دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

ابن مھدی واحمد والنسائی متروك الحدیث ثم قال وقال ابن حبان کان ابن مھدی حسن الرای فی عمر بن ھارون [1] اھ فالله  تعالٰی اعلم۔

کہ ابنِ مہدی ، احمد اور نسائی نے کہا کہ یہ متروك الحدیث ہے ، پھر کہا کہ ابنِ حبان کہتے ہیں کہ ابن مہدی عمر بن ہارون کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے اھ فالله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

باینہمہ از انجا کہ مستدرك میں تھا :

قال احمد بن حرب قدجربتہ فوجدتہ حقا ، وقال ابراھیم بن علی الدّیبلی عــــہ۱ قدجربتہ فوجدتہ حقا ، وقال الحاکم قال لنا ابوزکریا قدجربتہ فوجدتہ حقا قال الحاکم قدجربتہ فوجدتہ [2]حقا۔

احمد بن حرب نے کہا میں نے اس نماز کو آزمایا حق پایا ، ابراہیم بن علی دیبلی نے کہا میں نے آزمایا حق پایا ہم سے ابوزکریا نے کہا میں نے آزمایا حق پایا ، حاکم کہتے ہییں خود میں نے آزمایا تو حق پایا عــــہ۲۔

لہذا امام حافظ منذری نے فرمایا : الاعتماد فی مثل ھذا علی التجربۃ لاعلی الاسناد [3] (ایسی جگہ اعتماد تجربہ پر ہوتا ہے نہ کہ اسناد پر)۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ عــــہ۳ میں حدیث کا وہ ضعف شدید اور امام ابن جوزی کا اُسے

عــــہ۱ :  نسبۃ الٰی دیبل بفتح الدال المھملۃ وسکون الیاء المثناۃ من تحت وضم الباء الموحدۃ والاٰخر لام قصبۃ بلاد السند کمافی القاموس ۱۲ منہ (م)

عــــہ۲ :  اٰخر الکتاب فی الفضائل الثالث عشر فی صلاۃ الحاجۃ من فصول تکمیل الکتاب ۱۲ منہ (م)                                

یہ دَیبلُ کی طرف منسوب ہے۔ دیبل دال مہملہ کے فتح کے ساتھ ، یاء مثنٰی کے سکون باء موحدہ کے پیش کے ساتھ اور آخر میں لام ہے کہ بلادِ سندھ میں ایك قصبہ ہے قاموس میں ایسے ہی ہے ۲ منہ (ت)عــــہ۳ : اقول : بحمدالله   تعالٰی اس فقیر نے بھی کئی بار آزمایا حق پایا بعض قریب تر اعزّہ کو سخت ناسازی تھی طول ہوا یہاں تك کہ ایك روز حالت مثل نزع طاری ہوئی سب رونے لگے فقیر مشغولِ نماز مذکور ہُوا پڑھ کر آیا تو عزیز مذکور بیٹھا باتیں کرتا پایا ولله  الحمد بیس۲۰ سال ہونے کو آئے جب سے بحمدالله   فضلِ الٰہی ہے ماشاء الله  لاقوۃ الّابالله  ۱۲ منہ (م)

یہ کتاب کے آخر میں فضائل کے بیان میں جو تیرھویں فصل نمازِ حاجت کے بیان میں تمیل کتاب کی فصول میں سے ہے (ت)

بایقین موضوع کہنا عہ ذکر کرکے فرماتے ہیں :

ومشی علی ھذا فی الحاوی القدسی فانہ ذکر ھذہ الصلٰوۃ للحاجۃ علٰی ھذا الوجہ من الصلٰوۃ المستحبۃ [4]۔

حاوی قدسی میں اسی پر عمل کیا کہ انہوں نے حاجت کے لئے اس ترکیب کو مستحب نمازوں میں ذکر فرمایا۔

مرقاۃ شرح مشکٰوۃ سے امامِ اجل سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ الشریف کا ارشاد لطیف افادہ ۱۵ میں گزرا کہ میں نے صحتِ حدیث کو اس جوان کی صحتِ کشف سے پہچانا یعنی جب اس کے کشف سے معلوم ہوا کہ حدیث میں جو وعدہ آیا تھا ٹھیك اُترا معلوم ہُوا کہ حدیث صحیح ہے اب صدر رسالہ میں امام سخاوی کے نقول دیکھ لیجئے کہ اس تقبیل ابہامین کے کتنے تجربے علما وصلحا سے منقول ہوئے ہیں لاجرم علامہ طاہر فتنی نے فرمایا روی تجربۃ ذلك عن کثیرین [5](اس کا تجربہ بہت سے لوگوں سے روایت کیا گیا) تو عزیزو! اگر بفرض غلط سند کسی قابل نہ سمجھو تاہم تجربہ علما کو سند کافی جانو۔

افادہ بست ۲۷ وہفتم (بالفرض اگر کتب میں اصلًا پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی بس ہے) اقول : بھلایاں تو طرق مسندہ باسانید متعددہ کتب حدیث میں موجود علمائے کرام تو ایسی جگہ صرف کلمات بعض علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہا

عــــہ :  ھواٰخر حدیث من باب الصلاۃ فی الموضوعات قال المخرج موضوع ، عمربن ھارون کذاب قال خاتم الحفاظ عمرروی لہ الترمذی وابن ماجۃ وقال فی المیزان کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا قال ووجدت للحدیث طریقا آخر فذکر مااسند ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی الله  تعالٰی عنہ نحوہ وسکت علیہ خاتم الحفاظ والله  تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)       

نماز کے باب میں موضوعات میں یہ آخری حدیث ہے تخریج کرنے والے نے کہا یہ موضوع ہے عمر بن ہارون کذاب ہے ، خاتم الحفاظ نے کہا عمر سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت لی ہے ، میزان میں “ کان من اوعیۃ العلم الٰی آخر مانقلنا “ (وہ علم کا ذخیرہ تھا آخر تك جو عبارت ہم نے نقل کی ہے) کہا اور کہا کہ اس حدیث کی ایك اور سند بھی میں نے دیکھی ہے پھر وہ سند ذکر کی جو ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس کی مثل روایت کی ہے اس پر خاتم الحفاظ نے سکوت کیا ہے والله   تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)

کسی طبقہ حدیث میں اُس کا نام نہ نشان نہ ہو ، حضور اقدس سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے وصال اقدس کے بعد امیرالمومنین عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا حضور والا کوندا کرکے بابی انت وامی یارسول الله  [6] میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول الله   کہہ کر حضور کے فضائلِ جلیلہ وشمائل جمیلہ عرض کرنا ، یہ حدیث امام ابومحمد عبدالله   بن علی لخمی اندلسی رشاطی نے کہ پانچویں صدی کے علماء سے تھے ۴۶۶ھ میں انتقال کیا اپنی کتاب اقتباس الانوار والتماس الازہار اور ابوعبدالله   محمدمحمد ابن الحاج عبدری مکی مالکی نے کہ آٹھویں صدی کے فضلا سے تھے ۷۳۷ھ میں وصال ہوا اپنی کتاب مدخل میں ذکر کی دونوں نے محض بلاسند ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے اس سے زائد اس کا پتا نہ پایا کُتبِ حدیث میں اصلا نشان نہ ملا مگر ازانجا کہ مقام مقامِ فضائل تھا اسی قدر کو کافی سمجھا ، ان نادانوں کُند حواسوں فرق مراتب ناشناسوں کی طرح طبقہ رابعہ میں ہونا درکنار اصلًا کسی طبقہ میں نہ ہونا بھی اُنہیں اُس کے ذکر وقبول سے مانع نہ آیا بلکہ اس سے استناد فرمایا علامہ ابوالعباس قصار نے اسے شرح قصیدہ بردہ شریف میں ذکر کیا اور اِنہیں زشاطی کا حوالہ دیا ، پھر امام علّامہ احمد قسطلانی عــــہ۱ نے مواہب للدنیہ میں بصیغہ جزم ذکر کی ، اسی شرح قصار ومدخل کی سند دی ، اسی مواہب شریف ونسیم الریاض علّامہ شہاب خفاجی مصری ومدارج النبوۃ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی وغیرہا میں علمائے کرام نے اس حدیث کو زیر بیان آیہ کریمہ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) [7] (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں اور اے محبوب! تُو اس میں جلوہ افروز ہے۔ ت)جس میں رب العزّت جل وعلانے شہرِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی قسم یاد فرمائی ہے محلِ استناد میں ذکر کیا کہ قرآنِ عظیم نے حضور پُرنور سید المحبوبین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی جان پاك بھی قسم کھائی کہ

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۷۲)[8]  (تیری جان کی قسم یہ کافر اپنے نشہ میں بہك رہے ہیں ) اور حضور کے شہر مکہ معظمہ کی بھی قسم کھائی کہ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) [9]  مگر اس قسم میں اُس قسم سے زیادہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی تعظیم ہے جس طرح امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس طرف اشارہ کیا کہ عرض کرتے ہیں میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول الله   ، الله   عزوجل کے نزدیك حضور کا مرتبہ اس حد کو پہنچا کہ حضور کے خاك پاکی قسم یاد فرمائی لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱)۔ نسیم عــــہ۲ کی دلکشا عبارت یہ ہے :

 



[1]   میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن