30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقال الامام عثمٰن الشھرزوری فی علوم الحدیث حکی ابوعبدالله بن مندۃ الحافظ انہ سمع محمد بن سعد الباوردی بمصر یقول کان من مذہب ابی عبدالرحمٰن النسائی ان یخرج عن کل من لم یجمع علی ترکہ ، وقال ابن مندۃ وکذلك ابوداؤد السجستانی یاخذ ماخذہ ویخرج الاسناد الضعیف اذالم یجد فی الباب وغیرہ لانہ اقوی عندہ من رای الرجال [1] اھ وفیھا بعیدہ ثم فی التقریب والتدریب وھذا لفظھا ملخصا۔ اما مسند الامام احمد بن حنبل وابی داؤد الطیالسی وغیرھما من المسانید کمسند عبیدالله بن موسٰی واسحٰق بن راھویہ والدارمی وعبدبن حمید وابویعلی الموصلی والحسن بن سفین وابی بکر ن البزار فھؤلاء عادتھم ان یخرجوا فی مسند کل صحابی ماورد من حدیثہ غیر مقیدین بان یکون محتجا بہ اولا [2] الخ وفیہ اعنی التدریب قیل ومسند البزار یبین فیہ الصحیح من غیرہ قال العراقی ولم یفعل ذلك الا قلیلا [3] وفی البنایۃ عــــہ۱ شرح الھدایۃ للعلامۃ الامام البدر العینی الدارقطنی کتابہ مملومن الاحادیث الضعیفۃ والشاذۃ والمعللۃ وکم فیہ من حدیث لایوجد فی غیرہ [4] اھ وذکر اشد منہ للخطیب ونحوہ للبیہقی۔ وفی فتح المغیث عــــہ۲ یقع ایضا فی صحیح ابی عوانۃ الذی عملہ مستخرجا علی مسلم احادیث کثیرۃ زائدۃ علی اصلہ وفیھا الصحیح والحسن بل والضعیف ایضا فینبغی التحرز فی الحکم علیھا ایضا [5] اھ نصوص العلماء فی ھذا الباب کثیرۃ جدا وما اوردنا کاف فی ابانۃ ماقصدنا ، وبالجملۃ فروایتھم الضعاف من دون بیان فی کل باب وان لم یوجد الصحیح معلوم مقرر لا یرد ولاینکر ، وانما اطنبنا ھھنا لماشممنا خلافہ من کلمات بعض الجلۃ ، والحمد لله علی کشف الغمۃ وتبثیت القدم فی الزلۃ فاستبان ان لوکان المراد مازعم ھذا الذی نقلنا قولہ لکانت التفرقۃ بین الاحکام والضعاف قدانعدمت ، والمسألۃ الاجماعیۃ من اساسھا قدانھدمت ھذا وجہ ولك ان تسلك مسلك ارخاء العنان وتقول علی وجہ التشقق ان الحکم الذی رویت فیہ الضعاف مطلقۃ ھل یوجد فیہ صحیح ام لافان وجد فقد رووا الضعیف ساکتین فی الاحکام ایضا عند وجود الصحیح فاین الفرق وان لم یوجد فالامرا شد فان التجأ ملتج الی انھم یعدون سوق الاسانید من البیان ای فلم یوجد منھم روایۃ الضعاف فے الاحکام الامقرونۃ :
قلت اوّلًا : ھذا شیئ قد یبدیہ بعض العلمآء عذرا ممن روی الموضوعات ساکتا علیھا ثم ھم لایقبلون قال الذھبی عــــہ۱ فی المیزان کلام ابن مندۃ فی ابی نعیم فظیع لا احب حکایتہ ولا اقبل قول کل منھما فی الآخر بل ھما عندی مقبولان لااعلم لھما ذنبا اکبر من روایتھما الموضوعات ساکتین عنھا [6] اھ۔ وقدقال العراقی عــــہ۲ فی شرح الفیتہ ان من ابرز اسنادہ منھم فھو ابسط لعذرہ اذ أحال ناظرہ علی الکشف عن سندہ وان کان لایجوزلہ السکوت علیہ [7]اھ۔
ثانیا : لایعھد منھم ایراد الاحادیث من ای باب کانت الامسندۃ فھذا البیان لم تنفك عنہ احادیث الفضائل ایضًا فبماذا تساھلوا فی ھذا دون ذلک۔
اور امام عثمان شہرزوری نے علوم الحدیث میں فرمایا : ابوعبدالله بن مندہ حافظ نے بیان کیا کہ انہوں نے مصر میں محمد بن سعد باروردی سے یہ کہتے ہُوئے سُنا “ ابوعبدالرحمن نسائی کا مذہب یہ ہے کہ ہر اس شخص سے حدیث کی تخریج کرتے ہیں جس کے ترك پر اجماع نہ ہو ، اور ابن مندہ نے کہا ، اسی طرح ابوداؤد سجستانی اس کے ماخذ کو لیتے اور سند ضعیف کی تخریج کرتے ہیں جبکہ اس باب میں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث موجود نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیك وہ لوگوں کی رائے وقیاس سے قوی ہے اھ اور اس میں تھوڑا سا بعد میں ہے پھر تدریب وتقریب میں ہے اور یہ الفاظ ملخصًا ان دونوں کے ہیں ، مسند امام احمد بن حنبل ، ابوداؤد طیالسی اور ان کے علاوہ دیگر مسانید مثلًا مسند عبیدالله بن موسٰی ، مسند اسحٰق بن راہویہ ، مسند دارمی ، مسند عبد بن حمید ، مسند ابویعلی موصلی ، مسند حسن بن سفیان ، مسند ابوبکر بزار ان تمام کا طریقہ یہی ہے کہ مسند میں ہر صحابی سے مروی حدیث بیان کردیتے ہیں اس قید سے بالاتر ہوکر کہ یہ قابلِ استدلال ہے یا نہیں الخ اور اس یعنی تدریب میں ہے کہ بیان کیا گیا ہے کہ مسند بزاار وہ ہے جس میں احادیث صحیحہ کو غیر صحیحہ سے جُدا بیان کیا جاتا ہے۔ عراقی کہتے ہیں کہ ایسا انہوں نے بہت کم کیا ہے۔ امام بدرالدین عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے کہ دارقطنی کتاب احادیث ضعیفہ ، شاذہ اور معلله سے پُر ہے اور بہت سی احادیث اس میں ایسی ہیں جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں اھ اور خطیب کے لئے اس سے بڑھ کر شدت کا ذکر ہے اور اسی کی مثل بہیقی کے لئے ہے۔ اور فتح المغیث میں ہے کہ صحیح ابو عوانہ جو مسلم پر احادیث کا استخراج کرتے ہُوئے اصل پر بہت کچھ زائدہ احادیث نقل کی ہیں ان میں صحیح ، حسن بلکہ ضعیف بھی ہیں لہذا ان پر حکم لگانے سے خوب احتراز واحتیاط چاہے اھ علماء کی تصریحات اس معاملہ میں بہت زیادہ ہیں اور جو ہم نے نقل کردی ہیں ہمارے مقصود کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں ، الغرض محدثین نے ضعیف احادیث بغیر نشاندہی کے ہر مسئلہ میں ذکر کی ہیں اگرچہ اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہ پائی گئی ہو اور یہ بات معلوم ومسلّم ہے ، نہ اسے رَد کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا انکار ممکن ہے۔ ہم نے یہ طویل گفتگو اس لئے کردی ہے کہ بعض بزرگوں کے کلام سے ہم نے اس کے خلاف محسوس کیا تھا۔ الله تعالٰی کے لئے ہی حمد ہے جس نے تاریکی دُور کردی اور پھسلنے کے مقام پر ثابت قدم رکھا پس اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر ان کی مراد وہی ہے جو ہم نے ان کا قول نقل کیا تو پھر احکام اور ضعاف کے درمیان تفریق ختم ہوگی اور اجماعی مسئلہ کی بنیاد منہدم ہوگئی ایك تو یہ توجیہ ہے اور ایك دوسری آسان راہ اختیار کرتے ہوئے علی وجہ التشقق یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ حکم جس کے بارے میں مطلقًا ضعیف حدیثیں مروی ہوں دیکھا جائیگا اس میں کوئی صحیح حدیث پائی جاتی ہے انہیں اگر حدیث صحیح پائی جائے تو لازم آیا کہ انہوں نے حدیث ضعیف احکام میں بھی صحیح کے ہوتے ہوئے سکوتًا روایت کی ہے تو اب فرق کہاں ہے؟ اور اگر موجود نہ ہوتو معاملہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے اگر معترض یہ کہہ دے کہ محدثین سوقِ سند کو ہی بیان قرار دیتے ہیں ، پس اس صورت میں احکام میں ضعیف حدیثوں کی روایت سکوتًا نہ ہوگی بلکہ بیان کے ساتھ ہوگی تو اس کے جواب میں ـ :
میں کہتا ہوں اولًا : یہ وہ چیز ہے جس کو بعض علماء نے ان لوگوں کی طرف سے عذر کے طور پر پیش کیا جو موضوعات کو سکوتًا روایت کرتے ہیں پھر انہیں قبول نہیں کرتے۔ ذہبی نے میزان میں کہا کہ ابونعیم کے بارے میں ابن مندہ کا کلام نہایت ہی رکیك ہے میں اسے بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ان دونوں کا کوئی قول ایك دوسرے کے بارے میں نہیں سنتا بلکہ یہ دونوں میرے نزدیك مقبول ہیں اور میں ان کا سب سے بڑا گناہ یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے روایاتِ موضوعہ کو سکوتًا روایت کیا ہے اور انکی نشان دہی نہیں کی اھ۔
عراقی نے شرح الفیہ میں کہا ہے کہ ان میں سے جس نے اپنی سند کو واضح کیا تو اس نے اپنا عذر طویل کیا کیونکہ اس طرح اس نے ناظر کو سند کے حال سے آگاہ کیا ہے اگرچہ اس کے لئے اس پر سکوت جائز نہ تھا اھ۔ ثانیا : ان کے ہاں ہر باب میں یہ معروف ہے کہ اس میں مسند احادیث لائی جائیں گی تو اس بیان سے احادیث فضائل بھی الگ نہیں ، پھر ان میں تساہل کیوں اور دُوسری روایات میں نہ ہو۔
عــــہ ۱ : فی مسئلۃ الجھر فی البسملۃ ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : فی الصحیح الزائد علی الصحیحین۔ (م)
بسم الله کو جہرًا پڑھنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے (ت)
صحیحین پر زائد صحیح کے بیان میں اسے ذکر کیا ہے (ت)
عــــہ ۱ : فی احمد بن عبدالله ۱۲ منہ (م)
[1] مقدمۃ ابن الصلاح النوع الثانی فی معرفۃ الحسن مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص۱۸
[2] تدریب الراوی شرح التقریب النواوی مرتبۃ المسانید من الصحۃ مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۱
[3] تدریب الراوی شرح التقریب النواوی اول من صنف مسندا مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۷۴
[4] البنایۃ شرح الہدایۃ باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ملك سنز کارخانہ بازار فیصل آباد ۱ / ۶۲۸
[5] فتح المغیث الصحیح الزائد علی الصحیحین دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع