دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

کان الی حفظہ المنتھی فی الاخبار والسیر والمغازی الحوادث وایام الناس والفقہ وغیر ذلك [1]۔

یہ اخبار واحوال ، علم سِیر ومفازی ، حواد ثاتِ زمانہ اور اس کی تاریخ اور علمِ فقہ وغیرہ کے انتہائی ماہر اور حافظ ہیں ۔ (ت)

رابعًا ہلال بن زید بن یسار بصری عسقلانی کو ابنِ حبان نے کہا روی عن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاشیاء موضوعۃ (انہوں نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے موضوع روایات نقل کی ہیں ۔ ت) حافظ الشان نے تقریب میں کہا متروك باوصف اس کے جب انہیں ہلال نے انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حدیث فضیلت عسقلان روایت کی جسے حافظ ابوالفرج نے بعلّتِ مذکورہ درج موضوعات کیا اُس پر حافظ الشان ہی نے وہ جواب مذکور افادہ دہم دیا کہ حدیث فضائلِ اعمال کی ہے سو اُسے طعن ہلال کے باعث موضوع کہنا ٹھیك نہیں امام احمد کا طریق معلوم ہے کہ احادیث فضائل میں تساہل فرماتے ہیں ، اور یہ بھی افادہ نہم میں حافظ الشان ہی کی تصریح سے گزرچکا کہ متروك ایسا شدید الضعیف

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

طریقا للماء الی البساتین وھذا تقوم بہ الحجۃ عندنا اذا وثقنا الواقدی ، اما عندالمخالف فلالتضعیفہ ایاہ [2]  اھ وقال فی فصل فی الآسار قال فی الامام جمع شیخنا ابوالفتح الحافظ فی اول کتابہ المغازی والسیر من ضعفہ ومن وثقہ ورجح توثیقہ وذکر الاجوبۃ عماقیل فیہ [3] اھ ۱۲ منہ (م)                              

کے کنویں سے باغوں کو پانی دیا جاتا تھا ہمارے نزدیك حجت کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ ہم نے واقدی کی توثیق کردی ہے باقی مخالف کے نزدیك حجت نہیں کیونکہ وہ اس کی تضعیف کا قائل ہے اھ اور “ فصل فی الآسار “ میں کہا کہ امام کے بارے میں ہمارے شیخ ابوالفتح حافظ نے اپنی پہلے کتاب المغازی والسیر میں ان روایات کو جمع کیا ہے جن کی توثیق کی گئی یا ان کو ضعیف کہا گیا اور ان کی توثیق کو ترجیح دیتے ہوئے ان پر وارد شدہ اعتراضات کے جوابات بھی ذکر کیے اھ ۱۲ منہ۔ (ت)

ہے جس کے بعد بس متہم بالوضع ووضاع ہی کا درج ہے اب یہ بات خوب محفوظ رہے کہ خود امام الشان ہی نے ہلال کو متروك کہا خود ہی متروك کو اتنا شدید الضعف بتایا خود ہی ایسے شدید الضعف کی روایت کو دربارہ فضائل مستحق تساہل رکھا اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ ضعف کیسا ہی شدید ہو جب تك سرحدِ کذب ووضع تك نہ پہنچے حافظ الشان کے نزدیك بھی فضائل میں قابلِ نرمی وگوارائی ہے ولله  الحجۃ السامیہ۔

خامسًا : اور سُنیے وضو کے بعد اِنّا انزلنا پڑھنے کی حدیثوں کا ضعف نہایت قوّت پر ہے ، سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسے بے اصل محض کہا ، امام جلیل ابواللیث سمرقندی نے اپنے مقاصد میں ان حدیثوں کو ذکر فرمایا ، امام الشان سے اس بارہ میں سوال ہُوا وہی جواب فرمایا کہ فضائلِ اعمال میں ضعاف پر عمل روا ہے۔ امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :

قد سئل شیخنا حافظ عصرہ قاضی القضاۃ شھاب الدین الشھیر بابن حجر رحمہ الله  تعالٰی من ھذہ الجملۃ فاجاب بمانصہ الاحادیث التی ذکرھا الشیخ ابواللیث نفع الله  تعالٰی ببرکتہ ضعیفۃ والعلماء یتساھلون فی ذکر الحدیث الضعیف والعمل بہ فی فضائل الاعمال ولم یثبت منھا شیئ عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم لامن قولہ ولامن فعلہ [4] اھ                                                                                                                                                                                

ہمارے شیخ حافظ العصر قاضی القضاۃ شہاب الدین المعروف ابنِ حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے ان روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ وہ احادیث جن کو امام ابواللیث ، “ الله   تعالٰی ان کی برکت سے نفع عطا فرمائے “ نے ذکر کیا ہے وہ ضعیف ہیں ، اور علماء حدیث ضعیف کے ذکر کرنے اور فضائل اعمال میں اس پر عمل کرنے میں نرمی برتتے ہیں اگرچہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ان کے متعلق کوئی قول وعمل ثابت نہ ہو اھ (ت)

سادسًا : یہ حدیث کہ چاند گہوارہ میں عرب کے چاند عجم کے سورج صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے باتیں کرتا ، حضور کو بہلاتا ، انگشت مبارك سے جدھر اشارہ فرماتے اُسی طرف جھُك جاتا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ ، امام ابوعثمٰن اسمعیل بن عبدالرحمن صابونی نے کتاب المائتین ، خطیب نے تاریخ بغداد ، ابنِ عساکر نے تاریخ دمشق میں سیدنا عباس بن عبدالمطلبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کی اُس کا مدار احمد بن ابراہیم حلبی شدید الضعف پر ہے ، میزان میں ہے امام ابوحاتم نے کہا : احادیثہ باطلۃ تدلہ علی کذبہ [5](اس کی احادیث باطلہ اس کے کذب پر دال ہیں ۔ ت)باوجود اس کے امام صابونی نے فرمایا : ھذا حدیث غریب الاسناد والمتن وھو فی المعجزات حسن [6] (اس حدیث کی سند بھی غریب اور متن بھی غریب بااینہمہ معجزات میں حسن ہے) اُن کے اس کلام کو امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبرٰی ، امام احمد قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں نقل کیا اور مقرر رکھا۔

سابعًا : حدیث الدیك الابیض صدیقی وصدیق صدیقی وعد وعدوالله  وکان رسول الله  صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم یبتیہ معہ فی البیت [7] (مرغ سپید میرا خیر خواہ اور میرے دوست کا خیر خواہ ، الله   تعالٰی کے دشمن کا دشمن ہے ، نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماُسے شب کو مکان خوابگاہ اقدس میں اپنے ساتھ رکھتے تھے) کہ ابوبکر برقی نے ابوزید انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ، علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا : باسناد فیہ کذاب [8](اس کی سند میں کذاب ہے) باوصف اس کے فرمایا : فیندب لنا فعل ذلك تأسیا بہ [9]جبکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا تو ہمیں باقتدائے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممرغ سپید کو اپنی خوابگاہ میں ساتھ رکھنا مستحب ہے۔ مثالیں اس کی اگر تتبع کیجئے بکثرت لیجئے وھذا الاخیر قدبلغ الغایۃ وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ (یہ آخری انتہاء پر ہے اور جو کچھ ہم نے ذخر کردیا وہ اہل فہم کے لئے کافی ہے۔ ت)

ثامنًا : احادیث ودلائل مذکورہ افادات سابقہ بھی اسی اطلاق کے شاہد عدل ہیں خصوصًا حدیث وان کان الذی حدثہ بہ کاذبًا (اگرچہ جس نے اسے بیان کیا کاذب ہو۔ ت) ظاہر ہے کہ احتمالِ صدق ونفع بے ضرر ہر ضعیف میں حاصل تو فرق زائل بالجملہ یہی قضیہ دلیل ہے اور یہی کلام وعمل قوم سے مستفاد مگر حافظ الشان سے منقول ہوا کہ شرط عمل عدم شدت ضعف ہے نقلہ تلمیذہ السخاوی وقال سمعتہ مرارا یقول ذلك (اسے ان کے شاگرد امام سخاوی نے نقل کیا اور کہا کہ میں نے ان سے یہ کئی مرتبہ کہتے سُنا ہے۔ ت)

اقول : (بحث قبول شدید الضعف) یہاں شدتِ ضعف سے مراد میں حافظ سے نقل مختلف آئی ، شامی عــــہ نے فرمایا طحطاوی نے فرمایا امام ابن حجر نے فرمایا :

عــــہ :  فی مستحبات الوضوء ۱۲ منہ (م)

(شامی نے مستحبات الوضوء میں فرمایا ۱۲ منہ۔ ت)

 



[1]   میزان الاعتدال نمبر ۷۹۹۳ ترجمہ محمد بن عمربن واقد الاسلمی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳ / ۶۶۳

[2]   فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۶۹ و ص ۹۷

[3]   فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۶۹ و ص ۹۷

[4]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[5]   میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۲۸۷ احمد بن ابراہیم حلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان  ۱ / ۸۱

[6]   المواہب اللدنیۃ بحوالہ کتاب المائتین حدیث غریب الاسناد المتن المکتب الاسلامی بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن