30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : (میں کہتا ہوں : لیکن ابن عباس نے اپنی مذکورہ روایت میں بیان کیا ہے کہ سورۃ الحاقہ کا نزول اس وقت ہُوا جب سورہ بنی اسرائیل کے بعد ستائیس سورتیں نازل ہوچکی تھیں اور ابن عباس نے الحاقہ کو ان سورتوں میں شمار کیا ہے جو مکّہ کے آخری دور میں نازل ہوئی تھیں (پھر حضرت عمر نے الحاقہ کی آیات اسلام لانے سے پہلے کس طرح سُن لی تھیں ، جبکہ وہ نبوت کے چھٹے سال میں ایمان لائے تھے اور اس وقت یہ سورت نازل ہی نہیں ہُوئی تھی) اور یہ تطبیق کرنا غیر ظاہر ہے کہ ہوسکتا ہے اس کا کچھ حصّہ پہلے نازل ہوا ہو اور حضرت عمر نے اس کو سُن لیا ہو اور باقیماندہ زیادہ تر حصّہ بعد میں نازل ہوا ہو اور حضرت ابن عباس نے اکثر باقیماندہ حصے کے نزول کو ملحوظ رکھا ہو۔ غیر ظاہر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر (اسلامِ عمر والی) یہ حدیث صحیح ہے تو اس میں عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں “ پس شروع کی رسول الله نے سورۃ الحاقہ ، پھر سورۃ کے آخری حصّے کی چند آیات ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں “ سورت کے آخر تک “ (یعنی اس روایت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ سورت شروع سے آخر تك اس وقت نازل ہوچکی تھی پھر مندرجہ بالا تطبیق کیسے ظاہر ہوسکتی ہے؟) پس الله ہی بہتر جانتا ہے۔ بلکہ مجاہد نے کہا ہے کہ الله تعالٰی کا یہ فرمانا “ (اے نبی!) جس چیز کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے اس کا اعلان کرو : “ اس سے مراد قرآن کو جہرًا پڑھنا ہے۔ یہ بات مواہب کے مقصدِ اول میں مذکور ہے۔ صاحبِ مواہب نے کہا : “ کہتے ہیں کہ یہ آیت نبوت کے تین سال گزرنے کے بعد نازل ہوئی “ ۔ اس کی شرح میں زرقانی نے کہا ہے کہ ( “ کہتے ہیں “ کہہ کر) ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ حافظ نے اپنی سیرت میں یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ آیت نبوت کے تیسرے سال کے دوران نازل ہُوئی تھی۔ (ت)
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے نمازِ سابق اصول وارکان میں اسی نماز مستقر کے موافق نظر آتی ہے بلکہ حدیث مذکور بلفظ مواہب میں بعد فکان ذلك اول فرضھا رکعتین (ابتدا میں نماز کی دو۲ رکعتیں فرض ہُوئی تھیں ۔ ت) کے فرمایا :
ثم ان الله تعالٰی اقرھا فی السفر کذلك واتمھا فی الحضر[1]۔
پھر الله تعالٰی نے سفر میں دو۲ رکعتیں برقرار رکھیں اور حضر میں (چار) مکمل کردیں ۔ (ت)
شرح زرقانی میں ہے :
اقرھا ای شرعھا علی ھیأۃ ماکان یصلیھا [2] قبل۔
“ برقرار رکھیں “ کا مطلب یہ ہے کہ ان دو۲ رکعتوں کو اسی طرح مشروع قرار دے دیا جس طرح آپ پہلے سے پڑھتے تھے۔ (ت)
قبل اس سے ظاہر یہ کہ پیش از معراج دو۲ رکعتیں اسی طرح کی تھیں جیسی اب ہیں مگر بعض علماء فرماتے ہیں معراج سے پہلے رکوع اصلًا نہ تھا نہ اس شریعت میں نہ اگلے شرائع میں ہمارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور اُن کی اُمتِ مرحومہ کے خصائص سے ہے کہ بعد اسرا عطا ہُوا بلکہ معراج مبارك کی صبح کو جو پہلی نمازِ ظہر پڑھی گئی اُس تك رکوع نہ تھا اُس کے بعد عصر میں اُس کا حکم آیا اور حضور وصحابہ نے ادا فرمایا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممسند بزار ومعجم اوسط طبرانی میں امیرالمومنین علی کرم الله وجہہ کی حدیث اس معنی کو مفید امام جلال الدین سیوطی خصائص کبرٰی میں فرماتے ہیں :
باب اختصاصہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالرکوع فی الصلاۃ۔ ذکر جماعۃ من المفسرین فی قولہ تعالٰی وارکعوا مع الراکعین ، ان مشروعیۃ الرکوع فی الصلاۃ خاص بھذہ الملۃ ، وانہ لارکوع فی صلاۃ بنی اسرائیل ، ولذا امرھم بالرکوع مع امۃ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، قلت : وقد یستدل لہ بما اخرجہ البزار والطبرانی فی الاوسط عن علی رضی الله تعالٰی عنہ ، قال : اول صلاۃ رکعنا فیھا صلوٰۃ العصر ، فقلت یارسول الله ماھذا؟ قال : بھذا امرت۔ ووجہ الاستدلال انہ صلی قبل ذلك صلاۃ الظھر ، وصلی قبل فرض الصلوات الخمس قیام اللیل وغیر ذلک ، فکون الصلاۃ السابقۃ بلارکوع قرینۃ لخلّو صلاۃ الامم السابقۃ منہ[3] اھ۔
باب ، اس بیان میں کہ رسول الله نماز میں رکوع کے ساتھ مختص ہیں ۔ مفسرین کی ایك جماعت نے الله تعالٰی کے فرمان “ اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ “ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نماز میں رکوع کا ہونا اس اُمت کے ساتھ خاص ہے ، اور بنی اسرائیل کی نماز میں رکوع نہیں تھا ، اسی لئے ان کو حکم دیا گیا ہے کہ اُمتِ محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رکوع کریں ۔ اور اس پر دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بزار نے اور طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے تخریج کی ہے کہ پہلی نماز جس میں ہم نے رکوع کیا وہ عصر کی نماز تھی ، تو ہم نے کہا : “ یارسول الله ! یہ کیا ہے؟ “ تو آپ نے فرمایا : “ مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے “ ۔ استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ رسول الله نے اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھی تھی ، اور پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے قیام لیل بھی کرتے تھے ، کچھ اور نوافل بھی پڑھتے تھے ، تو ان تمام نمازوں میں رکوع کا نہ ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ پہلی امتوں کی نمازوں میں رکوع نہ تھا اھ (ت)
شرح زرقانی مقصد خامس میں ہے :
الرکوع من خصائص الامۃ ، وماصلاہ المصطفٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قبل الاسراء لارکوع فیہ؛ وکذاظھر عقب الاسراء ، واول صلاۃ برکوع ، العصر بعدھا [4] ۔
رکوع اس اُمّت کی خصوصیات میں سے ہے اور مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممعراج سے پہلے جو نمازیں پڑھا کرتے تھے ان میں رکوع نہ تھا ، اسی طرح معراج کے بعد جو ظہر پڑھی (اس میں بھی رکوع نہ تھا) اس ظہر کے بعد آپ نے جو عصر پڑھی تو وہ پہلی نماز تھی جس میں رکوع کیا گیا۔ (ت)
اقول : یہ حدیثِ طبرانی اگر صحیح یا حسن ہے تو استناد صحیح وحسن ہے ورنہ اس کا صریح معارض حدیث عفیف کندی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے موجود کہ وہ زمانہ جاہلیت میں مکہ معظمہ میں آئے کعبہ کے سامنے بیٹھے تھے دن خوب چڑھ گیا تھا کہ ایك جوان تشریف لائے اور آسمان کو دیکھ کر رُوبکعبہ کھڑے ہوگئے ذرا دیر میں ایك لڑکے تشریف لائے وہ اُن کے دہنے ہاتھ پر قائم ہوئے تھوڑی دیر میں ایك بی بی تشریف لائیں وہ پیچھے کھڑی ہُوئیں پھر جوان نے رکوع فرمایا تو یہ دونوں رکوع میں گئے پھر جوان نے سر مبارك اُٹھایا تو ان دونوں نے اُٹھایا جوان سجدے میں گئے تو یہ دونوں بھی گئے انہوں نے حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حال پُوچھا کہا یہ جوان میرے بھتیجے محمد بن عبدالله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمہیں اور یہ لڑکے میرے بھتیجے علی اور یہ بی بی خدیجۃ الکبرٰی ہیں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا، میرے یہ بھتیجے کہتے ہیں کہ آسمان وزمین کے مالك نے انہیں اس دین کا حکم دیا ہے اور اُن کے ساتھ ابھی یہی دو مسلمان ہُوئے ہیں ۔
اخرج ابن عدی فی الکامل وابن عساکر فی التاریخ عن عفیف الکندی رضی الله تعالٰی عنہ ، قال : جئت فی الجاھلیۃ الٰی مکۃ ، وانا ارید ان ابتاع لاھلی من ثیابھا وعطرھا ، فاتیت العباس ، وکان رجلا تاجرا ، فانی عندہ جالس انظر الی الکعبۃ ، وقدکلفت الشمس وارتفعت فی السماء فذھبت اذ اقبل شاب فنظر الی السماء ثم قام مستقبل الکعبۃ ، فلم البث الا یسیرا حتی جاء غلام فقام عن یمینہ ، ثم لم یلبث الا یسیرا حتی جاء ت امرأۃ فقامت خلفھما ، فرکع الشاب فرکع الغلام والمرأۃ ، فرفع الشاب فرفع الغلام والمرأۃ ، فسجد الشاب فسجد الغلام والمرأۃ ، فقلت : یاعباس! امر عظیم ، فقال : امرعظیم ، تدری من ھذا الشاب؟ ھذا محمد بن عبداللّٰہ ، ابن اخی ، تدری من ھذا الغلام؟ ھذا علی ابن اخی ، تدری من ھذہ المرأۃ؟ ھذہ خدیجۃ بنت خویلد ، زوجتہ۔ ان ابن اخی ھذا حدثنی ان ربہ ، رب السمٰوٰت والارض ، امرہ بھذا الدین۔ ولم یسلم معہ غیرہ ھؤلاء الثلثۃ[5]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع