دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

(تحقیق المقام و ازاحۃ الاوھم)

ثمّ اقول :  تحقیق المقام وتنقیح المرام بحیث یکشف الغمام ویصرّف الاوھام ، ان المسألۃ تدوربین العلماء بعبارتین العمل والقبول اما العمل بحدیث ، فلایعنی بہ الا امتثال مافیہ تعویلا علیہ والجری علی مقتضاہ نظر الیہ ولابد من ھذا القید الاتری ان لوتوافق حدیثان صحیح وموضوع علی فعل ففعل للامر بہ فی الصحیح ، لایکون ھذا عملا علی الموضوع ، واما القبول فھووان احتمل معنی الروایۃ من دون بیان الضعف ، فیکون الحاصل ان الضعیف یجوز روایتہ فی الفضائل مع السکوت عمافیہ دون الاحکام لکن ھذا المعنی علی تقدیر صحۃ انما یرجع الی معنی العمل کیف ولامنشاء لایجاب اظھارالضعف فی الاحکام الا التحذیر عن العمل بہ حیث لایسوغ فلولم یسغ فی غیرھا ایضا لکان ساوٰھا فی الایجاب فدار الامر فی کلتا العبارتین الی تجویز المشی علی مقتضی الضعاف فی مادون الاحکام فاتضح ماستدللنا بہ خامسا وانکشف الظلام ھذا ھو التحقیق بیدان ھھنا رجلین من اھل العلم زلت اقدام اقلامھما فحملا العمل والقبول علی مالیس بمراد ولاحقیقا بقبول۔             

(تحقیق مقام و ازالہ اوھم)

ثمّ اقول : اب ہم تحقیق مقام اور وضاحتِ مقصد کیلئے ایسی گفتگو کرتے ہیں جس سے پردے ہٹ جائیں اور شکوك وشبہات ختم ہوجائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء دو۲ طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں عمل اور قبول ، عمل بالحدیث سے مراد یہ ہے کہ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہُوئے اور اس کے مقتضٰی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں مذکور حکم کو بجالایا جائے ، اس قید کا اضافہ ضروری ہے اس لئے کہ آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ کسی فعل کے متعلق حدیث صحیح اور حدیث موضوع دونوں اگر موافق ہوں اور فعل کو بجالانے والا حدیث صحیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرے تو اب موضوع ہر عمل نہ ہوگا قبول بالحدیث پر ہے کہ اگرچہ ضعف بیان کئے بغیر روایت کے معنی کا احتمال ہوتو اس کا حاصل یہ ہوگا کمہ ضعیف میں جو کمزوری ہے اس پر سکوت کرتے ہوئے فضائل میں اس کی روایت کرنا جائز ہے لیکن احکام میں نہیں ، اگر قبول بالحدیث کا یہی معنی صحیح ہوتو یہ معنی عمل بالحدیث ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے ، کیسے؟ وہ ایسے کہ احکام کے بارے میں مروی روایات کے ضعف کو بیان کرنا اس لئے واجب وضروری ہے کہ اس پر عمل سے روکا جائے کہ احکام میں ہر چیز جائز نہیں پھر اگر غیر احکام میں بھی یہ چیز جائز نہ ہوتو ایجاب میں فضائل واحکام دونوں برابر ہوجائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں عبارتوں میں اس امر پر دلیل کے غیر احکام میں ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا جائز ہے

احدھما العلامۃ الفاضل الخفاجی رحمہ الله  تعالٰی حیث حاول الرد علی المحقق الدوانی واوھم بظاھر کلامہ ان محلہ مااذاروی حدیث ضعیف فی ثواب بعض الامور الثابت استجابھا والترغیب فیہ اوفی فضائل بعض الصحابۃ اوالاذکار الماثورۃ قال ولاحاجۃ الی لتخصیص الاحکام والاعمال کماتوھم للفرق الظاھر بین الاعمال وفضائل الاعمال [1] اھ

اقول :  لولا ان الفاضل المدقق خالف المحقق لکان لکلامہ معنی صحیح ، فان الثبوت اعم من الثبوت عینا اوباندراج تحت اصل عام ولواصالۃ الاباحۃ فان المباح یصیر بالنیۃ مستحبا ونحن لاننکران قبول الضعاف مشروط بذٰلك کیف ولولاہ لکان فیہ ترجیح الضعیف علی الصحیح وھوباطل وفاقا ، فلواراد الفاضل ھذا المعنی لاصاب ولسلم من التکرار فی قولہ اوالاذکار الماثورۃ لکنہ رحمہ الله  تعالٰی بصدد مخالفۃ المحقق المرحوم وقدکان المحقق انما عول علی ھذا المعنی الصحیح حیث قال المباحات تصیر بالنیۃ عبادۃ فکیف مافیہ شبھۃ الاستحباب لاجل الحدیث الضعیف والحاصل ان الجواز معلوم من خارج والاستحباب ایضا معلوم من القواعد الشرعیۃ الدالۃ علی استحباب الاحتیاط فی امرالدین فلم یثبت شیئ من الاحکام بالحدیث الضعیف بل اوقع الحدیث شبھۃ الاستحباب فصار الاحتیاط ان یعمل بہ فاستحباب الاحتیاط معلوم من قواعد الشرع [2] اھ ملخصا فالظاھر من عدم ارتضائہ انہ یرید الثبوت عینا بخصوصہ و یؤیدہ تشبثہ بالفرق بین الاعمال وفضائلھا فان ارادہ فھذہ جنود براھین لاقبل لاحدبھا وقد اتاك بعضھا۔                                                  

اب ہمارا پانچواں استدلال واضح ہوگیا اور تاریکی کھُل گئی اور تحقیق یہی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں دو۲ اہلِ علم ایسے ہیں جن کے قلم کے قدم پھسل گئے ، انہوں نے عمل بالحدیث اور قبول بالحدیث کو ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو مراد اور قابل قبول نہیں ۔ (ت)ان میں سے ایك علّامہ خفاجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہیں انہوں نے محقق دوانی کے رَدکا ارادہ کیا اور انہیں ان کے کلام کے ظاہر سے وہم ہوگیا کہ اس کا محل وہ ہے جب حدیث ضعیف ان امور کے ثواب کے بارے میں وارد ہو جن کا استحباب ثابت ہو اور اس میں ثواب کی رغبت ہویا بعض صحابہ کے فضائل یا اذکار منقولہ کے بارے میں ہوکہا : حکام واعمال کی تخصیص کی ضرورت ہی نہیں جیسا کہ وہم کیاگیا کیونکہ اعمال اور فضائل اعمال میں فرق ظاہر ہے اھ

اقول : کاش فاضل مدقق محقق دوانی کی مخالفت نہ کرتے تو ان کے کلام کا معنی درست ہوتا کیونکہ ثبوت بعض اوقات عینی ہوتا ہے اور بعض اوقات کسی عمومی اصل کے تحت ہوتا ہے اگرچہ اباحت کی اصل پر ہو کیونکہ مباح نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور ہم قبول ضعاف کو اس کے ساتھ مشروط ہونے کا انکار نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر یہ بات نہ ہوتو اس میں ضعیف کو صحیح پر ترجیح لازم آتی اور وہ بالاتفاق باطل ہے ، اگر فاضل مدقق بھی یہی مراد لیتے تو درست تھا اور اپنے قول “ اوالاذکار الماثورۃ “ کے تکرار سے محفوظ ہوجاتے ، لیکن فاضل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمحقق کی مخالفت کے درپے تھے  اور محقق نے اسی معنی صحیح پر اعتماد کیا تھا چنانچہ کہا کہ مباحات نیت سے عبادت قرار پاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوگا جس کے استحباب میں حدیث ضعیف کی وجہ سے شُبہہ ہو؟ حاصل یہ ہے کہ جواز خارج سے معلوم ہوتا ہے اور استحباب بھی ایسے قواعد شرعیہ سے معلوم ہوتا ہے جو امر دین میں احتیاطًا استحباب پر دال ہیں ، پس احکام میں سے کوئی بھی حکم حدیث ضعیف سے ثابت نہ ہوگا بلکہ حدیث استحباب کا شبہہ پیدا کردے گی لہذا احتیاطًا اسی پر عمل کرنا ہوگااور احتیاطًا استحباب پر عمل قواعد شرع سے معلوم ہوا ہے اھ ملخصا ان کی عدم پسندیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ثبوت سے مراد صرف عینی لیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اس پر استدلال اعمال اور فضائل اعمال کے فرق سے کیا ہے اگر انہوں نے یہی مراد لیا ہے تو یہ دلائل کا انبار ہے جس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور بعض کا ذکر آپ تك پہنچ گیا۔ (ت)

 

عــــہ :  ویکدرہ ایضا علی ماقیل مغایرۃ العلماء بین فضائل الاعمال والترغیب علی ماھو الظاھر من کلامھم فلفظ ابن الصلاح فضائل الاعمال وسائر فنون الترغیب والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالاحکام والعقائد ھذا توضیح ماقیل ، اقول بل المراد بفضائل الاعمال الاعمال التی ھی فضائل تشھد بذلك کلمات العلماء المارۃ فی الافادۃ السابعۃ عشر کقول الغنیۃ والقاری والسیوطی وغیرھم کمالاینھی علی من لہ اولٰی مسکۃ ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ (م)      

اسے یہ بات بھی رد کرتی ہے کہ علماء کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ فضائلِ اعمال اور ترغیب ایك شَے نہیں ، ابن صلاح کے الفاظ یہ ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب وترہیب کے معاملات اور وہ چیزیں جن کا تعلق احکام وعقائد سے نہیں ہے یہ ماقیل کی وضاحت ہے اقول : (میں کہتا ہوں ) بلکہ اس سے مراد وہ فضائلِ اعمال میں جن کی شہادت علماء کا کلام دیتا ہے جو کہ سترھویں ۱۷ افادہ میں گزرا مثلًا غنیہ ، قاری اور سیوطی وغیرہ کے اقوال اور یہ بات ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس میں ادنٰی سا شعور ہو ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(ت)

علی انی اقول اذن یرجع معنی العمل بعد الاستقصاء التام الی ترجی اجر مخصوص علی عمل منصوص ای یجوز العمل بشیئ مستحب معلوم الاستحباب مترجیا فیہ بعض خصوص الثواب لورود حدیث ضعیف فی الباب ، فالآن نسألکم عن ھذا الرجاء اھو کمثلہ بحدیث صحیح ان وردام دونہ ، الاول باطل فان صحۃ الحدیث بفعل لایجبر ضعف ماوردفی الثواب المخصوص علیہ وعلی الثانی ھذا القدر من الرجاء یکفی فیہ الحدیث الضعیف فای حاجۃ الٰی ورود صحیح بخصوص الفعل نعم لابد ان یکون ممایجیز الشرع رجاء الثواب علیہ وھذا حاصل بالاندراج تحت اصل مطلوب اومباح مع قصد مندوب فقد استبان ان الوجہ مع المحقق الدوانی والله  تعالٰی اعلم۔ ثانیھما :  بعض من تقدم الدوانی زعم ان مراد النووی ای بمامر من کلامہ فی الاربعین والاذکار انہ اذاثبت حدیث صحیح اوحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال تجوز روایۃ الحدیث الضعیف فی ھذا الباب قال المحقق بعد نقلہ فی الانموذج لایخفی ان ھذا لایرتبط بکلام النووی فضلا عن



[1]   نسیم الریاض تتمۃ وفاعدۃ مہمۃ فی الخطبۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۳

[2]        انموذج العلوم للدوانی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن