی طرح تھا اور بعض نے کہا ہے کہ رکوع تمام شریعتوں میں سجدے سے  پہلے تھا

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

من الخامسۃ مات سنۃ مائۃ وعشرین روی عن ابیہ وعن یحیی بن عفیف وروی عنہ سعید بن خیثم وسلم بن قیتبۃ وسلیمان بن صالح سلمویہ وکان امیر اعلی خراسان جوادا ممدوحا قال البخاری یتابع فی حدیثہ کذافی التقریب وتھذیب التھذیب ۱۲ فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ                            

پر جزم ہے اس کی حدیث میں کمزوری ہے  پانچویں طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ایك سو بیس۱۲۰ ہجری میں ان کا وصال ہوا انہوں نے اپنے والد اور یحیی بن عفیف الکندی سے روایت کی ہے اور ان سے سعید بن خیثم وسلم بن قتیبہ اور سلیمان بن صالح سلمویہ نے روایت کی ہے یہ خراسان کے امیر تھے بڑے سخی اور لائقِ تعریف تھے۔ بخاری کہتے ہیں کہ ان کی حدیث میں متابعت کی گئی جیسا کہ التقریب والتہذیب میں ہے ۱۲ فقیر محمد حامد رضا قادری غفرلہ (ت)

بل للجمع[3]۔

اور واؤ ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ جمع کیلئے ہے۔ (ت)

اقول یہاں اگرچہ تاویل رکوع بخشوع ممکن مگر حدیثِ شبِ معراج :

ثم دخلت المسجد فعرفت النبیین مابین قائم و راکع وساجد[4] رواہ الحسن بن عرفۃ وابونعیم عن ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ۔

پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے نبیوں کو جاناکہ کچھ قیام میں ہیں کچھ رکوع میں اور کچھ سجود میں ۔ اس کو حسن ابن عرفہ اور ابونعیم نے ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔ (ت)

جس میں تصریح ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجب مسجدِ اقصٰی میں تشریف فرما ہُوئے انبیائے کرام علیہم الصلٰو ۃ والسلام کو ملاحظہ فرمایا کوئی قیام میں ہے کوئی رکوع میں کوئی سجود میں نص مفسر غیر قابل التاویل ہے۔

فانہ یفید التقسیم ، ولایجوز ان یکون الخشوع قسیما للقیام والسجود۔ فاندفع ماذکر العلامۃ الزرقانی ھٰھنا حیث قال تحت قولہ مابین قائم وراکع ، ای خاشع کخشوع الراکع ، فلایرد ان الرکوع من خصائص الامۃ[5]  الٰی اٰخر ماقدمنا نقلہ ورأیتنی ، کتبت علی ھامشہ ، ماحاصلہ ان فیہ مثل ماقدمنا عن الزرقانی نفسہ ان النص یحمل علی حقیقتہ الشرعیۃ مھما امکن ، وقد امکن ،  و اختصاص ھذہ الامۃ من بین الامم ، لاینفی صدور الرکوع من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام ، لاسیما بعد الوفاۃ؛ لاسیما بعد ماظھرت شریعۃ نبی الانبیاء صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلیھم وسلم ونسخت شرائعھم عن اٰخرھا۔ وقِرانہ بقیام وسجود ادلُ دلیل علی ان المراد الرکوع الشرعی۔ وکیف یحمل علی اللغوی وھو الخشوع ، مع انہ قسم بینھم القیام والرکوع والسجود ، اَفَتَری قائمھم وساجدھم غیر خاشع؟ اھ ماکتبت علیہ۔

کیونکہ یہ تقسیم کا فائدہ دیتا ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ خشوع ، قیام اور سجود کے بالمقابل ایك قسم ہو۔ اس سے مسترد ہوگئی وہ بات جو علّامہ زرقانی نے یہاں ذکر کی ہے۔ انہوں نے “ کچھ قیام میں “ “ کچھ رکوع میں “ کی شرح کرتے ہُوئے کہا ہے “ یعنی اس طرح خشوع کرنے والے جس طرح رکوع کرنے والا کرتا ہے “ اب یہ اعتراض پیدا نہیں ہوگا کہ رکوع اس امت کی خصوصیات سے ہے...... آخر تک ، جیسا کہ ہم پہلے زرقانی سے نقل کرچکے ہیں ۔ اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اس میں بھی وہی خامی ہے جو ہم زرقانی ہی سے نقل کرچکے ہیں کہ نص جہاں تك ہو سکے اپنی شرعی حقیقت پر حمل کی جائے گی ، اور (یہاں شرعی حقیقت مراد لینا) ممکن ہے۔ اور باقی امتوں میں سے اس امت کا رکوع کے ساتھ خاص ہونا ، اس بات کے منافی نہیں ہے کہ انبیاء سے رکوع کا صدور ہوتا رہا ہے ، خصوصًا ان انبیاء کے وصال کے بعد ، خصوصًا نبی الانبیاء صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ



[1]   القرآن ۳۸ / ۲۴

[2]   القرآن سورۃ آل عمران ۳ آیت ۴۳

[3]   تفسیر معالم التنزیل تفسیر سورہ آل عمران مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱۔ ۲ / ۳۴۷

[4]   شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الخامس فی المعراج والاسراء مطبوعہ مطبعۃ العامرۃ مصر۶ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن