دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

لفظ “ بظاھر “ وہ جو امام خاتم الحفاظ نے تدریب میں امام ذہبی سے نقل کیا ہے اس میں نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں بہت سی احادیث شیخین کی شرائط پر ہیں اور بہت سی ان دونوں میں سے کسی ایك کی شرط پر ہیں ، شاید اس کا مجموعہ تقریبًا آدھی کتاب ہو اور اس میں چوتھائی ایسی احادیث ہیں جن کی سند صحیح ہے ، بعض ایسی ہیں جن میں کوئی شیئ یا علت ہے اور جو بقیہ چوتھائی ہے وہ مناکیر یا واہیات ہیں جو صحیح نہیں ، اور بعض اس میں موضوع بھی ہیں ۱۲ منہ (ت)

تنبیہ : بحمدالله  ان بیانات سے واضح ہوگیا کہ اس طبقہ والوں کی احادیث متروکہ سلف کو جمع کرنے کے معنی اسی قدر ہیں کہ جن احادیث کے ایراد سے اُنہوں نے احتراز کیا انہوں نے درج کیں نہ یہ کہ انہوں نے جو کچھ لکھا سب متروك سلف ہے مجرد عدم ذکر کو اس معنے پر محمول کرنا کہ ناقص سمجھ کر بالقصد ترك کیا ہے محض جہالت ورنہ افراد بخاری متروکات مسلم ہوں اور افراد مسلم متروکات بخاری اور ہر کتاب متاخر کی وہ حدیث کو تصانیف سابقہ میں نہ پائی گئی تمام سلف کی متروك مانی جائے ، مصنفین میں کسی کو دعوائے استیعاب نہ تھا۔ امام بخاری کو ایك لاکھ احادیث صحیحہ حفظ تھیں صحیح بخاری میں کُل چار ہزار بلکہ اس سے بھی کم ہیں  کمابینہ شیخ الاسلام فی فتح الباری شرح صحیح البخاری (جیسا کہ شیخ الاسلام نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں بیان کیا ہے۔ ت)

ثامنًا شاہ صاحب اس کلام امام ذہب کو نقل کرکے فرماتے ہیں :

ولہذا علمائے حدیث قراردادہ اندکہ برمستدرك حاکم اعتماد نباید کردمگر از دیدن تلخیص ذہبی [1]۔

اسی لئے محدثین نے یہ ضابطہ مقرر کردیا ہے کہ مستدرك حاکم پر ذہبی کی تلخیص دیکھنے کے بعد اعتماد کیا جائے گا۔ (ت)

اور اس سے پہلے لکھا :

ذہبی گفتہ است کہ حلال نیست کسے راکہ برتصحیح حاکم غرہ شودتا وقتیکہ تعقبات وتلخیصات مرانہ بیند ونیز گفتہ است احادیث بسیار درمستدرك کہ برشرط صحت نیست بلکہ بعضے از احادیچ موضوعہ نیز ست کہ تمام مستدرك بآنہا معیوب گشتہ [2]۔    

امام ذہبی نے کہا ہے کہ امام حاکم کی تصحیح پر کوئی کفایت نہ کرے تاوقتیکہ اس پر میری تعقبات وتلخیصات کا مطالعہ نہ کرلے ، اور یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی احادیث مستدرك میں شرطِ صحت پر موجود نہیں بلکہ بعض اس میں موضوعات بھی ہیں جس کی وجہ سے تمام مستدرك معیوب ہوگئی ہے۔ (ت)

ان عبارات سے ظاہر ہوا کہ وجہ بے اعتماد یہی اختلاط صحیح وضعیف ہے اگرچہ اکثر عــــہ صحیح ہی ہوں جیسے

عــــہ : اسی طرح عدم اعتبار کثرت وقلّت کی دلیل واضح امام الشان کا یہ ارشاد منقول تدریب ہے :

قال الشیخ الاسلام غالب مافی کتاب ابن الجوزی موضوع والذی ینقد علیہ بالنسبۃ الی

شیخ الاسلام نے کہا کہ ابن جوزی کی کتاب میں اکثر روایات موضوع ہیں ، جن روایات(باقی برصفحۃ آئندہ)

مستدرك میں تین ربع کتاب کی قدر احادیث صحیحہ ہیں نہ کہ سب کا ضعیف ہونا چہ جائے ضعف شدید یا بطلان محض کہ کوئی جاہل بھی اس کا اعاد نہ کرے گا اور اس بے اعتمادی کے یہی معنی اگر خود لیاقت نقد رکھتا ہو آپ پرکھے ورنہ کلام ناقدین کی طرف رجوع کرے بے اس کے حجت نہ سمجھ لے۔ اب انصافًا یہ حکم نہ صرف کتب طبقہ رابعہ بلکہ ثانیا ثالثہ سب پر ہے کہ جب منشا اختلاط صحیح وضعیف ہے اور وہ سب میں قائم تو یہی حکم سب پر لازم آخر نہ دیکھا کہ ائمہ دین نے صاف صاف یہی تصریح سنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد وسنن ابن ماجہ ومصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ ومصنّف عبدالرزاق وغیرہا سنن ومسانید کتب طبقہ ثانیہ وثالثہ کی نسبت بھی فرمائے جس کی نقل امام الشان وعلّامہ قاری سے افادہ ۲۱ میں گزری ، یونہی امام شیخ الاسلام عارف بالله   زکریا انصاری وامام سخاوی نے تنصیص عــــہ کی ، امام خاتم الحفاظ کا قول ابھی سُن چکے کہ انہوں نے ان سب کتب کو ایك سلك میں منسلك فرمایا اب شاید منکر کج فہم ان نصوص ائمہ کو دیکھ کر سُنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ کی نسبت بھی یہی اعتقاد کرے گا کہ وہ بھی معاذالله   مہل وبیکار واصلًا ناقابل استناد واعتبار ہیں ولاحول ولاقوۃ الّا بالله  العلی العظیم۔ بالجملہ حق یہ کہ مدار اسناد ونظر وانتقاد یا تحقیق نقاد پر ہے نہ فلاں کتاب میں ہونے فلاں میں نہ ہونے پر قلم ضراعت رقم جب اس محل پر آیا فیض کرم وکرم قدم نے خوش فرمایا اس مقام ومرام طبقات حدیث کی تحقیق جزیل وتدقیق جمیل فقیر ذلیل غفرلہ المولی الجلیل پر فائض ہوگی کہ اگر یہاں ایراد کرتا اطناب کلام

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

مالاینتقد قلیل جداقال ، وفیہ من الضرران یظن مالیس بموضوع موضوعا عکس الضرر بمستدرك الحاکم فانہ یظن مالیس بصحیح صحیحا قال ویتعین الاعتناء بانتقاد الکتابین فان الکلام فی تساھلھما اعدم الانتفاع بھما الا لعالم بالفن لانہ مامن حدیث الا ویمکن ان یکون قد وقع فیہ تساھل [3] اھ ۱۲ منہ (م)

پر انہوں نے تنقید کی وہ ان سے بہت کم ہیں جن پر تنقید نہیں کی ، اور کہا کہ اس میں تکلیف وہ امر یہ ہے کہ وہ غیر موضوع کو موضوع گمان کرتے ہیں یہ اس کا عکس ہے جو مستدرك حاکم کا ضرر ہے کیونکہ وہ غیر صحیح کو بھی صحیح گمان کرتے ہیں ، کہا کہ ان دونوں کتابوں کی کاٹ چھانٹ ضروری ہے کیونکہ کلام ان دونوں میں تساہل کی وجہ سے ان سے نفع حاصل کرنے کو معدوم کردیتا ہے مگر اس شخص کے لئے جو اس فن کا ماہر ہو ، کیونکہ ان کی کوئی ایسی روایت نہیں ہُوئی جس میں تساہل نہ ہو ۱۲ منہ (ت)

عــــہ۱ :  ذکرنا نصھما فی رسالتنا مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ (م)

ہم نے ان دونوں کی عبارتوں کو اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں ثکر کیا ہے ۱۲ منہ (م)

و ابعاد مرام سامنے لہذا اسے بتوفیقہ تعالٰی رسالہ منفردہ عــــہ اور بلحاظ تاریخ مدارج طبقات الحدیث۱۳۱۳ھ  لقب دیا ولله  المنۃ فیما الھم ولہ الحمد علی ماعلّم وصلّی الله  تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ وسلّم۔

افادہ بست ۲۵ وپنجم : (کتبِ موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقًا ضعف کو ہی مستلزم نہیں ) اقول کتابیں کہ بیان احادیث موضوعہ میں تالیف ہوئیں دو۲ قسم ہیں ، ایك وہ جن کے مصنفین نے خاص ایراد موضوعات ہی کا التزام کیا جیسے موضوعاتِ ابن الجوزی واباطیل جوزقانی وموضوعات صغانی ان کتابوں میں کسی حدیث کا ذکر بلاشبہہ یہی بتائے گا کہ اس مصنّف کے نزدیك موضوع ہے جب تك صراحۃً نفی موضوعیت نہ کردی ہو ایسی ہی کتابوں کی نسبت یہ خیال بجا ہے کہ موضوع نہ سمجھتے تو کتابِ موضوعات میں کیوں ذکر کرتے پھر اس سے بھی صرف اتنا ہی ثابت ہوگا کہ زعمِ مصنّف میں موضوع ہے بہ نظر واقع عدمِ صحت بھی ثابت نہ ہوگا نہ کہ ضعف نہ کہ سقوط نہ کہ بطلان ان سب کتب میں احادیث ضعیفہ درکنار بہت احادیث حسان وصحاح بھردی ہیں اور محض بے دلیل اُن پر حکمِ وضع لگادیا ہے جسے ائمہ محققین ونقاد منقحین نے بدلائل قاہرہ باطل کردیا جس کا بیان مقدمہ ابن الصلاح وتقریب امام نووی والفیہ امام عراقی وفتح المغیث امام سخاوی وغیرہا تصانیف علما سے اجمالًا اور تدریب امام خاتم الحفاظ سے قدرے مفصلًا اور انہی کی تعقبات ولآتی مصنوعہ والقول الحسن فی الذب عن السنن وامام الشان کے القول المسدد فی الذب عن مسند احمد وغیرہا سے بنہایت تفصیل واضح دروشن مطالعہ تدریب سے ظاہر کہ ابن الجوزی نے اور تصانیف درکنار خود صحاح ستّہ ومسند امام احمد کی چوراسی۸۴ حدیثوں کو موضوع کہہ دیا جن کی تفصیل یہ ہے : مسند امام۱  احمد ، صحیح بخاری۲



[1]   بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرك میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳

[2]   بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرك میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰۹

[3]   تدریب الراوی نقد کتاب موضوعات ابن الجوزی دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۲۷۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن