30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انیکون مرادہ ذلک ، فکم بین جواز العمل واستحبابہ وبین مجرد نقل الحدیث فرق ، علی انہ لولم یثبت الحدیث الصحیح و الحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال یجوز نقل الحدیث الضعیف فیھا ، لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ ومثل ذلك فی کتب الحدیث وغیرہ شائع یشھدبہ من تتبع ادنی تتبع [1]اھ
علاوہ ازیں میں کہتا ہوں انتہائے گفتگو کے بعد اب عمل کا معنی عمل منصوص پر اجر مخصوص کی امید دلانا ہے یعنی شیئ مستحب جس کا استحباب واضح ہے پر عمل کرنا اور اس میں خصوص ثواب کی امید کرنا جائز ہوگا اس لئے کہ اس بارے میں حدیث ضعیف موجود ہے اب ہم اس امید کے بارے میں تم سے پُوچھتے ہیں کیا یہ اسی رجاء کی مثل ہے جو حدیث صحیح کی وجہ سے ہوتی ہے اگر وہ وارد ہو یا اس سے کم درجہ کی ہے پہلی صورت باطل ہے کیونکہ صحتِ حدیث کسی ایسی روایت پر جابر نہیں ہوسکتی جو کسی مخصوص ثواب کے بیان کے لئے وارد ہو اور دوسری صورت میں اس قدر رجاء کے لئے حدیث ضعیف ہی کافی ہے تو اب کسی مخصوص فعل کے لئے حدیث صحیح کے وارد ہونے کی ضرورت نہ رہی ، ہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ فعل ایسے اعمال میں سے ہوکہ شریعت نے اس پر ثواب کی امید دلائی ہو اور یہ حاصل ہے اصل مطلوب کے تحت اندراج کا یا مباح بقصد مندوب کا تو اب واضح ہوگیا کہ دلیل محقق دوانی کے ساتھ ہے والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
ان میں سے دوسرے دوانی سے پہلے کے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے یہ گمان کیا کہ امام نووی نے اربعین اور اذکار میں جو گفتگو کی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت کے بارے میں حدیث صحیح یا حسن ثابت ہوتو اس کے بارے میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے ، محقق دوانی نے انموذج العلوم میں اسے نقل کرنے کے بعد لکھا مخفی نہ رہے کہ اس زعم کا امام نووی کے کلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں چہ جائیکہ یہ انکی مراد ہو کیونکہ اکثر طور پر جواز عمل واستحباب عمل اور محض نقل حدیث کے درمیان بڑا فرق ہوتا ہے ، علاوہ ازیں اگر کسی عمل کی فضیلت میں حدیث صحیح یا حسن ثابت نہ بھی ہو تب بھی اس میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے ، خصوصًا اس تنبیہ کے ساتھ نقل کرنا کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی مثالیں کتب حدیث اور دیگر کتب میں کثیر ہیں اور اس بات پر ہر وہ شخص گواہ ہے جس نے اس کا تھوڑا سا مطالعہ بھی کیا ہے اھ (ت)
اقول : لااری احدا ممن ینتمی الی العلم ینتھی فی الغباوۃ الی حدیحیل روایۃ الضعاف مطلقا حتی مع بیان الضعف فان فیہ خرقا لاجماع المسلمین وتاثیما بین لجمیع المحدثین وانما المراد الروایۃ مع السکوت عن بیان الوھن فقول المحقق لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ ، لیس فی محلہ والآن نعود الی تزییف مقالتہ فنقول اوّلا ھذا الذی ابدیج ان سلم وسلم لم یتمش الافی لفظ القبول کمااشرنا الیہ سابقا فمجرد روایۃ حدیث لوکان عملا بہ لزم ان یکون من روی حدیثا فی الصلاۃ فقد صلی اوفی الصوم فقدصام وھکذا مع ان الواقع فی کلام الامام فی کلاالکتابین انما ھو لفظ العمل وھذا مااشار الیہ الدوانی بقولہ ان ھذا لایرتبط الخ
اقول : میں ایسے کسی اہلِ علم کو نہیں جانتا جو غباوت کے اس درجہ پر پہنچ چکا ہوکہ حدیث ضعیف کا ضعف بیان کررنے کے باوجود اس کی روایت کو مطلقًا محال تصور کرتا ہو کیونکہ اس میں اجماع مسلمین کی مخالفت ہے اور واضح طور پر تمام محدثین کو گناہ کا مرتکب قرار دینا ہے ، لہذا مراد یہ ہے کہ ضعف بیان کےے بغیر روایت حدیث ہوتو درست ہے لہذا محقق دوانی کا قول “ لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ “ بجا نہیں ۔ اب ہم اس کے قول کی کمزوری کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں : اولًا اگر یہ بیان کردہ قول اگر صحیح ہو اور اسے درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر قبول حدیث ہی اس سے مراد ہوگا جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کیونکہ اگر محض روایت کا نام ہی عمل ہوتو لازم آئے گا کہ وہ شخص جس نے نماز کے بارے میں حدیث روایت کی اس نے نماز بھی ادا کی ، یا اس طرح روزے کے بارے میں روایت کرنیوالے روزہ بھی رکھاہو ، باوجود اس کے امام نووی کی دونوں کتب میں لفظ عمل ہے اور اسی کی طرف محقق دوانی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا اٰن ھذا لایرتبط الخ۔
وثانیا : اقول قدبینا ان القبول انما مرجعہ الٰی جواز العمل وحینئذ یکفی فی ابطالہ دلیلنا المذکور خامسا مع ماتقدم۔
وثالثا : اذن یکون حاصل التفرقۃ ان الاحکام لایجوز فیھا روایۃ الضعاف اصلا ولووجد فی خصوص الباب حدیث صحیح اللھم الامقرونۃ ببیان الضعف اماما دونھا کالفضائل فتجوز اذاصح حدیث فیہ بخصوصہ والا لا الا ببیان وح ماذا یصنع بالوف مؤلفۃ من احادیث مضعفۃ رویت فی السیر والقصص والمواعظ والترغیب والفضائل والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالعقد والحکم مع فقدان الصحیح فی خصوص الباب وعدم الاقتران ببیان الوھن وھذا مااشار الیہ الدوانی بالعلاوۃ۔ اقول : دع عنك توسع المسانید التی تسند کل ماجاء عن صحابی ، والمعاجیم التی توعی کل ماوعی عن شیخ بل والجوامع التی تجمع امثل مافی الباب وردہ ان لم یکن صحیح السند ھذا الجبل الشامخ البخاری یقول فی صحیحہ حدثنا علی بن عبدالله بن جعفر ثنا معن بن عیسٰی ثنا اُبی بن عباس بن سھل عن ابیہ عن جدہ قال کان للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی حائطنا فرس یقال لہ اللحیف [2] اھ فی تذھیب التھذیب للذھبی “ خ ، ت ، ق “ ابی بن عباس [3]بن سھل بن سعد الساعدی المدنی عن ابیہ وابی بکر بن حزم وعنہ معن القزاز وابن ابی فدیك وزید بن الحباب وجماعۃ [4]۔ قال الدولا بی لیس بالقوی قلت وضعفہ ابن معین وقال احمد منکر الحدیث [5] اھ وکقول الدولابی قال النسائی کمافی المیزان ولم ینقل فی الکتابین توثیقہ عن احدوبہ ضعف الدارقطنی ھذا الحدیث لاجرم ان قال الحافظ فیہ ضعف عہ قال مالہ فی البخاری غیر حدیث واحد [6] اھ قلت فانما الظن بابی عبدالله انہ انما تساھل لان الحدیث لیس من باب الاحکام والله تعالٰی اعلم۔
ورابعًا اقول : قدشاع وذاع ایراد الضعاف فی المتابعات والشواھد فالقول بمنعہ فی الاحکام مطلقا وان وجد الصحیح باطل صریح وح یرتفع الفرق وینھدم اساس المسئلۃ المجمع علیھا بین علماء المغرب والشرق ، لااقول عن ھذا وذاك بل عن ھذین الجبلین الشامخین صحیحی الشیخین فقد تنزلا کثیرا عن شرطھما فی غیرالاصول قال الامام النووی فی مقدمۃ شرحہ لصحیح مسلم عاب عائبون مسلما رحمہ الله تعالٰی بروایتہ فی صحیحہ عن جماعۃ من الضعفاء والمتوسطین الواقعین فی الطبقۃ الثانیۃ الذین لیسوا من شرط الصحیح ولاعیب علیہ فی ذلك بل جوابہ من اوجہ ذکرھا الشیخ الامام ابوعمر وبن الصلاح (الٰی ان قال) الثانی انیکون ذلك واقعا فی المتابعات والشواھد لافی الاصول وذلك بان یذکر الحدیث اولا باسناد نظیف رجالہ ثقات ویجعلہ اصلا ثم اتبعہ باسناد اٰخرا واسانید فیھا بعض الضعفاء علی وجہ التاکید بالمتابعۃ اولزیادۃ فیہ تنبہ علی فائدۃ فیما قدمہ و قداعتذر الحاکم ابوعبدالله بالمتابعۃ و الاستشھاد فی اخراجہ من جماعۃ لیسومن شرط الصحیح منھم مطر الوراق وبقیۃ بن الولید ومحمد بن اسحاق بن یساور وعبدالله بن عمر العمری والنعمان بن راشد اخرج مسلم عنھم فی الشواھد فی اشباہ لھم کثیرین انتھی [7]۔ وقال الامام البدر محمود العینی فی مقدمۃ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری یدخل فی المتابعۃ والاستشھاد روایۃ بعض العضعاء وفی الصحیح جماعۃ منھم ذکروا فی المتابعات والشواھد [8]اھ
وخامسا اقول : مالی اخص الکلام بغیر الاصول ھذہ قناطیر مقنطرۃ من السقام مرویۃ فی الاصول والاحکام ان لم تروھا العلماء فمن جاء بھا وکم منھم التزموا بیان ماھنا ، اما الرواۃ فلم یعھد منھم الروایۃ المقرونۃ بالبیان اللھم الانادر الداع خاص ، وقد اکثروا قدیما وحدیثا من الروایۃ عن الضعفاء والمجاھیل ولم یعد ذلك قدحًا فیھم ولا ارتکاب مأثم وھذا سلیمٰن بن عبدالرحمٰن الدمشقی الحافظ شیخ البخاری ومن رجال
[1] انموذج العلوم للدوانی
[2] صحیح البخاری باب اسم الفرس والحمار مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۰۰
[3] '' خ '' سے بخاری ، '' ت '' سے ترمذی اور '' ق '' سے قزوینی مراد ہے۔
[4] خلاصہ تذہیب التہذیب ترجمہ نمبر ۳۲۷ من اسمہ ابی مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۶۲
[5] میزان الاعتدال فی نقدالرجال ترجمہ نمبر ۲۷۳ من اسمہ ابی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۷۸
نوٹ : تذہیب التہذیب نہ ملنے کی وجہ سے اس کے خلاصے اور میزان الاعتدال دو۲ کتابوں سے یہ نقل گیا ہے۔
[6] تقریب التہذیب ذکر من اسمہ ابی مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۷
[7] المقدمۃ للامام النووی من شرح صحیح مسلم فصل عاب عائبون مسلماً رحمہ اللہ تعالٰی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
[8] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع