دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

عــــہ۲  :  نقلہ فی التدریب نوع الموضوع قبیل التنبیھات ۱۲ منہ رضی الله  عنہ (م)   

احمد بن عبدالله   کے ترجمہ میں ہے۔ (ت)

اس کو نقل کیا ہے تدریب میں نوع موضوع کے تحت تنبیہات سے کچھ پہلے۔ (ت)

ثالثًا : لوکان الاسناد وھو البیان المراد لاستحال روایۃ شیئ من الاحادیث منفکا عن البیان فان الروایۃ لاتکون الا بالاسناد ، قال فی التدریب حقیقۃ الروایۃ نقل السنۃ ونحوھا واسناد ذلك الی من عزی الیہ بتحدیث واخبار وغیر ذلك [1] اھ وقال عــــہ۱ الزرقانی تحت قول المواھب روی عبدالرزاق بسندہ الخ بسندہ ایضاح والافھو مدلول روی [2] اھ وقال ایضا عــــہ۲ تحت قولہ روی الخطیب بسندہ ایضاح فھو عندھم مدلول روی [3] اھ واذا انتھی الکلام بنا الی ھنا واستقر عرش التحقیق بتوفیق الله  تعالٰی علی ماھو مرادنا فلنعد الی ماکنا فیہ حامدین لله  تعالٰی علی مننہ الجزیلۃ الی کل نبیہ ومصلین علی نبیہ الکریم واٰلہ وصحبہ وسائر مجیہ۔

ثالثًا : اگر سند بیان مراد ہی ہو تو بیان کے بغیر کوئی حدیث مروی ہی نہ ہوگی کیونکہ روایت میں سند تو ضروری ہے ، تدریب میں ہے کہ حقیقت روایت سنّت وغیرہ کا نقل کرنا اور اس بات کی سند کا ذکر کرنا ہے کہ یہ فلاں نے بیان کی یا فلاں نے اس کی اطلاع دی ہے وغیرہ ذلك اھ زرقانی نے مواہب کی عبارت “ روی عبدالرزاق بسندہ الخ “ کے تحت کہا کہ بسند کا لفظ صرف وضاحت کے لئے ہے ورنہ وہ “ روی “ کا مدلول ہے اھ اور مواہب کی عبارت “ روی الخطیب بسندہ “ کے تحت یہی بات زرقانی نے کہی کہ “ بسندہ “ وضاحت ہے تو ان کے ہاں لفظ “ روی “ کا مدلول بھی یہی ہے اھ جب ہماری یہ گفتگو مکمل ہوچکی تو الله   تعالٰی کی توفیق سے تحقیق کا اعلٰی درجہ پختہ ہوگیا اس طور پر جو ہماری مراد تھی ، اب ہم واپس اس مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمارا موضوع تھا الله   تعالٰی کی بے بہا نعمتوں پر حمد کرتے ہوئے جو اس نے اپنے ہر نبی کو عطا کی ہیں اور صلاۃ وسلام پڑھتے ہوئے نبی کریم اور آپ کی آل واصحاب اور باقی محبین پر۔ (ت)

افادہ بست ودوم۲۲ : (ایسے اعمال کے جواز یا استحباب پر ضعیف سے سند لانا دربارہ احکام اسے

عــــہ۱  :  اوائل الکتاب عند ذکر خلق نورہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)  عــــہ۲   : فی ذکر ولادتہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)

حجت بنانا نہیں ) جس نے افادات سابقہ کو نظرِ غائر وقلب حاضر سے دیکھا سمجھا اُس پر بے حاجت بیان ظاہر وعیاں ہے کہ حدیث ضعیف سے فضائلِ اعمال میں استحباب یا محلِ احتیاط میں کراہت تنزیہ یا امر مباح کی تائید اباحت پر استناد کرنا اُسے احکام میں حجت بنانا اور حلال وحرام کا مثبت ٹھہرانا نہیں کہ اباحت تو خود بحکم اصالت ثابت اور استحباب تنزہ قواعد قطعیہ شرعیہ وارشاد اقدس “ کیف وقدقیل “ وغیرہ احادیث صحیحہ سے ثابت جس کی تقریر سابقًا زیور گوش سامعان ہُوئی حدیث ضعیف اس نظر سے کہ ضعف سند مستلزم غلطی نہیں ممکن کہ واقع میں صحیح ہو صرف امید واحتیاط پر باعث ہُوئی ، آگے حکمِ استحباب وکراہت اُن قواعد وصحاح نے افادہ فرمایا اگر شرع مطہر نے جلب مصالح وسلب مفاسد میں احتیاط کو مستحب نہ مانا ہوتا ہرگز ان مواقع میں احکام مذکورہ کا پتا نہ ہوتا تو ہم نے اباحت ، کراہت ، مندوبیت جو کچھ ثابت کی دلائل صحیحہ شرعیہ ہی سے ثابت کی نہ حدیث ضعیف سے اقول : تاہم از انجاکہ درود ضعیف وہ بھی نہ لذاتہ بلکہ بملاحظہ امکان صحت ترجی واحتیاط کا ذریعہ ہُوا ہے اگر اُس کی طرف تجوزًا نسبت اثبات کردیں بجا ہے اور ثبوت بالضعیف میں بائے استعانت تو ادنٰی مداخلت سے صادق ، ہاں اگر دلائل شرعیہ سے ایك امر کلی کی حرمت ثابت ہو اور کوئی حدیث ضعیف اُس کے کسی فرد کی طرف بُلائے مثلًا کسی حدیث مجروح میں خاص طلوع وغروب یا استوا کے وقت بعض نماز نفل کی ترغیب آئی تو ہرگز قبول نہ کی جائے گی کہ اب اگر ہم اُس کا استحباب یا جواز ثابت کریں تو اسی حدیث ضعیف سے ثابت کریں گے اور وہ صالح اثبات نہیں یونہی اگر دلائل شرعیہ مثبت ندب یا اباحت ہوں اور ضعاف میں نہی آئی اسی وجہ سے مفید حرمت نہ ہوگی مثلًا مقرر اوقات کے سوا کسی وقت میں ادائے سنن یا معین رشتوں کے علاوہ کسی رشتہ کی عورت سے نکاح کو کوئی حدیث ضعیف منع کرے حرمت نہ مانی جائے گی ورنہ ضعاف کی صحاح پر ترجیح لازم آئے بحمدالله  یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ حدیث ضعیف دربارہ احکام حلال وحرام معمول بہ نہیں ۔

ثم اقول : اصل یہ ہے کہ مثبت وہ جو خلاف اصل کسی شَے کو ثابت کرے کہ جو بات مطابق اصل ہے خود اسی اصل سے ثابت ، ثابت کیا محتاجِ اثبات ہوگا ولہذا شرع مطہر میں گواہ اس کے مانے جاتے ہیں جو خلاف اصل کا مدعی ہو اور ماورائے دماء وفروج ومضار وخبائث تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے تو ان میں کسی فعل کے جواز پر حدیث ضعیف سے استناد کرنا حلت غیر ثابتہ کا اثبات نہیں بلکہ ثابتہ کی تائید ہے ،

ھذا تحقیق مااسلفنا فی الافادۃ السابقۃ عن المحقق الدوانی ، وھذا ھو معنی مانص علیہ الامام ابن دقیق العید وسلطٰن العلماء عزالدین بن عبدالسلام وتبعھما شیخ الاسلام الحافظ ونقلہ تلمیذہ السخاوی فی فتح المغیث وفی قول البدیع والسیوطی فی التدریب والشمس محمد الرملی فی شرح المنھاج النووی ، ستھم من الشافعیۃ ، ثم اثرہ عن الرملی العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام والمحقق المدقق العلائی فی الدرالمختار واقراہ ھما ومحشو الدر الحلبی والطحطاوی والشامی فیھا وفی منحۃ الخالق خمستھم من الحنفیۃ ، من اشتراط العمل بالضعیف باندراجہ تحت اصل عام ، وھو اذا حققت لیس بتقیید زائد بل تصریح بمضمون مانصوا علیہ ان العمل بہ فیما وراء العقائد والاحکام ، کمااوضحناہ لك وبہ ازداد انزھاقا بعد انزھاق ماظن الظانان من ان الکلام فی الاعمال الثابتۃ بالصحاح ، کیف ولوکان کذل لما احیتج الی ھذا الاشتراط کمالایخفی والله  الھادی الی سوی الصراط۔

یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے افادہ سابقہ میں محقق ووافی کے حوالے سے بیان کی اور یہ وہ حقیقت ومعنی ہے جس کی تصریح امام ابن دقیق العید اور سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام نے کی اور شیخ الاسلام حافظ نے ان دونوں کی اتباع کی اور ان کے شاگرد سخاوی نے فتح المغیث اور القول البدیع میں ، سیوطی نے تدریب میں ، شمس الدین محمد رملی نے شرح المنہاج النووی میں اسے نقل کیا ہے یہ چھ۶ شوافع میں سے ہیں ، پھر رملی سے علاّمہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اور محقق ومدقق العلائی نے درمختار میں اسے نقل کیا اور اسے ان دونوں نے اور درمختار کے محشین حلبی ، طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حواشی اور منحہ الخالق میں ثابت رکھا یہ پانچ حنفی ہیں (اور وہ یہ ہے) کہ حدیث ضعیف پر عمل کے لئے شرط یہ ہے کہ کسی عمومی ضابطہ کے تحت داخل ہو اور جب تو اس کی تحقیق کرے تو یہ کوئی زائد قید نہیں بلکہ اسی مضمون کی وضاحت ہے جس کی انہوں نے تصریح کی ہے کہ اس پر عمل عقائد واحکام کے علاوہ میں کیا جائیگا ، جیسا کہ ہم نے پہلے اسے واضح کردیا ہے اور اس سے ان دو علماء کا خوب رَد ہوگیا جو یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ ان اعمال کے بارے میں کلام ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور یہ مطلب اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اگر معاملہ یہ ہوتا تو یہ شرط لگانے کی محتاجی نہ تھی جیسا کہ واضح ہے ، اور الله   تعالٰی سیدھے راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔ (ت)

بحمد لله  اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ بعض متکلمین طائفہ جدیدہ کا زعم باطل کہ ان احادیث سے جوازِ تقلیل ابہامین پر دلیل لانا احکامِ حلال وحرام میں انہیں حجت بنانا ہے اور وہ بتصریح علماء ناجائز ، محض مغالطہ وفریب وہی عوام ہے ذی ہوش نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہی علماء جو حدیث ضعیف کو حلال وحرام میں حجت نہیں مانتے صدہا جگہ احادیث ضعیفہ سے افعال کے جواز واستحباب پر دلیل لاتے ہیں جس کی چند مثالیں افادہ سابقہ میں گزریں کیا معاذالله   علمائے کرام اپنا لکھا خود نہیں سمجھتے یا اپنے مقررہ قاعدہ کا آپ خلاف کرتے ہیں کیا افادہ ہفدہم میں امام ابن امیرالحاج کا ارشاد نہ سنا کہ جمہور علماء کے نزدیك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قابلِ عمل ہے تو کسی فعل کی اباحت قائم رکھنا بدرجہ اولٰی ولکن الوھابیۃ لایسمعون واذا سمعوا لایعقلون رب انی اسألك العفو و العافیۃ اٰمین (وہابی تو سُنتے ہی نہیں ، سُنتے ہیں تو سمجھتے نہیں ، اے میرے رب! میں تجھ سے عفو ومعافی کا سوال کرتا ہُوں ، آمین۔ ت)

افادہ بست۲۳ وسوم (ایسے مواقع میں ہر حدیث ضعیف غیر موضوع کام دے سکتی ہے)اقول اوّلًا : جمہور علماء کے عامہ کلمات مطالعہ کیجئے تو وہ مواقع مذکورہ میں قاببلیت عمل کیلئے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے ، صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو فتح۱ القدیر والفیہ۲ عراقی وشرح۳ الفیۃ للمصنف میں تھا غیر الموضوع [4] (موضوع کے علاوہ ہو۔ ت) مقدمہ۴ ابن الصلاح وتقریب۵ میں ماسوی الموضوع [5](موضوع کے سوا ہو۔ ت) مقدمہ۶ سید



[1]   تدریب الراوی شرح التقریب خطبۃ المؤلف / وفیہا فوائد / حد علم حدیث مطبوعہ نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۴۰

[2]   شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر  ۱ / ۵۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن