دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

لازم آتا ہے کہ ایسا عمل کرتے ہیں جسے وہ جائز نہ سمجھتے تھے اور اگر کوئی یہ زعم رکھتا ہوکہ وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کا عمل اس کے برخلاف خود شاہد ہے ، امام ابوداؤد کو ہی لیجئے ان کے لئے حدیث اسی طرح آسان کردی گئی جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم ہوجاتا تھا ، اہل مکہ “ شرفہا الله  تعالٰی “ کی طرف خط میں لکھا : میری کتاب (سنن ابی داؤد) میں جن بعض احادیث کے اندر نہایت سخت قسم کا ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے ، اور بعض ایسی ہیں کہ ان کی سند صحیح نہیں اور جس کے بارے میں میں کچھ ذکر نہ کروں وہ استدلال کے لئے صالح ہیں اور بعض احادیث دوسری بعض کے اعتبار سے اصح ہیں اھ۔ اور صحیح وہ ہے جس کا امام حافظ نے افادہ فرمایا ہے کہ ابوداؤد کے کلام میں لفظ صالح استدلال اور اعتبار دونوں کو شامل ہے ، پس جو حدیث صحت پھر حسن کے درجہ پر پہنچے وہ معنی اول کے لحاظ سے صالح ہے اور جو ان دونوں کے علاوہ ہے وہ معنی ثانی کے لحاظ سے صالح ہے  اور جو اس سے بھی کم درجہ پر ہے وہ ایسی ہوگی جس میں ضعفِ شدید ہے اھ نفس الامر اس پر شاہد ہے اور تجھ پر یہی لازم ہے اگرچہ قبل کے طور پر کیا گیا ہے۔

عــــہ قلت واما اخوہ المھیمن فاضعف واضعف ضعفہ النسائی والدارقطنی وقال البخاری منکر الحدیث ای فلاتحل الروایۃ عنہ کمامر لاجرم ان قال الذھبی فی اخیہ ابی انہ واہ ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ۔ (م)

میں کہتا ہوں اس کا بھائی عبدالمہیمن ہے اور وہ اضعف الضعاف ہے اسے نسائی اور دارقطنی نے ضعیف کہا ، بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا یعنی اس سے روایت کرنا جائز نہیں جیسا کہ گزرا لاجرم ذہبی نے اسے اس کے بھائی ابی کے بارے میں کہا کہ وہ نہایت ہی کمزور ہے ۱۲ منہ (ت) 

 

عــــہ :  اواخر القسم الثانی الحسن ۱۲ منہ (م)   

عــــہ :  ای قیل حسن عندہ واختارہ الامام المنذری وبہ جزم ابن الصلاح فی مقدمتہ وتبعہ الامام النووی فی التقریب ای وقد لایکون حسنا عندغیرہ کمافی ابن الصلاح وقیل صحیح عندہ ومشی علیہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عنہ ذکر حدیث القلتین وتبعہ العلامہ حلبی فی الغنیۃ فی فصل فے التوافل وکذلك یقال ھھنا انہ قدلایصح عند غیرہ بل ولایحسن واما الامام ابن الھمام فی الفتح اھل الکتاب وتلمیذہ فی الحلیۃ قبیل صفۃ الصلاۃ فاقتصرا علی الحجیۃ وھی تشملھما فیقرب من قول من قال حسن وھذا الذی ذکرہ الحافظ وتبعہ فیہ العلامۃ القسطلانی فی مقدمۃ الارشاد وختم الحفاظ فی التدریب فی فروع فی الحسن قال لکن ذکر ابن کثیر انہ روی عنہ ماسکت عنہ فھو حسن فان صح ذلك فلااشکال [1]  اھ اقول :  لقائل ان یقول ان للحسن اطلاقات وان القدماء قل ماذکروہ وانما الترمذی ھو الذی شھرہ وامرہ فاید ربنا انہ ان صح عنہ ذلك لم یرد بہ الاھذا لا الذی استقر علیہ الاصطلاح فافھم والله  تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)

یعنی بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ حسن ہے ، اسے امام منذری نے اختیار کیا ، اسی پر ابن صلاح نے مقدمہ میں جزم کیا اور امام نووی نے تقریب میں اسی کی اتباع کی یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ حسن نہیں ہوتی جیسے کہ مقدمہ ابن صلاح میں ہے ، اور بعض نے کہا کہ اس کے نزدیك وہ صحیح ہے ، امام زیلعی نصب الرایہ میں قلتین والی حدیث کے ذکر میں اسی پر چلے ہیں ۔ اور علّامہ حلبی نے غنیۃ المستملی کی فصل فی النوافل میں اسی کی اتباع کی ہے اور اسی طرح یہاں کہا جائے گا یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ صحیح نہیں بلکہ حسن بھی نہیں ہوتی۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر ابتدائے کتاب میں اور ان کے شاگرد نے حلیۃ المحلی میں صفۃ الصلٰوۃ سے تھوڑا پہلے اس کے صحیح ہونے پر اقتصار کیا ہے اور یہ بات ان دونوں اقوال کو شامل ہے پس یہ اس کے قول کے قریب ہے جس نے کہا وہ حسن ہے یہ وہ ہے جس کا ذکر حافظ نے کیا ہے اور مقدمہ ارشاد الساری میں علامہ قسطلانی نے اسی کی اتباع کی ہے اور تدریب میں خاتم الحفاظ نے بیان فروع فی الحسن ، لیکن ابن کثیر نے کہا کہ ان سے ہے کہ جس پر انہوں نے سکوت کیا ، وہ حسن ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہوتو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اھ اقول : (میں کہتا ہوں ) کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حسن کے تو مختلف اطلاقات ہیں بہت کم قدماء نے اس کا ذکر کیا ہے صرف امام ترمذی نے اس کو شہرت دی اور اس کا اجراء کیا ، پس الله   رب العزت نے ہماری تائید فرمائی کہ اگر ان سے یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہوجائے تو انہوں نے اس سے یہی مراد لی ہے نہ وہ جس پر اصطلاح قائم ہوچکی ہے والله  تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)

حفظ اوید فمثل ھذا یسکت عنہ ابوداود غالبا [2] الخ۔ ومعلوم ان کتاب ابی داؤد انما موضوعہ الاحکام وقدقال فی رسالتہ انمالم اصنف فی کتاب السنن الا الاحکام ولم اصنف فی الزھد وفضائل الاعمال وغیرھا [3] الخ۔ وقال الشمس محمدن السخاوی فی فتح المغیث اما حمل ابن سید الناس فی شرحہ الترمذی قول السلفی علی مالم یقع التصریح فیہ من مخرجھا وغیرہ بالضعف ، فیقتضی کما قال الشارح فی الکبیر ان ماکان فی الکتب الخمسۃ مسکونا عنہ ولم یصرح بضعفہ ان یکون صحیحا ، ولیس ھذا الاطلاق صحیحا بل فی کتب السنن احادیث لم یتکلم فیھا الترمذی او ابوداود ولم ینجد لغیرھم فیھا کلاما ومع ذلك فھی ضعیفۃ [4]  اھ۔ وقال فی المرقاۃ الحق ان فیہ “ ای فی مسند الامام لمحمد رضی الله  تعالٰی عنہ “ احادیث کثیرۃ ضعیفۃ وبعضھا اشد فی الضعف من بعض [5] الخ۔ ونقل بعیدہ عن شیخ الاسلام الحافط انہ قال لیست الاحادیث الزائدۃ فیہ علی مافی الصحیحین باکثر ضعفا من الاحادیث الزائدۃ فی سنن ابی داؤد والترمذی علیھا وبالجملۃ فالسبیل واحد فمن اراد الاحتجاج بحدیث من السنن لاسیما سنن ابن ماجۃ ومصنف ابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق مما الامر فیہ اشد او بحدیث من المسانید لان ھذہ کلھا لم یشترط جامعوھا الصحۃ والحسن وتلك السبیل ان المحتج انکان اھلا للنقل والتصحیح فلیس ببلہ ان یحتج بشیئ من القسمین حتی یحیط بہ وان لم یکن اھلا لذلك فان وجد اھلا لتصحیح اوتحسین قلدہ والا فلایقدم علی الاحتجاج فیکون کحاطب لیل فلعہ یحتج بالباطل وھو لایشعر [6] اھ۔

اور امام ذہبی کی اعلام سیر النبلا سے منقول ہے کہ جس حدیث کی سند ضعیف اس کے راوی کا حفظ ناقص ہونے کی وجہ سے ہوتو ایسی حدیث کے بارے میں ابوداؤد سکوت اختیار کرتے ہیں الخ۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ ابوداؤد شریف کا موضوع احکام ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں یہ بات کہی ہے میں نے یہ کتاب احکام ہی کے لئے لکھی ہے زہد اور فضائل اعمال وغیرہ کے لئے نہیں الخ۔ اور شمس محمد سخاوی نے فتح المغیث میں بیان کیا ہے کہ ابن سید الناس نے اپنی شرح ترمذی نے قول سلفی کو ایسی حدیث پر محمول کیا ہے جس کے بارے میں اس کے مخرج وغیرہ کی ضعف کے ساتھ تصریح واقع نہیں ہوئی۔ پس اس کا تقاضا ہے جیسا کہ شارح نے کبیر میں کہا کہ کتب خمسہ میں جس حدیث پر سکوت اختیار کیا گیا ہو اور اس کے ضعف کی تصریح نہ کی گئی ہو وہ صحیح ہوگی حالانکہ یہ اطلاق صحیح نہیں کیونکہ کُتبِ سنن میں ایسی احادیث موجود ہیں جن پر ترمذی یا ابوداؤد نے کلام نہیں کیا اور نہ ہی کسی غیر نے ہمارے علم کے مطابق ان میں گفتگو کی ہے اسکے باوجود وہ احادیث ضعیف ہیں اھ۔ اور مرقات میں فرمایا : حق یہ ہے کہ اس یعنی مسند احمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں بہت سی احادیث ایسی ہیں جو ضعیف ہیں اور بعض دوسری بعض کے اعتبار سے زیادہ ضعیف ہیں الخ۔ اور تھوڑا سا اس کے بعد شیخ الاسلام حافظ سے نقل کیا کہا کہ اس میں (یعنی مسند احمد بن حنبل میں صحیحین پر جو زائد احادیث ہیں وہ سنن ابی داؤد اور ترمذی میں صحیحین پر زائد احادیث سے زیادہ ضعیف نہیں ہیں ۔ الغرض راستہ ایك ہی ہے اس شخص کے لئے جو احادیث سنن سے استدلال کرنا چاہتا ہے خصوصا سنن ابن ماجہ ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق۔ کیونکہ ان میں بعض کا معاملہ سخت ہے یا استدلال ان احادیث سے جو مسانید میں ہیں کیونکہ ان کے جامعین نے صحت وحسن کی کوئی شرط نہیں رکھی اور وہ راستہ یہ ہے کہ استدلال کرنے والا اگر نقل وتصحیح کا اہل ہے تو اس کے لئے ان سے استدلال کرنا اس وقت درست ہوگا جب ہر لحاظ سے دیکھ پرکھ لے اور اگر وہ اس بات کا اہل نہیں تو اگر ایسا شخص پائے جو تصحیح وتحسین کا اہل ہے تو اس کی تقلید کرے اور اگر ایسا شخص نہ پائے تو وہ استدلال کے لئے قدم نہ اٹھائے ورنہ وہ رات کو لکڑیاں اکٹھی کرنے والے کی طرح ہوگا ، ہوسکتا ہے وہ باطل کے ساتھ استدلال کرلے اور اسے اس کا شعور نہ ہو اھ۔

 



[1]   تدریب الراوی شرح تقریب النووی فروع فی الحسن دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۶۸

[2]   سیر اعلام النبلاء ترجمہ نمبر ۱۱۷ ابوداؤد بن اشعت مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ / ۲۱۴

[3]   رسالہ مع سنن ابی داؤد الفصل الثانی فی الامور التی تعلق بالکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۵

[4]   فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للسخاوی القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۱۰۰ و ۱۰۱

[5]   مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوہع مکتبہ امداد ملتان ۱ / ۲۳

[6]   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن