دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

شریف میں دون الموضوع [1](موضوع نہ ہو۔ ت) حلیہ۷ میں الذی لیس بموضوع [2] (ایسی روایت جو موضوع نہ ہو۔ ت) اذکار ۸ میں ان الفاظ سے اجماع ائمہ نقل فرمایا کہ مالم یکن موضوعا [3](وہ جو کہ موضوع نہ ہو۔ ت) یونہی۹ امام ابن عبدالبر نے اجماعِ محدثین ذکر کیا کہ یرونھا عن کل [4](محدثین ان کو تمام سے روایت کرتے ہیں ۔ ت) یہ سب عبارات باللفظ یا بالمعنی افادات سابقہ میں گزریں ، زرقانی۱۰ شرح عــــہ۱مواہب میں ہے عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام والعقائد مالم یکن موضوعا [5] (محدثین کی عادت ہے کہ غیر احکام وعقائد میں تساہل کرتے ہیں اس میں جو موضوع نہ ہو) یونہی۱۱  علّامہ حلبی سیرۃ عــــہ۲ الانسان العیون میں فرماتے ہیں :

عــــہ۱  :  ذکر رضاعہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم تحت حدیث مناغاۃ القمرلہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)

عــــہ۲  :  نقل ھذا وماسیاتی عن عیون الاثر بعض الاثرین ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ (م)                           

نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ذکر رضاعت میں اس حدیث کے تحت جس میں نبی اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے انگلی کے اشارے سے چاند کے ساتھ کھیلنے (جھك جانے) کا بیان ہے وہاں اس کا ذکر ہے دیکھو۔ (ت)

عیون الاثر کی یہ عبارت اور وہ جو عنقریب ذکر کی جائیگی ان کو بعض معاصرین نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

لایخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم والضعیف والبلاغ والمرسل والمنقطع والمعضل دون الموضوع وقدقال الامام احمد وغیرہ من الائمۃ اذاروینا فی الحلال والحرام شددنا واذا روینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا [6]۔

واضح رہے کہ اصحاب سیر ہر قسم کی روایات جمع کرتے ہیں صحیح ، غیر صحیح ، ضعیف ، بلاغات ، مرسل ، منقطع اور معضل وغیرہ ، لیکن موضوع روایت ذکر نہیں کرتے۔ امام احمد اور دیگر محدثین کا قول ہے کہ جب ہم حلال وحرام کے بارے میں احادیث روایت کرتے ہیں تو شدت کرتے ہیں اور جب ہم فضائل وغیرہ کے بارے میں روایات لاتے ہیں تو ان میں نرمی برتتے ہیں ۔ (ت)

شیخ محقق۱۲ مولانا عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہ القوی شرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :

گفتہ اندکہ اگر ضعف حدیث بجہت سوئے حفظ بعض رواۃ یا اختلاط یا تدلیس بود باوجود صدق ودیانت منجبر میگرود بتعدد طرق واگر ازجہت اتہام کذب راوی باشدیا شزوذ بمخالفت احفظ واضبط یابقوت ضعف مثل فحش خطا اگرچہ تعدد طرق داشتہ باشد منجبر نگرود وحدیث محکوم بضعف باشد ودرفضائل اعمال معمول [7] الخ             

محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث میں ضعف بعض راویوں کے سُوئے حفظ یا تدلیس کی وجہ سے ہو جبکہ صدق ودیانت موجود ہوتو یہ کمی تعدد طرق سے پُوری ہوجاتی ہے اور اگر ضعف راوی پر اتہامِ کذب کی وجہ سے ہو یا احفظ واضبط راوی کی مخالفت کسی جگہ ہو یا ضعف نہایت قوی ہو مثلًا فحش غلطی ہو تو اب تعدد طرق سے بھی کمی کا ازالہ نہیں ہوگا اور حدیث ضعیف پر ضعیف کا ہی حکم ہوگا اور فضائل اعمال میں ہے الخ (ت)

ثانیا : کلبی کا نہایت شدید الضعف ہونا کسے نہیں معلوم اُس کے بعد صریح کذاب وضّاع ہی کا درجہ ہے ائمہ شان نے اُسے متروك بلکہ منسوب الی الکذب تك کیا کذبہ ابن حبان والجوزجانی وقال البخاری ترکہ یحیٰی وابن مھدی وقال الدارقطنی وجماعۃ متروك (ابن حبان اور جوزجانی نے اسے جھُوٹا قرار دیا ہے ، بخاری کہتے ہیں کہ اسے یحیٰی اور ابن مہدی نے ترك کردیا ، دارقطنی اور ایك جماعت نے کہا کہ یہ متروك ہے۔ ت) لاجرم حافظ نے تقریب میں فرمایا متھم بالکذب ورمی بالرفض [8](اس پر کذب کا اتہام ہے اور اسے روافض کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ت)بااینہمہ عامہ کتب سیر وتفاسیر اس کی اور اس کی امثال کی روایات سے مالامال ہیں علمائے دین ان امور میں اُنہیں بلانکیر نقل کرتے رہے ہیں ، میزان میں ہے :

قال ابن عدی وقدحدث عن الکلبی سفٰین وشعبۃ وجماعۃ ورضوہ فی التفسیر واما فی الحدیث فعندہ مناکیر [9]۔

ابن عدی نے کہا کہ کلبی سے سفیان ، شعبہ اور ایك جماعت نے حدیث بیان کی ہے اور ان روایات کو پسند کیا ہے جس کا تعلق تفسیر کے ساتھ ہے اور حدیث سے متعلقہ روایات انکے نزدیك مناکیر ہیں ۔ (ت)

امام ابن سید الناس سیرۃ عیون الاثر میں فرماتے ہیں :

غالب مایروی عن الکلبی انساب واخبار من احوال الناس وایام العرب وسیرھم ومایجری مجری ذلك مماسمح کثیر من الناس فی حملہ عمن لایحمل عنہ الاحکام وممن حکی عنہ الترخیص فی ذلك الامام احمد [10]۔

کلبی سے اکثر طور پر لوگوں کے انساب واحوال ، عربوں کے شب وروز اور ان کی سیرت یا اسی طرح کے دیگر معاملات مروی ہیں جو کثرت کے ساتھ ایسے لوگوں سے لے لیے جاتے ہیں جن سے احکام نہیں لیے جاتے اور جن لوگوں سے اس معاملہ میں اجازت منقول ہے وہ امام احمد ہیں ۔ (ت)

ثالثًا : (امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیك ثقہ ہیں ) امام واقدی کو جمہور اہلِ اثر نے حپنین وچناں کہا جس کی تفصیل میزان وغیرہ کتبِ فن میں مسطور ، لاجرم تقریب میں کہا : متروك مع سعۃ علمہ [11](علمی وسعت کے باوجود متروك ہے۔ ت) اگرچہ ہمارے علماء کے نزدیك اُن کی توثیق ہی راجح ہے۔ کماافادہ الامام المحقق فی فتح القدیر عــــہ [12](جیسا کہ امام محقق نے فتح القدیر میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت)بااینہمہ یہ جرح شدید ماننے والے

عــــہ : حیث قال فی باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء عن الواقدی قال کانت بئر بضاعۃ

جہاں انہوں نے “ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء “ میں واقدی سے نقل کیا کہ بضاعۃ(باقی برصفحہ آئندہ)

بھی انہیں سِیر ومفازی واخبار کا امام مانتے اور سلفًا وخلفًا ان کی روایات سِیر میں ذکر کرتے ہیں کمالایخفی علی من طالع کتب القوم (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جس نے قوم کی کُتب کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) میزان میں ہے :

 



[1]   مقدمہ سیہ شریف

[2]   حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی

[3]   الاذکار المنتخبہ من کلام سید الابرار فصل قال العلماء الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۷

[4]   کتاب العلم لابن عبدالبر

[5]   شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۱ / ۱۷۲

[6]   انسان العیون خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳

[7]   شرح صراط مستقیم دیباچہ شرح سفر السعادت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۱۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن