30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــــہ : ودریں بعض روایات اقتران دارقطنی یا طبرانی یا وکیع مخالف راسود ندہد زیراکہ ازیں چنانکہ احتمال ایں معنی رونمایند کہ اسناد باینہا مقرون بطبقہ ثالثہ است ہمچناں ایں امر برمنصّہ ثبوت نشیند کہ ہمہ احادیث طبقہ رابعہ ساقط ازدرجہ اعتبار نیست باز احتمال مذکور بملاحظہ روایات دیگر کہ تنہا ازطبقہ رابعہ ست ازل باشد زعم مخالف راہیچ کن باشد فافہم ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(م)
اور اس میں بعض روایات کے دارقطنی یا طبرانی یا وکیع کے ساتھ اقتران سے مخالف کو سودمند نہیں کیونکہ اس طرح سے یہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اسناد سے طبقہ ثالثہ سے مقرون ہیں اور اسی طرح یہ ثابت ہے کہ طبقہ رابعہ کی تمام احادیث درجہ اعتبار سے ساقط نہیں پھر احتمال مذکور دیگر روایات کے ملاحظہ سے کہ جو صرف طبقہ رابعہ سے ہیں یہ بھی زعمِ مخالف کو زیادہ زائل کرنے والا ہے ، مخالف کا جو بھی زعم ہو ، اسے اچھی طرح سمجھو ۱۲ منہ (ت)
اسی عــــہ۱ میں ہے :
روی عــــہ۲ ابن جریر عن مجاھد قال سأل سلیمان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن اولٰئك النصاری الحدیث [1]۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ان نصارٰی کے بارے میں سوال کیا الحدیث (ت)
عزیزی آخر والّیل میں ہے :
حافظ خطیب بغدادی ازجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت می کند کہ روزے بخدمت آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمحاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالا شخصے می آید کہ حق تعالٰی بعد ازمن کسے رابہتر ازوپیدا نکردہ است وشفاعت اُو روزِ قیامت مثل شفاعتِ پیغمبران باشد جابر گوید کہ مہلے نہ گزشتہ بود کہ حضرت ابوبکر تشریف آوردند [2]۔
حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ ایك دن میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ابھی ایك شخص آئے گا کہ میرے بعد اس سے بہتر شخص الله تعالٰی نے پیدا نہیں فرمایا اس کی شفاعت روزِ قیامت الله تعالٰی کے پیغمبروں کی شفاعت کی طرح ہوگی۔ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لائے۔ (ت)
عــــہ۱ : زیر آیہ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : شاہ صاحب درعجالہ نافعہ جائیکہ ذکر طبقات اربعہ کردہ است تفسیر ابن جریر را از ہمیں طبقہ رابعہ شمردہ است کماذکرہ فی السیف المسلول علی من انکر اثر قدم الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
اس آیت کے تحت ہے
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى ۱۲ منہ (ت)
شاہ صاحب نے عجالہ نافعہ میں جہاں چار طبقات کا ذکر کیا ہے وہاں تفسیر ابن جریر کو بھی چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے جیسا کہ السیف الملول علی من انکر اثر قدم الرسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
تحفہ (اثنا عشریہ) میں عــــہ ہے :
در روایات شیعہ وسُنّی صحیح وثابت است کہ ایں امر خیلے بر ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشاق آمد وخودر ابردرسرائے زہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحاضر آور د و امیرالمومنین علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُراشفیع خود ساخت تا آنکہ حضرت زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاازو خوشنود شد اما روایات اہلسنت پس درمدارج النبوۃ وکتاب الوفا وبیہقی وشروح مشکٰوہ موجود است بلکہ درشرح مشکٰوۃ شیخ عبدالحق نوشۃ است کہ ابوبکر صدیق بعد ازیں قصہ بخانہ فاطمہ رفت ودرگرمی آفتاب بفدربا باستاد عذرخواہی کرد وحضرت زہرا ازو راضی شدو در ریاض النضرۃ نیزایں قصّہ بہ تفصیل مذکورست ودرصل الخطاب بروایت بیہقی ازشعبی نیز ہمیں قصہ مروی ست وابن السمان درکتاب المواقۃ از اوزاعی روایت کردہ کہ گفت بیرون آمد ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبردر فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَادر روز گرم [3] الخ
شیعہ اور سُنّی دونوں کے ہاں روایاتِ صحیحہ میں ثابت ہے کہ یہ معاملہ حضرت ابوبکر پر نہایت شاق گزرا ، لہذا آپ سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر کے دروازے پر حاضر ہُوئے اور امیرالمومنین حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سفارشی بنایا تاکہ سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاان سے راضی ہوجائے ، روایاتِ اہلسنّت مدارج النبوۃ ، الوفاء ، بیہقی اور شروح مشکٰوۃ میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکٰوۃ میں شیخ عبدالحق رحمہ الله نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر اس واقعہ کے بعد سیدہ فاطمۃ الزہرا کے گھر کے باہر دھوپ میں کھڑے ہوگئے اور معذرت کی اور سیدہ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاان سے راضی ہوگئیں ۔ ریاض النضرۃ میں بھی یہ واقعہ تفصیلًا درج ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی ، شعبی بھی یہ ہی واقعہ منقول ہے اور ابن السمان نے الموافقۃ میں اوزاعی سے روایت کیا کہ حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُگرمی کے وقت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر آئے الخ۔ (ت)
عــــہ : درطعن سیزدم ازمطاعن ملاعنہ بر حضرت افضل الصدیقین رضی الله تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
ملعون لوگوں کے ان اعتراضات میں سے تیرھویں طعن میں ہے جو اُنہوں نے افضل الصدیقین حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر کیے ہیں ۱۲ منہ (ت)
سابعًا طرفہ تر یہ کہ شاہ صاحب نے تصانیف حاکم کو بھی طبقہ رابعہ میں گنا حالانکہ بلاشُبہ مستدرك حاکم کی اکثر احادیث اعلٰی درجہ کی صحاح وحسان ہیں بلکہ اُس میں صدہا حدیثیں برشرطِ بخاری ومسلم صحیح ہیں قطع نظر اس کہ تصانیف شاہ صاحب میں کتب حاکم سے کتنے اسناد ہیں اور بڑے شاہ صاحب کی ازالۃ الخفاء وقرۃ العینین تو مستدرك سے تو وہ تودہ احادیث نہ صرف فضائل بلکہ خود احکام میں مذکور کمالایخفی علی من طالعھما (جیسے کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) لطیف ترید ہے کہ خود ہی بستان المحدثین میں امام الشان ابوعبدالله ذہبی سے نقل فرماتے ہیں :
انصاف آنست کہ درمستدرك قدرے بسیار شرط ایں ہردو بزرگ یافتہ میشودیا بشرط یکے از زینہا بلکہ ظن غالب آنست کہ بقدر نصف کتاب ازیں قبیل باشد ، وبقدر ربع کتاب از آں جنس است کہ بظاہر عــــہ اسناد او صحیح ست لیکن بشرط ایں ہردونیست وبقدر ربع باقی واہیات ومناکیر بلکہ بعضے موضوعات نیزہست چنانچہ من دراختصار آں کتاب کہ مشہور بتلخیص ذہبی است خبردار کردہ ام [4] انتہی۔
انصاف یہ ہے کہ مستدرك میں اکثر احادیث ان دونوں بزرگوں (بخاری ومسلم) یا ان میں سے کسی ایك کے شرائط پر ہیں بلکہ ظنِ غالب یہ ہے کہ تقریبًا نصف کتاب اس قبیل سے ہے اور تقریبًا اس کا چوتھائی ایسا ہے کہ بظاہر ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن ان دو (بخاری ومسلم) کی شرائط پر نہیں اور باقی چوتھائی واہیات اور مناکیر بلکہ بعض موضوعات بھی ہیں اس لئے میں نے اس کے خلاصہ جوکہ تلخیص ذہبی سے مشہور ہے ، میں اس بارے میں خبردار کیا ہے ، انتہٰی (ت)
عــــہ : لفظ بظاہر درآنچہ امام خاتم الحفاظ درتدریب ازذہبی آور دنیست لفظش ہمین است کہ فیہ جملۃ وافرۃ علی شرطھما وجملۃ کثیرۃ علی شرط احدھما ، لعل مجموع ذلك نحونصف الکتاب وفیہ نحو الربع مماصح سندہ ، وفیہ بعض الشیئ ، اولہ علۃ ومابقی وھونحو الربع فھو مناکیر اوواھیات لایصح وفی بعض ذلك موضوعات [5] ۱۲ منہ (م)
[1] تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ زیر آیت ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصارٰی مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۲۷۱
[2] تفسیر عزیزی آخر سورۃ الیل پارہ عم مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۳۰۶
[3] تحفہ اثنا عشریۃ طعن سیزدہم از مطاعن ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۷۸
[4] بستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستدرك میں احادیث موضوع کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع