دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

فائدۃ جلیلۃ (فائدۃ جلیلۃ فی احکام انواع الضعیف والجبار ضعفھا) ھذا الذی اشرت الیہ من کلام السخاوی المار المتقدم ھو قولہ مع متنہ فی بیان الحسن ، ان یکن ضعف الحدیث لکذب اوشذوذ بان خالف من ھو احفظ اواکثر اوقوۃ الضعف بغیرھما فلم یجبر ولوکثرت طرقہ ، لکن بکثرۃ طرقہ یرتقی عن مرتبۃ المردود المنکر الی مرتبۃ الضعیف الذی یجوز العمل بہ فی الفضائل وربما تکون تلك الطرق الواھیۃ بمنزلۃ الطریق التی فیھا ضعف یسیر بحیث لوفرض مجیئ ذلك الحدیث باسناد فیہ ضعف یسیر کان مرتقیا بھا الٰی مرتبۃ الحسن لغیرہ [1]اھ ملخصا۔                                                

اگر اعتراض کے طور پر تو یہ کہے کہ امام شیخ الاسلام

کے بیان میں ایك زاید قید ہے جس پر علماء کے اطلاقات کو محمول کیا جاسکتا ہے اس سے دو نقل کردہ کلاموں میں اختلاف ختم ہوسکتا ہے قلت (تو میں جوابًا کہتا ہوں ) ہاں اگر علماء کے ذکر کردہ پر کوئی دلیل نہ ہو تب بھی ان کے کلام کو اس قید سے خاص کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ان کا کلام ہی نہیں ہے بلکہ وہ شدید ضعف پاکر بھی قبول کرنے پر عمل پیرا ہیں جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ (شدید ضعیف حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرتِ طرق) کی قید نہ لگانا ، دلیل کے زیادہ موافق اور قواعدِ شرح جمیل کے زیادہ مناسب ہے ، ہماری خواہش ہے کہ یہی قابلِ اعتماد ہو اور حق کا علم الله   جل جلالہ ، کے ہاں ہے۔ (ت)

فائدہ جلیلہ : (ضعیف حدیثوں کے احکام ، اقسام اور انکی کمی کو پُورا کرنے کے بیان میں ) امام سخاوی کے جس گزشتہ کلام کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ بمع متن ، حدیث حسن کے بارے میں ہے کہ حدیث کا ضعف کذب یا شذوذ یعنی وہ حدیث احفظ راوی یا کثیر رواۃ کی روایت کے خلاف ہو ، یا یہ ضعیف قوی ہو جوان دو مذکورہ (کذب اور شذوذ) کے علاوہ کسی اور وجہ سے پیدا ہوا ہو ، یہ ضعف کثرتِ طُرق سے بھی ختم نہیں ہوسکتا ، لیکن کثرتِ طرق کی بنا پر یہ حدیث مردود منکر کے مرتبہ سے ترقی کرکے ایسے ضعف کے مرتبہ پر پہنچ جاتی ہے جس سے فضائل میں عمل کے لئے مقبول ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث کے متعدد کمزور طُرق ایک معمولی کمزور طریقہ جیسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ حدیث کسی معمولی ضعف والی سند کے ساتھ مروی فرض کرلی جائے تو یہ درجہ حسن لغیرہ پر فائز ہوجاتی ہے ، ملخصًا۔ (ت)

ورائتنی علقت علیہ ھھنا مانصہ اقول :  حاصل ماتقرر وتحررھھنا مع زیادات نفیسۃ منا ان الموضوع لایصلح لشیئ اصلا ولایلتئم جرحہ ابدا ولوکثرت طرقہ ماکثرت ، فان زیادۃ الشرلایزید الشیئ الا شرا ، وایضا الموضوع کالموضوع کالمعدوم والمعدوم لایقوی و لایتقوی ،  ومنہ عند جمع منھم شیخ الاسلام ماجاء بروایۃ الکذابین وعند آخرین منھم خاتم الحفاظ مااتی من طریق المتھمین ، وسوّٰھما السخاوی بشدید الضعف الآتی لذھابہ الی ان الوضع لایثبت الابالقرائن المقررۃ ان تفرد بہ کذاب اووضاع کمانص علیہ فی ھذا الکتاب ، وھو عندی مذھب قوی اقرب الی الصواب ، اما الضعف بغیر الکذب والتھمۃ من ضعف شدید مخرج لہ عن حیز الاعتبار کفحش غلط الراوی فھذا یعمل بہ فی الفضائل علی مایعطیہ کلام عامۃ العلماء وھو الاقعد بقضیۃ الدلیل والقواعد ،  لاعند شیخ الاسلام علی احدی الروایات عنہ ومن تبعہ کالسخاوی الا اذاکثرت طرقہ الساقطۃ عن درجۃ الاعتبار فح یکون مجموعھا کطریق واحد صالح لہ فیعمل بھا فی الفضائل ولکن لایحتج بھا فی الاحکام ولاتبلغ بذلك درجۃ الحسن لغیرہ الا اذاانجبرت مع ذلك بطریق اخری صالحۃ للاعتبار فان مجموع ذلك یکون کحدیثین ضعیفین صالحین متعاضدین فح ترتقی الی الحسن لغیر فتصیر حجۃ فی الاحکام ، اما مطلقا علی ماھو ظاھر کلام المصنف اعنی العراقی اوبشرط تعدد الجابرات الصالحات البالغۃ مع ھذہ الطرق القاصرۃ المتکثرۃ القائمۃ مقام صالح واحد حد الکثرۃ فی الصوالح علی مافھمہ السخاوی من کلام النووی وغیرہ الواقع فیہ لفظ الکثرۃ مع نزاع لنا فیہ مؤید بکلام شیخ الاسلام فی النزھۃ والنخبۃ المکتفیتین عــــہ                بوحدۃ الجابر مع جواز ان تکون الکثرۃ فی کلام النووی بمعنی مطلق التعدد ، وھو الاوفق بما رأینا من صنیعھم فی غیر مقام والضعیف بالضعف الیسیر اعنی مالم ینزلہ عن محل الاعتبار یعمل بہ فی الفضائل وحدہ ، وان لم ینجبر فان انجبر ولوبواحد صار حسنا لغیرہ ،  واحتج بہ فی الاحکام علی تفصیل وصفنالك فی الجابر ، فھذہ ھی انواع الضعیف ، اما الذی لانقص فیہ عن درجۃ الصحیح الا القصور فی ضبط الراوی غیر بالغ الی درجۃ الغفلۃ فھو الحسن لذاتہ المحتج بہ وحدہ حتی فی الاحکام ، وھذا اذاکان معہ مثلہ ولوواحدا صار صحیحا لغیرہ اودونہ ممایلید فلاالا بکثرۃ انتھی ماکتبت بتخلیص۔

اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے اس مقام پر حاشیہ لکھا ہے جو یہ ہے اقول : ہماری زائد ابحاث کے ساتھ جو یہاں ثابت اور واضح ہوچکا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موضوع حدیث کسی طرح کارآمد نہیں ہے اور کثرت طُرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شرکی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے ، نیز موضوع ، معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے اور نہ قوی بنائی جاسکتی ہے ، موضوع کی ایك قسم وہ ہے جس کو ایك جماعت نے ، جس میں شیخ الاسلام بھی ہیں ، نے بیان کیا ہے ، وہ یہ کہ جس کو کذاب لوگ روایت کریں ، اور ایك دوسری جماعت جس میں سے “ خاتم الحفاظ “ بھی ہیں ، نے بیان کیا ہے کہ “ موضوع “ وہ ہے جس کو متہم بالکذب روایت کریں ۔ امام سخاوی نے ان دونوں بیان کردہ قسموں کو “ شدید الضعف “ کے مساوی قرار دیا ہے ، جس کو عنقریب بیان کرینگے ، امام سخاوی کا خیال ہے کہ موضوع کی پہچان مقررہ قرائن ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ روایت کرنے والا کذّاب یا وضّاع اس روایت میں متفرد ہو ، جیسا کہ امام سخاوی نے اس کتاب میں بیان کیا ہے میرے نزدیك یہی مؤقف قوی اور اقرب الی الصواب ہے ، مگر کذب اور تہمتِ کذب کے بغیر کوئی بھی شدید ضعف جس کی بنا پر حدیث درجہ اعتبار سے خارج ہوجاتی ہے مثلًا راوی کی انتہائی فحش غلطی ہو ، ضعیف کی یہ قسم فضائل میں  کارآمد ہوسکتی ہے جیسا کہ عام علماء کے کلام سے حاصل ہے اور یہی موقف دلیل وقواعد سے مطابقت رکھتا ہے ، مگر شیخ الاسلام سے ایك روایت میں اور امام سخاوی کی طرح ان کے پیروکار حضرات کے ہاں یہ قسم فضائل میں معتبر نہیں ہے تاوقتیکہ اس کے کمزور طرق کثیر نہ ہوں اور یہ طرق کثیر ہوں تو ان سب کے مجموعہ کو وہ ایك طریقہ صالحہ کے مساوی قرار دے کر فضائل میں قابلِ عمل قرار دیتے ہیں ، تاہم اس قسم کی ضعیف حدیث کو احکام کے لئے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی یہ درجہ “ حسن لغیرہ “ کو پاسکتی ہے۔ ہاں اگر ان متعدد طرق کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے صالح طریق سے اس کی کمزوری زائل ہوجائے تو اور بات ہے ، کیونکہ کمزور متعدد طرق اور ایك صالح طریق کی بنا پر وہ حدیث دو ایسی ضعیف حدیثوں کی طرح بن جاتی جو آپس میں مل کر تقویت کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ ضعیف حدیث “ حسن لغیرہ “ کے مرتبہ کو پہنچ کر احکام میں حجّت بن جاتی ہے ، اب یہ اختلاف اپنی جگہ پر ہے کہ صرف اسی قدر سے مقبول ہے جیسا کہ مصنف یعنی علّامہ عراقی کے کلام سے عیاں ہے یا بشرطیکہ بمع متعدد صالح طرق جن کی بنا پر کمزوری زائل ہوسکے ان متعدد صالح وجوہ اور کمزور طرق ، جو ایك صالح طریق کے مساوی ہیں ، مل کر کثرت طرقِ صالحہ بن جاتے ہیں جیسا کہ امام سخاوی نے امام نووی وغیرہ کے کلام سے سمجھا جن میں لفظِ کثرت استعمال ہُوا ہے ، باوجودیکہ ہمارا اس میں اختلاف ہے جوکہ شیخ الاسلام کے اس کلام سے مؤید ہے جو انہوں نے “ النزبۃ “ اور “ الننجۃ “ میں کیا دونوں کتابوں میں ایك جابر (کمزوری کو زائل کرنے والا امر) کا بیان ہے (نیز اپنی تائید میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں ) کہ امام نووی کے کلام میں لفظِ کثرت سے مطلق تعدّد ہے اور یہی احتمال ان کی عادت کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ ہم نے متعدد جگہ یہ استعمال پایا ہے اور ضعیف کی ایسی قسم جس میں معمولی ضعف ہو یعنی جس سے حدِ اعتبار ساقط نہ ہو یہ فضائل میں تنہا معتبر ہے خواہ کوئی مؤید بھی نہ ہو ، اور اگر کوئی ایك ایسا مؤید پایا جائے جو اس کے ضعف کو زائل کردے تو یہ “ حسن لغیرہٖ “ بن جاتی ہے اور اس کو احکام میں حجت قرار دیا جائیگا جس کی تفصیل ہم نے کمزوری کو زائل کرنے والے امور میں بیان کردی ہے۔ یہ تمام ضعیف کی انواع ہیں ۔ اگر صحیح حدیث کے شرائط میں ماسوائے ضبط راوی کی کمزوری کے اور کوئی کمزوری نہ ہوتو یہ حدیث “ حسن لذاتہٖ “ ہوگی بشرطیکہ ضبط راوی کی یہ کمزوری غفلت کے درجہ تك نہ پہنچتی ہو ، تو یہ “ حسن لذاتہٖ “ واحد حدیث بھی احکام کے لئے حجت ہوسکتی ہے اگر حسن لذاتہٖ کے ساتھ اس کی ہم مثل ایك اور بھی مل جائے تو یہ حدیث “ صحیح لغیرہ “ بن جاتی ہے اور اگر اس سے کم درجہ کی کوئی مؤید اس سے مل جائے تو “ صحیح لغیرہ “ نہ بنے گی تاوقتیکہ اس سے کم درجہ کی متعدد روایات جمع نہ ہوجائیں میری لکھی ہُوئی تعلیق ختم ہُوئی ، ملخصًا۔ (ت)

 عــــہ :  حیث قال متی توبع السیئ الحفظ بمعتبر کان یکون فوقہ اومثلہ لادونہ وکذا المختلط الذی لایتمیز والمستور والاسناد المرسل وکذا المدلس اذا لم یعرف المحذوف مند صار حدیثہم حسنًا لالذاتہ بل وصفہ بذلك باعتبار المجموع لان کل واحد منہم (اے ممن ذکر من السیئ الحفظ والمختلط الخ) باحتمال کون روایتہ صوابًا اوغیر صواب علی حد سواء فاذا جاء ت من المعتبرین روایۃ موافقۃ لاحدھم رجح احد الجانبین من الاحتمالین المذکورین دول



[1]   فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن