30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چوں نوبت علم حدیث بطبقہ دیلمی وخطیب وابن عساکر رسید ایں عزیزاں دیدندکہ احادیث صحاح وحسان رامتقدمین مضبوط کردہ اندپس مائل شدند بجمع احادیث ضعیفہ ومقلوبہ کہ سلف آنرادیدہ ودانستہ گزاشتہ بودند وغرض ایشاں ازیں جمع آں بود کہ بعد جمع حفاظ محدثین دراں احادیث تامل کنند وموضوعات را ازحسان لغیرہا ممتاز نمایند چنانکہ اصحاب مسانید طرق احادیث جمع کروند کہ حفاظ صحاح وحسان وضعیف از یکد گرممتاز سازند ظن ہردوفریق راخدا تعالٰی محقق ساخت بخاری ومسلم وترمذی وحاکم تمییز احادیث وحکم بصحت وحسن ومتاخران در احادیث خطیب وطبقہ اوتصرف نمودند ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ورمقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود خطیب وطبقہ اودر مقدماتِ کتب خودبایں مقاصد تصریح نمودہ اند جزاھم الله تعالٰی عن امۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خیرا [1]اھ ملتقطا۔
جب علمِ حدیث دیلمی ، خطیب اور ابنِ عساکر کے طبقہ تك پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ مقتدمین علماء نے ایسی احادیث جو صحیح اور حسن تھیں کو محفوظ کردیا ہے لہذا انہوں نے ایسی احادیث جمع کیں جو ضعیفہ ومقلوبہ تھیں جنہیں اسلاف نے عمدًا ترك کیا تھا ان کے جمع کرنے سے غرض یہ تھی کہ حفاظ محدثین ان میں غور تأمل کرکے موضوعات کو حسن لغیرہ سے ممتاز کردیں گے جیسا کہ اصحابِ مسانید نے تمام طرقِ حدیث کو جمع کیا تاکہ حفاظِ حدیث صحیح ، حسن اور ضعیف کو ایك دوسرے سے ممتاز کردیں دونوں فریقوں کو الله تعالٰی نے توفیق اور کامیابی عطا فرمائی ، بخاری ، مسلم ، ترمذی اور حاکم احادیث میں امتیاز کرتے ہوئے ان پر صحیح ، حسن ہونے کا حکم لگایا اور متاخرین نے خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں کی احادیث میں تصرف کیا وحکم لگایا ، ابن جوزی نے موضوعات کو الگ کیا ، امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں حسن لغیرہ کو ضعیف اور منکر سے ممتاز کیا۔ خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں نے اپنی کتب کے مقدمات میں ان مقاصد کی تصریح کی ہے الله تعالٰی ان تمام کو نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اُمت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اھ ملتقطا۔ (ت)
عــــہ : قسم دوم ازفصل دوم درشبہات وارقان ۱۲ منہ
دوسری فصل کی قسم دوم کا تبین کے شبہات سے متعلق ہے اس کے تحت اس کا بیان ہے (ت)
دیکھو کیسی صریح تصریح ہے کہ کتب طبقہ رابعہ میں نہ صرف ضعیف محتمل بلکہ حسان بھی موجود ہیں اگرچہ لغیرہا کہ وہ بھی بلاشُبہہ خود احکام میں حجّت نہ کہ فضائل۔
خامسًا انہیں شاہ صاحب نے اسی حجۃ میں سنن ابی داؤد وترمذی ونسائی کو طبقہ ثانیہ اور مصنف عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ وتصانیف ابی داؤد طیالسی وبیہقی وطبرانی کو طبقہ ثالثہ اور کتب ابونعیم کو طبقہ رابعہ میں گنا ، امام جلیل جلال سیوطی خطبہ جمع الجوامع میں فرماتے ہیں :
رمزت للبخاری خ ولمسلم م ولابن حبان حب و للحاکم فی المستدرك ك وللضیاء فی المختارۃ ض وجمیع مافی ھذہ الکتب الخمسۃ صحیح سوی مافی المستدرك من المتعقب فائبہ علیہ ، ورمزت لابی داؤد د فماسکت عــــہ علیہ فھو صالح ومابین ضعفہ لقلتہ عنہ ، وللترمذی ت وانقل کلامہ علی الحدیث وللنسائی ن ولابن ماجۃ ہ ولابی داؤد الطیالسی ط ولاحمد حم ولعبدالرزاق عب ولابن ابی شیبۃ ش ولابی یعلی ع وللطبرانی فی الکبیر طب والاوسط طس وفی الصغیر طص ولابی نعیم فی الحلیۃ حل وللبھیقی ق ولہ فی شعب الایمان ھب وھذہ فیھا الصحیح والحسن والضعیف فابینہ غالبا [2] اھ مختصرا۔
میں نے حوالہ جات کے لئے یہ رموز وضع کیے ہیں ، خ سے بخاری ، م سے مسلم ، حب سے ابنِ حبان ، ك سے مستدرك حاکم ، ض سے مختارہ للضیاء ، ان پانچوں کتب میں صحیح احادیث ہیں ماسوائے حاکم کے جن پر اعتراض کیاگیا ہے اس پر توجہ رکھ ، د سے ابوداؤد جس پر وہ خاموش رہیں وہ صالح ہے اور جس کا ضعف(باقی برصفحہ آئندہ) انہوں نے بیان کیا ہے میں نے اسے نقل کردیا ہے ، ت سے ترمذی میں ان کا حدیث پر تبصرہ بھی نقل کروں گا ، ن سے نسائی ، ہ سے ابن ماجہ ، ط سے ابوداؤد طیالسی ، حم سے احمد ، عب سے عبدالرزاق ، ش سے ابن ابی شیبہ ع سے ابویعلی ، طب سے طبرانی کی معجم کبیر ، طس سے معجم اوسط ، طص سے معجم صغیر ، حل سے حلیہ ابونعیم ، ق سے سنن بیہقی ، ھب سے شعب الایمان للبیہقی مراد ہوگا ، ان تمام کتب میں احادیث صحیح بھی ہیں حسن اور ضعیف بھی اور میں اکثر طور پر ان کے بارے میں نشان دہی بھی کروں گا اھ مختصرًا۔ (ت)
عــــہ : فی الاصل الذی وقفت علیہ بین
وہ اصل کتاب جس پر میں نے واقفیت(باقی برصٖفحہ آئندہ)
دیکھو امام خاتم الحفّاظ نے ان طبقات ثانیہ وثالثہ ورابعہ سب کو ایك ہی مشق میں گنا اور سب پر یہی حکم فرمایا کہ ان میں صحیح ، حسن ، ضعیف سب کچھ ہے۔
سادسًا خود جناب شاہ صاحب کی تصانیف تفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہما میں جابجا احادیث طبقہ رابعہ سے بلکہ اُن سے بھی اُتر کر استناد موجود ، اب یا تو شاہ صاحب معاذالله خود کلام اپنا نہ سمجھتے یا یہ سفہا ناحق تحریف معنوی کرکے احادیث طبقہ رابعہ کو مہمل ومعطل ٹھہرانا اُن کے سر کیے دیتے ہیں ، تمثیلًا چند نقول حاضر ، عزیزی آخر تفسیر فاتحہ میں ہے :
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لفظی فماوعلیہ کلمۃ لم تبین فی الکتابۃ فکتبت مکانھا لفظۃ سکت اذھو المراد واذ کان لابدمن التنبیہ نبھت علیہ ۱۲ منہ (م)
حاصل کی ہے اس میں لفظ فما اور علیہ کے درمیان ایك کلمہ ہے جو کتابت میں واضح نہیں تو میں نے اس کی جگہ لفظ سکت لکھ دیا ہے اور چونکہ اس سے آغاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے آگاہ کردیا ، ۱۲ منہ (ت)
ابونعیم ودیلمی ازابو الدرداء روایت کردہ اندکہ آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرمودہ کہ فاتحہ الکتاب کفایت مے کندازانچہ ہیچ چیزاز ، قرآن کفایت نمی کنند [3] الحدیث۔
ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جہاں قرآن کی دوسری سورۃ کافی نہ ہو وہاں فاتحہ کافی ہے الحدیث (ت)
یہیں اور روایات بھی ابن عساکر وابو شیخ وابن مردودیہ ودیلمی وغیرہم سے مذکور ہیں یہیں عــــہ ہے :
ثعلبی ازشعبی روایت کردہ است کہ شخصے نزد او آمد وشکایت درد گردہ کردہ شعبی باوگفت کہ ترالازم است کہ اساس القرآن بخوانی وبرجائے درد دم کنی اوگفت کہ اساس القرآن چیست شعبی گفت فاتحۃ الکتاب [4]۔
ثعلبی نے شعبی سے روایت کیا کہ ایك آدمی نے شعبی کے پاس آکر شکایت کی کہ مجھے دردگردہ ہے ، انہوں نے فرمایا تو اساس القرآن پڑھ کر جائے درد پر دم کر ، اس نے عرض کیا کہ اساس القرآن کہا ہے؟ فرمایا سورۃ الفاتحہ۔ (ت)
عزیزی سورہ بقرہ ذکر بعض خواص سور وآیات میں ہے :
ابن النجار درتاریخ خود ازمحمد بن سیرین روایت کردہ کہ حدیثی ازعبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاشنیدہ بودم کہ آنحضرت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرمودہ اند ہرکہ درشب سی وسہ آیت بخواند او را در آں شب درندہ و دُزدے ایذا نر ساند الحدیث اھ مختصرًا [5]۔
ابن نجار نے اپنی تاریخ میں محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایك حدیث میں نے حضرت عبدالله بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے سُنی جس میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو شخص رات کو تینتیس۳۳ آیات پڑھے گا اسے کوئی درندہ اور ڈاکو نقصان نہیں دے گا الحدیث اھ مختصرا۔ (ت)
[1] قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم ازشبہات الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۲۸۲
[2] جامع الاحادیث بحوالہ جمع الجوامع خطبہ کتاب ، دارالفکر بیروت ۱ / ۱۸ ، ۱۹
[3] تفسیر عزیزی سورۃ الفاتحۃ فضائل ایں سورۃ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹
[4] تفسیر عزیزی آخر سورہ فاتحہ شیطان راچہار باردر عمر خود نوحہ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹
[5] تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ خواص وفضائل سورۃ فاتحہ وسی وسہ آیت الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۹۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع