30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صحیحہ قال فیہ الامام ابوحاتم صدوق الا انہ من اروی الناس عن الضعفاء والمجھولین [1] اھ ولوسردت اسماء الثقات الرواۃ عن المجروحین لکثر وطال فلیس منھم من التزم ان لایحدث الا عن ثقۃ عندہ الانزر قلیل کشعبۃ ومالك واحمد فی المسند ومن شاء الله تعالٰی واحدا بعد واحد ثم ھذا ان کان ففی شیوخھم خاصۃ لامن فوقھم والا لما اتی من طریقھم ضعیف اصلا ولکان مجرد وقوعھم فی السند دلیل الصحۃ عندھم اذاصح السند الیھم ولم یثبت ھذا لاحد ، وھذا الامام الھمام یقول لابنہ عبدالله لواردت ان اقتصرہ علی ماصح عندی لم ار ومن ھذا المسند الا الشیئ بعد الشیئ ولکنك یابنی تعرف طریقتی فی الحدیث انی لااخالف مایضعف الا اذاکان فی الباب شیئ یدفعہ [2] ذکرہ فی فتح المغیث عــــہ واما المصنفون فاذا عدوت امثال الثلٰثۃ للبخاری ومسلم والترمذی ممن التزم الصحۃ والبیان الفیت عامۃ المسانید والمعاجیم والسنن والجوامع والاجزاء تنطوری فی کل باب علی کل نوع من انواع الحدیث من دون بیان ، وھذا مما لاینکرہ الاجاھل اومتجاھل فان ادعی مدع انھم لایستحلون ذلك فقد نسبہم الی افتخام مالایبیحون وان زعم زاعم انھم لایفعلون ذلك فھم بصنیعھم علی خلفہ شاھدون وھذا ابوداؤد الذی الین لہ الحدیث کماالین لداود علیہ الصلاۃ والسلام الحدید ، قال فی رسالتہ الٰی اھل مکۃ شرفھا الله تعالٰی ان ماکان فی کتابی من حدیث فیہ وھن شدید فقدبینتہ ومنہ مالایصح سندہ ومالم اذکر فیہ شیئا فھو صالح وبعضھا اصح من بعض [3] اھ۔
والصحیح ماافادہ الامام الحافظ ان لفظ صالح فی کلامہ اعم من ان یکون للاحتجاج اوللاعتبار فما ارتقی الی الصحۃ ثم الی الحسن فھو بالمعنی الاول وماعداھما فھو بالمعنی الثانی وماقصر عن ذلك فھو الذی فیہ ومن شدید [4] اھ وھذا الذی یشھدبہ الواقع فعلیك بہ وان قیل وقیل عــــہ۔ وقدنقل عن اعلام سیرا النبلاء للذھبی ان ماضعف اسنادہ لنقص
ثانیا میں کہتا ہوں کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ قبول کا مرجع جوازِ عمل ہے تو اب اس کے اطبال کے لئے “ خامسًا “ سے ہماری مذکورہ دلیل مع مذکور گفتگو کے کافی ہے۔
ثالثا اب حاصل فرق یہ ہوگا کہ احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کی روایت جائز نہیں اگرچہ اس خصوصی مسئلہ کے بارے میں حدیث صحیح موجود ہو مگر صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس کا ضعف بیان کردیا جائے مگر احکام کے علاوہ فضائل میں اگر اس خصوصی مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح پائی جائے تو ضعیف کی روایت جائز ہے اگر حدیث صحیح نہ ہوتو جائز نہیں مگر بیان ضعف کے ساتھ جائز ہے اب ان ہزارہا کتب کا کیا بنے گاجن میں ایسی احادیث ضعیفہ مروی ہیں جو سِیر ، واقعات ، وعظ ، ترغیب وترہیب ، فضائل اور باقی حدیثیں جن کا تعلق عقیدہ اور احکام سے نہیں اس کے ساتھ ساتھ خاص اس مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح بھی موجود نہ ہو اور ضعیف حدیث کا ضعف بھی بیان نہ کیاگیا ہو یہ وہ ہے جس کی طرف دوانی نے “ علاوۃ “ کے سااتھ اشارہ کیا ہے۔ اقول : ان مسانید کی وسعت کو چھوڑئےے جو صحابی سے روایات بیان کرتی ہیں اور معاجیم جو شیخ سے محفوظ شدہ احادیث کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ جوامع جو اس باب میں وارد شدہ احادیث میں اعلٰی قسم کی روایات جمع کرتی ہیں اگرچہ سند صحیح نہ ہو مثلًا حدیث کے عظیم پہاڑ امام بخار اپنی صحیح میں کہتے ہیں ہمیں علی بن عبدالله بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ہمیں معن بن عیسٰی نے حدیچ بیان کی ، ہمیں ابن عباس بن سہل نے اپنے باپ سے اپنے دادا سے حدیث بیان کی ، فرمایا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ہمارے ہمارے باغ میں ایك گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا اھ۔ امام ذہبی نے تذہیب التہذیب میں لکھا کہ اُبی بن عباس بن سہلی بن سعد الساعدی مدنی نے اپنے والد گرامی اور ابربکر بن حزم سے روایت کیا اور ان سے معن القزار ، ابن ابی فدیک ، زید بن الحباب اور ایك جماعت نے روایت کیا ، دولابی کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں ۔ میں کہتا ہوں اسے ابنِ معین نے ضعیف کہا اور امام احمد کے نزدیك یہ منکر الحدیث ہے اور میزان میں ہے نسائی کا قول دولابی کی طرح ہی ہے اور دونوں کتب میں اس کے بارے میں کسی کی توثیق منقول نہیں ، دارقطنی نے اسی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ لاجرم حافظ نے کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور کہا کہ بخاری میں اس ایك حدیث کے علاوہ اس کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابوعبدالله کے بارے میں گمان ہے کہ انہوں نے تساہل سے کام لیا ، کیونکہ اس حدیث کا تعلق احکام سے نہیں ، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
رابعًا میں کہتا ہوں کہ متابع اور شواہد میں احادیث ضعیفہ کا ایراد شائع اور مشہور ہے لہذا حدیث صحیح کی موجودگی میں احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کے مطلقًا روایت کرنے کو منع کرنا صریحًا باطل ہے ، او راس صورت میں فرق مرتفع ہوجاتا ہے اور اس مسئلہ کی اساس جس پر علماءِ مشرق ومغرب کا اتفاق ہے گر کر ختم ہوجاتی ہے یہ میں اس یا اُس (یعنی عام آدمی) کی بات نہیں کرتا بلکہ علم حدیث کے دوبلند اور مضبوط پہاڑ بخاری ومسلم کی صحیحین کہ وہ اصول کے علاوہ میں اپنے شرائط سے بہت زیادہ تنزل میں آگئیں ، امام نووی نے مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرمایا کہ عیب لگانے والوں نے مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ پر یہ طعن کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت سے ضعیف اور متوسط راویوں سے روایت لی ہے جو دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور صحیح کی شرط پر نہیں ، حالانکہ اس معاملہ میں ان پر کوئی طعن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا کئی طریقوں سے جواب دیا گیا ہے جنہیں امام ابوعمرو بن صلاح نے ذکر کیا (یہاں تك کہ کہا) دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بات ان روایات میں ہے جنہیں بطور متابع اور شاہد ذکر کیا گیا ہے اصول میں ایسا نہیں کیا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایك ایسی حدیث ذکر کی جس کی سند درست ہو اور تمام راوی ثقہ ہوں اور اس حدیث کو اصل قرار دے کر اسکے بعد بطور تابع ایك اور سند یا متعدد اسناد ایسی ذکر کی جائیں جن میں بعض راوی ضعیف ہوں تاکہ متابعت کے ساتھ تاکید ہو یا کسی اور مذکور فائدے پر تنبیہ کا اضافہ مقصود ہو ، امام حاکم ابوعبدالله نے عذر پیش کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ جن میں صحیح کی شرط نہیں ان کو بطور تابع اور شاہد روایت کیاگیا ہے ، اور ان روایت کرنے والوں میں یہ محدثین ہیں مطرالوراق ، بقیۃ بن الولید ، محمد بن اسحٰق بن یسار ، عبدالله بن عمر العمری اور نعمان بن راشد ، امام مسلم نے ان سے شواہد کے طور پر متعدد روایات تخریج کی ہیں انتہٰی۔ امام بدرالدین عینی نے مقدمہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں تحریر کیا ہے کہ توابع اور شواہد میں بعض ضعفاء کی روایات بھی آئی ہیں اور صحیح میں ایك جماعت محدثین نے توابع اور شواہد کے طور پر ایسی روایات ذکر کی ہیں اھ (ت)
خامسا : ضعیف اور متوسط راوی کی روایت کی بات صرف غیر اصول وشواہد متابعات سے مختص کرنے کی مجھے کیا ضرورت ، جبکہ کمزور اغیر صحیح روایات کا یہ ایك ذخیرہ ہے جو اصول واحکام میں مروی ہے اگر علماء ہی ان کو ذکر نہ کریں تو کون ذکر کریگا اور بہت کم ہیں جنہوں نے یہاں اس بات کا التزام کیا۔ رہا معاملہ راویوں کا تو ان کے ہاں روایت کے ساتھ بیان کا طریقہ معروف نہیں ، البتہ کسی خاص ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر بیان بھی کردیا جاتا ہے اور ان میں سلفًا وخلفًا یہ معمول ہے کہ ضعیف اور مجہول راویوں سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس بات کو ان میں طعن وگناہ شمار نہیں کیا جاتا دیکھنے سلیمان بن عبدالرحمن ومشقی جو کہ حافظ ہیں اور امام بخاری کے استاذ ہیں اور صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں ان کے بارے میں امام ابوحاتم کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے اگرچہ ان لوگوں میں سے ہے جو ضعیف اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ روایت کرنے والے ہیں اھ۔ اگر میں ان ثقہ محدثین کے نام شمار کروں جنہوں نے مجروح راویوں سے روایت کی ہے تو یہ داستان طویل ہو اور ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جس نے یہ التزام کیا ہوکہ وہ اسی سے روایت کرے گا جو اس کے نزدیك ثقہ ہو مگر بہت کم محدثین مثلًا شعبہ ، امام مالك اور احمد نے مسند میں اور کوئی اِکّا دُکّا جس کو الله تعالٰی نے توفیق دی ، پھر ان کے ہاں بھی یہ معاملہ ان کے اپنے شیوخ تك ہی ہے اس سے اوپر نہیں ورنہ ان کی سند سے کوئی ضعیف حدیث مروی نہ ہوتی اور محدثین کے ہاں ان میں سے کسی کا سند میں آجانا صحتِ حدیث کے لئے کافی ہوتا ہے جبکہ صحت کے ساتھ سندان تك پہنچی ہو حالانکہ یہ بات کسی ایك کے لئے بھی ثابت نہیں ، یہ امام احمد اپنے بیٹے عبدالله کو فرماتے ہیں : اگر میں اس بات کا ارادہ کرتا کہ میں ان ہی احادیث کی روایت پر اکتفا کروں گا جو میرے ہاں صحیح ہیں تو پھر اس مسند میں بہت کم احادیث روایت کرتا ، مگر اے میرے بیٹے! تُو روایت حدیث میں میرے طریقے سے آگاہ ہے کہ میں حدیث ضعیف کی مخالفت نہیں کرتا مگر جب اس باب میں مجھے کوئی ایسی شیئ مل جائے جو اسے رَد کردے یہ فتح المغیث میں مذکور ہے ، باقی رہیں محدثین کی تصنیفات تو اگر آپ امثال الکتب بخاری ومسلم اور ترمذی تینوں کتابوں کو سے تجاوز کریں جنہوں نے صحت وبیان کا التزام کرر رکھا ہے تو آپ اکثر مسانید ، معاجیم ، سنن ، جوامع اور اجزا کے ہر باب میں ہر قسم کی احادیث بغیر بیان کے پائیں گے اس بات کا انکار جاہل یا متجاہل ہی کرسکتا ہے اور اگر کوئی دعوٰی کرے کہ محدثین کے ہاں یہ جائز نہیں تو یہ ان کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا ہے جس سے
[1] میزان الاعتدال ترجمہ سلیمان بن عبدالرحمان الدمشقی نمبر ۳۴۸۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۲۱۳
[2] فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱ / ۹۶
[3] مقدمہ سنن ابی داؤد ، فصل ثانی آفتاب عالم پریس لاہور ص۴
[4] ارشاد الساری بحوالہ حافظ ابن حضر مقدمہ کتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع