30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذلك علی ان الحدیث محفوظ فارتقی من درجۃ التوقف الی درجۃ القبول والله اعلم [1]اھ وانظر کیف اجتزئ فی المتن بتوحید معتبر وفی الشرح بافراد روایۃ وحکم بالارتقاء الی درجۃ القبول وما المرادبہ ھھنا الاالقبول فی الاحکام فانہ جعل الضعیف صالحا للاعتبار من الرد ومع انہ مقبول فی الفضائل بالاجماع ویظھرلی ان الوجہ معھما اعنی العراقی وشیخ الاسلام لمابین فی النزھۃ من الدلیل لھما منقولا مما علقتہ علی فتح المغیث ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
ان کے الفاظ یہ ہیں : جب راوی سوءِ حفظ کا متابع معتبر راوی بن جائے جو اس سے اوپر ہو یا اس کی مثل اس سے کم نہ ہو اور اسی طرح وہ مختلط جو امتیاز نہیں کرتا ، مستور ، اسناد مرسل اور اسی طرح مدلس جبکہ محذوف منہ کو نہ پہچانتا ہو تو ان کی حدیث حسن ہوجائے گی ہاں لذاتہٖ نہیں بلکہ باعتبار المجموع ہوگی کیونکہ ہر ایك ان میں سے (یعنی سوءِ حفظ اور مختلط جن کا ذکر ہوا الخ) برابر احتمال رکھتا ہے کہ اس کی حدیث صحیح ہو یا غیر صحیح ، پس جب معتبر راویوں میں سے کسی ایك کے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالوں میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے گی اور یہ بات دلالت کرتی ہے کہ یہ حدیث محفوظ ہے اور درجہ توقف سے درجہ قبول پر فائز ہوگئی ہے اھ والله اعلم ، ذرا غور کرو متن میں محض ایك معتبر کے ساتھ اور شرح میں کئی افراد کے ساتھ موافقت روایت پر اکتفا کیسے کیا اور اسے قبول کا درجہ دیا ہے اور یہاں قبول سے مراد احکام میں قبولیت مراد ہے کیونکہ انہوں نے حدیث ضعیف کو صالح للاعتبار والرد کہا ہے کیونکہ حدیث ضعیف فضائل میں تو بالاجماع مقبول ہے ، خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسری روایت نہ ہو اور میرے لئے یہ ظاہر ہوا کہ وجہ ان دونوں عراقی اور شیخ الاسلام کے ساتھ ہے ، اس بنا پر جو نزہۃ میں ان دونوں کی دلیل بیان کی گئی ہے یہ فتح المغیث پر میری تعلیق سے منقول ہے ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(ت)
یہ چند جملے لوحِ دل پر نقش کرلینے کے ہیں کہ بعونہٖ تعالٰی اس تحریر نفیس کے ساتھ شاید اور جگہ نہ ملیں ، وبالله التوفیق ولہ الحمد ، الحمدالله القادر القوی علم ماعلم وصلی الله تعالٰی علی ناصر الضعیف واٰلہ وسلم ، قبول ضعیف فی فضائل الاعمال کا مسئلہ جلیلہ ابتدائً مسووہ فقیر میں صرف دو۲ افادہ مختصر میں تین صفحہ کے مقدار تھا اب کو ماہِ مبارك ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں رسالہ بعونہٖ تعالٰی بمبئی میں چھپنا شروع ہوگیا اثنائے تبییض میں بارگاہِ مفیض علوم ونعم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بحمدہ الله تعالٰی نفائس جلیلہ کا اضافہ ہوا افادہ شانزدہم سے یہاں تك آٹھ افاداتِ نافعہ اسی مسئلہ کی تحقیق میں القا ہُوئے قلم روکتے روکتے اتنے اوراق املا ہوئے ، امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی ایسی تسجیل جلیل وتفصیل جزیل اس تحریر کے سوا کہیں نہ ملے ، مناسب ہے کہ یہ افادے اس مسئلہ خاص میں جدا رسالہ قرار دئے جائیں اور بلحاظ تاریخ عــــہ الھاد الکاف فی حکم الضعاف(۱۳۱۳ھ) (ضعیف حدیثوں کے حکم میں کافی ہدایت۔ ت) لقب پائیں وبالله التوفیق ولہ المنۃ علی مازرق من نعم تحقیق ماکنا لعشر معشاار عشرھا نلیق والصلاۃ والسلام علی الحبیب الکریم واٰلہ وصحبہ ھداۃ
عــــہ : منقوص محلی باللام سے بھی حذف یا فصے کلام میں شایع وذایع ہے یوم التلاق ، یوم التناد الکبیر المتعال الی غیر ذلك امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ۱۲ منہ (م)
الطریق اٰمین۔
افادہ بست ۲۴ وچہارم : (حدیث کا کتبِ طبقہ رابعہ سے ہونا خواہی نخواہی مستلزم مطلق ضعف ہی نہیں چہ جائے ضعفِ شدید) وبالله استعین کسی حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا موضوعیت بالائے طاق ، ضعفِ شدید درکنار مطلق ضعف کو بھی مستلزم نہیں اُن میں حسن ، صحیح ، صالح ، ضعیف ، باطل ہر قسم کی حدیثیں ہیں ، ہاں بوجہ اختلاط وعدم بیان کہ عادت جمہور محدثین ہے ہر حدیث میں احتمال ضعف قدیم لہذا غیر ناقد کو بے مطالعہ کلماتِ ناقدین اُن سے عقائد واحکام میں احتجاج نہیں پہنچتا ، قولِ شاہ عبدالعزیز صاحب ایں احادیث قابلِ اعتماد نیستند کہ دراثبات عقیدہ یا عملے بآنہا تمسك کردہ شود [2](یہ احادیث قابلِ اعتماد نہیں ہیں کہ ان سے عقیدہ وعمل میں استدلال کیا جاسکے۔ ت) کے یہی معنی ہیں ، نہ یہ کہ ان کتابوں میں جتنی حدیثیں ہیں سب واہی ساقط ہیں یا موضوع وباطل اور اصلًا دربارہ فضائل بھی ایراد واستناد کے ناقابل کوئی ادنٰی ذی فہم وتمیز بھی ایسا ادعا نہ کرے گا نہ کہ شاہ صاحب سا فاضل ، ہاں متکلمانِ طائفہ وہابیہ اپنی جہالتیں جس کے سر چاہیں دھریں ۔
اوّلًا خود شاہ صاحب اثباتِ عقیدہ وعمل کا انکار فرمارہے ہیں اور وہ فضائل اعمال میں تمسك کے منافی نہیں ، ہم افادہ ۲۲ میں روشن کر آئے کہ دربارہ فضائل کسی حدیث ضعیف سے استناد کسی عقیدہ یا عمل کا اثبات نہیں ، تو اس بات کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق!
ثانیا تصانیف خطیب وابونعیم بھی طبقہ رابعہ میں ہیں اور شاہ صاحب بُستان المحدثین میں امام ابونعیم کی نسبت فرماتے ہیں :
ازنوادر کُتب اوکتاب حلیۃ الاولیاست کہ نظیر آں دراسلام تصنیف نشدہ [3]۔
ان کی تصانیف میں سے حلیۃ الاولیا ایسے نوادرات میں سے ہے جس کی مثل اسلام میں آج تك کوئی کتاب تصنیف نہ ہوئی (ت)
اُسی میں ہے :
کتاب اقتضاء العلم والعمل ازتصانیف خطیب است بسیار خوب کتابے است دربار خود [4]۔
خطیب بغدادی کی کتب میں اقتضاء العلم والعمل اپنے فن میں بہت سی خُوبیوں کی حامل ہے۔ (ت)
اُسی میں تصانیف امام خطیب کو لکھا :
التصانیف المفیدۃ التی ھی بضاعۃ المحدثین وعروتھم فی فھم [5]۔
فائدہ بخش تصنیفیں کہ فن حدیث میں محدثین کے بضاعت ومحل تمسك ہیں ۔
پھر امام حافظ ابوطاہر سلفی سے اُن تصانیف کی مدح جلیل نقل کی ، سبحان الله کہاں شاہ صاحب کا یہ حُسنِ اعتقاد اور کہاں اُن کے کلام کی وہ بیہودہ مراد کہ وہ کتب سراسر مہمل وناقابلِ استناد۔
ثالثًا جناب شاہ صاحب مرحوم کے والد شاہ ولی الله صاحب کہ حجۃ الله البالغہ میں اس تقریر طبقات کے موجود اُسی حجۃ بالغہ میں اسی طبقہ رابعہ کی نسبت لکھتے ہیں :
اصلح ھذہ الطبعۃ ماکان ضعیفا محتملا [6]۔
یعنی اس طبقہ کی احادیث میں صالح تر وہ حدیثیں ہیں جن میں ضعیف قلیل قابل تحمل ہو۔
ظاہر ہے کہ ضعیف محتمل ادنٰی انجبار سے خود احکام میں حجت ہوجاتی ہے اور فضائل میں تو بالاجماع تنہا ہی مقبول وکافی ہے پھر یہ حکم بھی بلحاظ انفراد ہوگا ورنہ ان میں بہت احادیث منجبرہ حسان ملیں گی اور عندالتحقیق یہ بھی باعتبار غالب ہے ، ورنہ فی الواقع ان میں صحاح ، حسان سب کچھ ہیں کماستسمع بعونہ تعالٰی (جیسے کہ تُو عنقریب سُنے گا۔ ت)
رابعًا یہی شاہ صاحب قرۃ العینین عــــہ فی تفضیل الشیخین میں لکھتے ہیں :
[1] شرح ننجۃ الفکر بحث سوء الحفظ مطبوعہ مطبع علیمی اندرون لوہاریگیٹ لاہور ص ۷۴
[2] عجالہ نافعہ فصل اول بحث طبقہ رابعہ مطبع نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص ۵
[3] بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستخرج علی صحیح مسلم لابی نعیم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۵
[4] بُستان المحدثین مع اردو ترجمہ کتاب اقتضاء العلم والعمل للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱۶۹
[5] بستان المحدثین مع اُردو ترجمہ تاریخ بغداد للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۸۸
[6] حجۃ اللہ البانعۃ باب طبقہ کتب حدیث ، الطبعۃ الرابعہ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۱ / ۱۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع