دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

عــــہ۱ : الفصل الاول من المقصد العاشر ۱۲ منہ

(م) عــــہ۲ : الفصل الرابع من الباب الاول ۱۲ منہ (م)

دسویں مقصد کی پہلی فصل میں دیکھو۔ (ت)

باب اول کی چوتھی فصل میں دیکھو۔ (ت)

قدقالوا ان ھذا القسم ادخل فی تعظیمہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم من القسم بذاتہ وبحیاتہ کمااشار الیہ عمررضی الله  تعالٰی عنہ بقولہ بابی انت وامی یارسول الله  قدبلغت من الفضیلہ عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱)[1]۔                                                                                                                                                

مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ آپ کے شہر کی قسم ، آپ کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایا : یارسول الله   ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں آپ الله   تعالٰی کے ہاں اتنے عظیم المرتبت ہیں کہ الله   تعالٰی نے آپ کے مبارك قدموں کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا ہے : لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں ) (ت)

مواہب عــــہ میں ہے :

علی کل حال فھذا متضمن للقسم ببلد رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ولایخفٰی مافیہ من زیادۃ التعظیم وقدروی ان عمر بن الخطاب رضی الله  تعالٰی عنہ قال للنبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم بابی انت وامی یارسول الله  لقد بلغ من فضیلتك عندالله  ان اقسم بحیاتك دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتك عندہ ان اقسم بتراب قدمیك فقال لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱)[2]۔                 

ہر حال میں یہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے شہر کی قسم کو متضمن ہے اور اس قسم میں جو عظمتِ مرتبہ ہے وہ مخفی نہیں ، حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول نہیں ، حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمت اقدس میں عرض کیا : یارسول الله   ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی فضیلت الله   تعالٰی کے ہاں اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اس نے قسم اٹھائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی ، اور آپ کی عظمت ومرتبت اس کے ہاں اتنی عظیم ہے کہ اس نے “  لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) “ کے ذریعے آپ کے مبارك قدموں کی خاك کی قسم اٹھائی ہے۔ (ت)

 عــــہ :  المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس ۱۲ منہ (م)          

  چھٹےمقصد کی نوع خامس سے پانچویں فصل دیکھو ۱۲ منہ (ت)

مدارج عــــہ میں اسے نقل کرکے فرمایا : یعنی سوگند خوردن ببلد کہ عبارت است کہ از زمینے کہ پے سپر میکند ، آنرا (پائے آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) سوگند بخاك پائے خوردن ست ، وایں لفط درظاہر نظر سخت مے درآید ، نسبت بجناب عزّت چوں گویند کہ سوگند میخورد بخاك پائے حضرت رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمونظر بحقیقت معنی صاف وپاك ست کہ غبارے براں نمی نشیند ، وتحقیق ایں سخن آنست کہ سوگند خوردن حضرت رب العزّت جل جلالہ پچیزے غیر ذات وصفات بود برائے اظہار شرف وفضیلت وتمیزآں چیزست نزدمردم ونسبت بایشاں تابدانند کہ آں امرے عظیم وشریف است نہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالٰی [3]الخ   

یعنی شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاك پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں حضور پاؤں رکھ کر چلتے ہیں ، بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں کہ باری تعالٰی حضور کے خاك پاکی قسم اٹھائے ، لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی پوشیدگی وغبار نہیں وہ اس طرح کہ الله   تعالٰی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شَے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ شیئ (معاذالله) الله   تعالٰی سے عظیم ہے ، بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ معاذالله   بنسبت الله   تعالٰی کے عظیم ہے

میں ایك اسی حدیث بے سند کو کیا ذکر کرتا کہ اس کی تو صدہا نظیریں کتبِ علماء میں موجود ہیں زیادہ جانے دیجئے یہ پچھلے زماے کے بڑے محدّث شاہ ولی الله   صاحب بھی جابجا اپنی تصانیف میں ایسی کتب کی حدیثوں سے سند لاتے ہیں جو نہ کسی طبقہ حدیث میں داخل نہ اُن میں سند کا نام ونشان ،

قرۃ العینین میں روایات مذکورہ تاریخ یافعی وروضۃ الاحباب وشواہد النبوۃ مولانا جامی قدس سرہ السامی سے استناد موجود ، مثلًا لکھا :

اما اتصاف شیخین بصفات کاملہ تلبیہ [4]پس بطریق اتم بودو ظہور خرق عوائد وتربیت الٰہی ایشاں رابرؤیا وماندآں ازیشاں بسیار مروی شدہ حدیثی چند ازیں جملہ نیز روایت کنیم[5]۔  درشواہد النبوہ ازابومسعود انصاری منقول است کہ گفتہ است اسلام ابوبکر شبیہ بوحی است زیراکہ وے گفتہ است کہ شبی پیش ازبعث رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکہ شبی پیش ازبعث رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمدرخواب دیدم کہ نورے عظیم ازآسماں فروآمد وبربامِ کعبہ [6] افتاد الخ۔ ونیز درشواہد مذکور است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق گفتہ است کہ روزے درایامِ جاہلیت درسایہ درختے نشستہ بودم ناگاہ میل بمن کردبجانب من کرد آوازے ازاں درخت بگوش من آمد کہ پیغمبرے درفلاں وقت بیرون خواہد آمدے باید کہ تو سعادت مند ترین مردمان باشی بوے الخ ونیز درشواہد ازابوبکر صدیق منقول است کہ درمرض آخر خود گفت کہ امشب درتفویض امرخلافت بتکرار استخارہ کردم [7] الخ ملتقطا۔

شیخین (صدیق وفاروق) صفات کاملہ مشہورہ کے ساتھ بطریق اتم متصف تھے اور اُن سے خرقِ عادت اور تربیت الٰہیہ کے طور خواب وغیرہ جسے معاملات کا اظہار بھی احادیث میں مروی ہے ان میں سے ایك حدیث کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں ، شواہد النبوۃ میں ابومسعود انصاری سے مروی ہے کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر کا اسلام مشابہ بالوحی ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بعثت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایك عظیم نور آسمان سے نیچے آیا اور کعبہ کی چھت پر اترا ہے الخ شواہد النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں دورِ جاہلیت میں ایك دن ایك درخت کے نیچے بیٹھا ہواتھا اچانك وہ



[1]   نسیم الریاض شرح شفا باب اول الفصل الرابع فی قسمہ تعالٰی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۹۶

[2]   المواہب اللدنیہ مع شرح الزرقانی الفصل الخامس من النوع الخامس الخ مطبعۃ عامرہ مصر ۶ / ۲۷۰

[3]   مدارج النبوۃ وصل مناقب جلیلہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵

نوٹ : مدارج النبوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر کے نسخہ میں خط کشیدہ عبارت نہیں ہے غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی عبارت اس نسخے میں کسی وجہ سے رہ گئی اور اعلحٰضرت کی عبارت میں جو اضافہ ہے وہ درست ہے۔ نذیراحمد سعیدی

[4]            قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ الخ  مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۹۲

[5]   قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص ۹۳

[6]   قرۃ العینین فی تقبیل الشیخین اتصاف شیخین بہ صفاتِ کاملہ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن