30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شدید الضعف ھو الذی لایخلو طریق من طرقہ عن کذاب اومتھم بالکذب [1]۔
شدید الضعف وہ حدیث ہے جس کی اسنادوں سے کوئی اسناد کذاب یا متہم بالکذب سے خالی نہ ہو۔
یہاں صرف انہیں دو۲ کو شدّتِ ضعف عــــہ میں رکھا امام سیوطی نے تدریب میں فرمایا حافظ نے فرمایا :
ان یکون الضعف غیر شدید فیخرج من انفرد من الکذابین والتھمین بالکذب ومن فحش غلطہ [2]۔
وہ ضعف شدید نہ ہو پس اس سے وہ نکل گیا جو کذاب اور متہم بالکذب میں منفرد ہو یا جو فحش الغلط ہو۔ (ت)
یہاں ان دو۲ کے ساتھ فحش غلط کو بھی بڑھایا نسیم الریاض میں قول البدیع سے کلام حافظ بایں لفظ نقل کیا :
ان یکون الضعف غیر شدید کحدیث من انفرد من الکذابین والمتھمین ومن فحش غلطہ [3]۔
حدیث میں ضعف شدید نہ ہو مثلًا اس شخص کی حدیث جو کذابین اور متہمین سے ہو یا وہ فحش الغلط ہو۔ (ت)
عــــہ : وھکذا عزابعض العصریین وھو المولوی عبدالحی اللکنوی فی ظفر الامانی الی التدریب والقول البدیع حیث قال الشرط للعمل بالحدیث الضعیف ثلٰث شروط علی ماذکرہ السیوطی فی شرع تقریب النووی والسخاوی فی القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع وغیرھما الاول عدم شدۃ ضعفہ بحیث لایخلوطریق من طرقہ من کذاب اومتھم بالکذب الخ اقول لکن سنسمعك نص التدریب والقول البدیع فیظھرلك ان وقع ھھنا فی النقل عنھما تقصر شنیع فلیتنبہ ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
معاصرین میں سے مولوی عبدالحی لکھنوی نے “ ظفرالامانی “ “ التدریب “ اور “ القول البدیع “ کی طرف ایسے ہی منسوب کیا ، جہاں انہوں نے کہا کہ ضعیف حدیث پر عمل کی تین شرطیں ہیں جیسا کہ نووی نے “ شرع تقریب النووی “ اور سخاوی نے “ القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع “ میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا ، پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو بایں طور کہ اس کے تمام طرق کذاب اور متہم بالکذب سے خالی نہ ہوں الخ اقول ابھی بعد میں ہم آپ کو ان دونوں کتابوں کی عبارت سنائیں گے جس سے آپ کو معلوم ہوجائیگا کہ اس نقل میں ان دونوں سے انتہائی کوتاہی سرزو ہوئی ہے ، غور کرنا چاہئے ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(ت)
یہاں کاف نے زیادتِ توسیع کا پتا دیا ، تحدید اول پر امر سہل وقریب ہے کہ ایك جماعت علما حدیث کذابین ومتہمین پر اطلاقی وضع کرتے ہیں تو غیر موضوع سے انہیں خارج کرسکتے ہیں مگر ثانی تصریحات ومعاملات جمہور وعلما وخود امام الشان سے بعید اور ثالث بظاہرہ ابعد ہے ہم ابھی روشن بیان سے واضح کرچکے ہیں کہ خود حافظ نے متروك شدید الضعف راوی موضوعات کی حدیث کو بھی فضائل میں محتمل رکھا مگر بحمدالله تعالٰی ہمارا مطلب ہر قول پر حاصل ہم افادات سابقہ میں مبرہن کرآئے ہیں کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں ہرگُونہ ضعف شدید سے پاك ومنزّہ ہیں اُن پر صرف انقطاع یا جہالتِ راوی سے طعن کیاگیا یہ ہیں بھی تو ضعفِ قریب نہ ضعف شدید والحمدلله العلی المجمید “ ھذا “ (اسے یاد رکھو۔ ت)
ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش فتح المغیث ، کلامًا یتعلق بالمقام احببت ایرادہ اتمامًا للمرام ، فذکرت اولاماعن الشامی عن الطحطاوی عن ابن حجر ثم ایدتہ باطلاق العلماء ثم اوردت ماعن النسیم عن السخاوی عن الحافظ ثم قلت مانصہ۔
اقول : وھذا کماتری مخالف لاطلاق مامر عن النووی عن العلماء قاطبعۃ ، ولتحدید مامر عن الطحطاوی عن شیخ الاسلام نفسہ لکن یظھرلی دفع التخالف عن کلامی شیخ الاسلام بانہ ھھنا ذکر المتفرد وفیما سبق قال “ لایخلوطریق من طرقہ ، فیکون الحاصل ان شدید الضعف بغیر الکذب والتھمۃ لایقبل عندہ فی الفضائل حین التفرد ، اما اذاکثرت طرقہ فح یبلغ درجۃ یسیر الضعف فی خصوص قبولہ فی الفضائل ، بخلاف شدید الضعف بالکذب والتھمۃ فانہ وان کثرطرقہ التی لاتفوقہ بان لایخلو شیئ منھا عن کذاب اومتھم لایبلغ تلك الدرجہ ، ولایعمل بہ فی الفصائل ، وھذا ھو الذی یعطیہ کلام السخاوی فیما مرحیث جعل قبول مافیہ ضعف شدید مطلقا ولوبغیر کذب فی باب الفضائل موقوفا علی کثرۃ الطرق ، لکنہ یخالفہ فی خصلۃ واحدۃ ، وھو حکمہ بالقبول بکثرۃ الطرق فی الضعف بالکذب ایضا کماتقدم ، وھو کماتری مخالف لصریح مانقل عن شیخ الاسلام وعلی کل فلم یرتفع مخالفۃ نقل شیخ الاسلام عن العلماء جمیعا لنقل الامام النووی عنھم کافۃ ، فانھم لم یشرطوا للقبول فی الفضائل فی شدید الضعف کثرۃ الطرق ولاغیرھا سوی ان ان لایکون موضوعا ، فصریح مایعطیہ کلامھم قبول مااشتد ضعفہ لفسق اوفحش غلط ، مثلا وان تفرد ولم یکثر طرقہ ، فافھم ، وتأمل ، فان المقام مقام خفاء وزلل ، والله المسؤل لکشف الحجاب ، وابانۃ الصواب الیہ المرجع والیہ المآب اھ ، مااردت نقلہ مما علقتہ علی الھامش۔
اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس مقام پر فتح المغیث کے حاشیہ میں ایسی گفتگو کی ہے جو اس مقام پر مناسب ہے میں اتمامِ مقصد کی خاطر اس کا یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، پہلے میں وہ ذکر کروں گا جو امام شامی نے طحطاوی سے اور انہوں نے ابنِ حجر سے نقل کیا ہے پھر اسے مزید قوی کروں گا علماء کے اطلاق سے پھر وہ نقل کروں گا جو نسیم نے سخاوی سے انہوں نے حافظ سے نقل کیا۔ پھر میرا قول یہ ہے :
اقول : جیسا کہ تمہیں معلوم ہے یہ بات علّامہ نووی کے نقل کردہ تمام علماء کے اطلاق اور خود شیخ الاسلام سے امام طحطاوی کی گزشتہ نقل کردہ تعریف کے خلاف ہے۔ لیکن شیخ الاسلام کی دونوں کلاموں میں مخالف کو ختم کرنے کی وجہ مجھ پر ظاہر ہورہی ہے وہ یہ کہ یہاں انہوں نے راوی کی تفرد کی بات کی ہے اور پہلے انہوں نے کہا ہے کہ طُرق میں سے کوئی طریق بھی (کذاب ومہتم سے) خالی نہ ہو ، پس حاصل یہ ہوا کہ کذب وتہمت کے بغیر شدید ضعف ہوتو ان کے ہاں تفرد کی صورت میں فضائل میں قابل قبول نہیں ، لیکن جب وہ کثرتِ طُرق سے مروی ہوتو اس صورت میں وہ شدید ضعف سے خفیف ضعف کے درجہ میں آجائےگی پس اب وہ صرف فضائل میں مقبول ہوجائیگی ، اس کے برخلاف جو کذب اور تہمت کی وجہ سے شدید ضعف والی ہوتو بیشمار کثرتِ کے باوجود وہ مقبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی فضائل میں قابلِ عمل ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے ہر طریق میں کوئی نہ کوئی کذاب اور مہتم ضرور ہوتا ہے۔ یہی بات علمامہ سخاوی کے گزشتہ کلام سے حاصل ہوتی ہے جہاں انہوں نے شدید ضعف والی حدیث کے فضائل میں مقبول ہونے کو کثرتِ طرق پر موقوف کیا وہاں شدّتِ ضعف مطلق مراد ہے خواہ وہ کذب کے علاوہ ہی ہو ، لیکن یہ بات ان کو ایك جگہ آڑے آئے گی۔ جہاں انہوں نے ضعف بالکذب پر بھی کثرتِ طرق کی بنا پر مقبول ہونے کا حکم کیا ہے جیسا کہ گزرا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ بات شیخ الاسلام سے نقل کردہ کے صراحۃً خلاف ہے ، بہرصورت شیخ الاسلام کا تمام علماء سے نقل کردہ مؤقف اور امام نووی کا نقل کردہ انہی تمام علماء کا مؤلف مختلف ہے یہ اختلاف مرتفع نہیں ہوسکتا ، کیونکہ علماء نے فضائل میں شدید ضعف والی حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرت طُرق وغیرہا کی شرط نہیں لگائی صرف یہ کہا ہے کہ وہ موضوع نہ ہو ، ان کے کلام کا صریح ماحصل یہ ہے کہ مثلًا فسق یا فحش غلطی کی بنا پر جس حدیث کا ضعف شدید ہو خواہ اس کا راوی متفرد ہی کیوں نہ ہو اور اس حدیث کے طرق کثیر بھی نہ ہوں تب بھی یہ حدیث (فضائل میں ) مقبول ہے ، غور وتأمل کرو ، کیونکہ یہ مقامِ خفی ہے اور غلط فہمی پیدا کرسکتا ہے ، پردوں کو کھولنے اور درستی کو ظاہر کررنے کا سوال صرف الله تعالٰی سے ہے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی جائے پناہ ہے۔ فتح المغیث کے حاشیہ میں سے جو میں نقل کرنا چاہتا تھا وہ ختم ہوا۔ (ت)
فان قلت ھذا قید زائد افادہ امام فلیحمل اطلاقاتھم علیہ دفعًا للتخالف بین النقلین قلت نعم لولا ان ماذکروا من الدلیل علیہ لایلائم سریان التخصیص الیہ ، وکیف نصنع بما نشاھدھم یفعلون یرون شدۃ الضعف ثم یقبلون ، وبالجملۃ فالاطلاق ھو الاوفق بالدلیل والالصق بقواعد الشرع الجمیل فنودان یکون علیہ التعویل والعلم بالحق عند الملك الجلیل۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع