30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ : افادہ ۲۴ میں شاہ ولی الله کا قول گزرا کہ ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ومقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود ، یہیں سے ظاہر کہ مقاصد حسنہ کتب موضوعات سے کتنے جُدا ہیں ۱۲ منہ (م)
طرفہ تریہ کہ انہیں میں تخریج الاحیاء للعراقی بھی گِن دی سبحان الله کہاں تخریج احادیث کتاب کہاں تصنیف فی الموضوعات ، اسی فہم پر ابوحنیفہ وشافعی سے دعوٰی مساوات ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم۔
نتیجۃ الافادات : الحمدُلله کلام اپنے ذروہ اعلٰی کو پہنچا اور احقاقِ حق حدِ اقصٰی کو ، ان چودہ۱۴ افادوں نے ماہِ شب چہاردہ کی طرح روشن کردیا کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں اگر تعددِ طُرق وعملِ اہلِ علم سے متقوی نہ بھی ہوں تو انتہا درجہ ضعیف بضعفِ خفیف ، اور فضائلِ اعمال میں باجماعِ علماء محدثین وفقہاء مقبول وکافی اور ثبوتِ استحبابِ عمل کے لئے مفید ووافی ہیں منکرین کی ساری چہ میگوئیاں کہ اُن کے ابطال واہمال کے لئے تھیں بعونہٖ تعالٰی اپنی سزائے کردار کو پہنچ گئیں والحمدلله رب العالمین ، اب پھر دستِ استعانت قائد توفیق کے ہاتھ میں دیجئے اور بعنایت الٰہی واعانتِ حضرت رسالت پناہی علیہ الصلٰوۃ والسلام غیر المتناہی تحقیق مرام میں اس سے بھی وسیع تر تنزلی کلام اور آخر میں ازالہ وازہاق بقیہ اوہام منکرین لیام کیجئے وبالله التوفیق۔
افادہ بست۲۶ وششم (ایسی جگہ اگر سند کسی قابل نہ ہوتو صرف تجربہ سند کافی ہے) اقول : بالفرض اگر ایسی جگہ ضعفِ سند ایسی ہی حد پر ہوکہ اصلًا قابلِ اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہُوئی وہ علما وصلحا کے تجربہ میں آچکی تو علمائے کرام اس تجربہ ہی کو سند کافی سمجھتے ہیں کہ آخر سند کذب واقعی کو مستلزم نہ تھا ، حاکم نے بطریق عمر بن ہارون بلخی سیدنا عبدالله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نماز قضائے حاجت کیلئے ایك ترکیب عجیب مرفوعًا روایت کی جس کے آخر میں ہے :
ولاتعلموھا السفھاء فانہ یدعون بھا فیستجابون [1]۔
بیوقوفوں کو یہ نماز سکھاؤ کہ وہ اس کے ذریعہ سے جو چاہیں گے مانگ بیٹھیں گے اور قبول ہوگی۔
ائمہ جرح وتعدیل نے عمر بن ہارون کو سخت شدید الطعن متروك بلکہ متہم بالکذب تك کہا۔ امام احمد وامام نسائی وامام ابو علی نیشاپوری نے فرمایا : متروك الحدیث ہے۔ امام علی بن مدینی وامام دارقطنی نے کہا : سخت ضعیف ہے۔ صالح جزرہ نے کہا : کذاب ہے۔ امام یحیٰی بن معین نے فرمایا : محض لاشیئ کذاب خبیث [2]ہے۔ (بالکل کوئی شے نہیں کذاب وخبیث ہے۔ ت) کل ذلك فی المیزان (یہ سب میزان میں ہے۔ ت) لاجرم حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا : متروك وکان حافظًا [3](یہ متروك ہے اور حافظ تھا۔ ت) ذہبی نے میزان میں کہا :
کان من اوعیۃ العلم علی ضعفہ ، وکثرۃ مناکیرہ وما اظنہ ممن یتعمد الباطل [4]
اس ضعف وکثرت مناکیر کے باوجود وہ علم کا ذخیرہ تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ کوئی باطل کا ارادہ کرتا ہو۔ (ت)
تذکرۃ الحفاظ میں آخر کہا : لاریب فی ضعفہ [5] (اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں ۔ ت) امام اجل ثقہ حافظ عبدالعظیم زکی منذری نے کتاب الترغیب عــــہ میں یہ حدیث بروایت حاکم نقل کرکے عمر بن ہارون کے متروك ومتہم ہونے سے اُسے معلول کیا ،
حیث قال قدتفرد بہ عمربن ھارون البلخی
جہاں کہا کہ اس کے بیان کرنے میں عمر بن ہارون بلخی متفرد ہے
عــــہ : فی الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ ۱۲ منہ (م)
(ترغیب میں نماز حاجت کے تحت اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
وھو متروك متھم اثنی علیہ ابن مھدی وحدہ عــــہ فیما اعلمہ [6] اھ
اور وہ متروك ومتہم ہے میرے علم کے مطابق ابن مہدی نے فقط اسے بہتر قرار دیا ہے اھ۔
قلت بل اختلف الروایۃ عن ابن مھدی ایضا فقال فی المیزان قال
قلت (میں کہتا ہوں ) کہ ابن مہدی سے بھی روایت مختلف ہے ، میزان میں ہے
عــــہ : اقول : ھذا عجیب من مثل الحافظ مع قول نفسہ فی خاتمۃ الکتاب ضعفہ الجمھور وثقہ قتیبۃ وغیرہ اھ فی تذکرۃ الحفاظ عن الابار عن ابی غسان عن بھربن اسد انہ قال اری یحیٰی بن سعید حسدہ قال وساق الخطیب باسنادہ عن ابن عاصم انہ ذکر عمربن ھارون فقال عمر عندنا احسن اخذا للحدیث من ابن المبارك وقال المروزی سئل ابوعبدالله عن عمربن ھارون فقال مااقدر ان اتعلق علیہ بشیئ کتبت عنہ کثیرا فقیل لہ قدکانت لہ قصّۃ مع ابن مھدی فقال بلغنی انہ کان یحمل علیہ وقال احمد بن سیار کان کثیر السماع کان قتیبۃ یطریہ ویوثقہ الخ ثم ذکر تکذیبہ وترکہ وجرحہ عن ابن معین واٰخرین ثم قال قلت لاریب فی ضعفہ وکان لما حافظا فی حروف القرأت مات سنۃ اربعین وتسعین ثلٰث مائۃ اھ ۱۲ منہ (م)
اقول : حافظ جیسے لوگوں پر تعجب ہے کہ خود انہوں نے خاتمہ کتاب میں کہا کہ اسے جمہور نے ضعیف کہا اور قتیبہ وغیرہ نے اسکی توثیق کی اھ اور تذکرۃ الحفاظ میں ازابار ازابن غسان ازبہربن اسد ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیٰی بن سعید کو دیکھا وہ ان پر حسد کرتے تھے کہا اور خطیب اپنی سند سے ابوعاصم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمربن ہارون کا ذکر کیا تو کہا کہ عمر ہمارے نزدیك حدیث اخذ کرنے میں ابی المبارك سے احسن ہے ، اور مروزی نے کہا ابوعبدالله سے عمر بن ہارون کے متعلق پُوچھا گیا تو کہا میں ان کے بارے میں کوئی شیئ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا میں نے ان سے بہت روایات لکھی ہیں ، ان سے کہاگیا کہ ان کا ابن مہدی کے ساتھ فلاں معاملہ ہے ، تو انہوں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ وہ اس پر حملہ کرتا تھا ، اور احمد بن سبار نے کہا کہ وہ کثیر السماع تھا ، قتیبہ اس کی تعریف وتوثیق کرتا تھا الخ) پھر اس کی تکذیب ، ترك اور جرح ابن معین وغیرہم سے ذکر کرنے کے بعد کہا میں کہتا ہوں اس کے ضعف میں کوئی شك نہیں ، اور وہ قراء اتِ حروف میں امام وحافظ تھے ان کا وصال ۳۹۴ھ میں ہوا اھ ۱۲ منہ (ت)
[1] الترغیب والترہیب فی صلاۃ الحاجۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۸نصب الرایۃ الحدیث الثانی والاربعون من کتاب الکراہیۃ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴ / ۲۷۳
[2] میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۸
[3] تقریب التہذیب حرف العین مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۹۲
[4] میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ عمر بن ہارون مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۲۹
[5] تذکرۃ الحفاظ الطبقۃ السابعہ مطبوعہ دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن ۱ / ۳۱۲
[6] الترغیب والترہیب فی صلاۃ الحاجۃ ودعائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع