30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُبحان الله ! جب محلِ احتیاط میں احادیث ضعیفہ خود احکام میں مقبول ومعمول ، تو فضائل تو فضائل ہیں ، اور ان فوائد نفیسہ جلیلہ مفیدہ سے بحمدالله تعالٰی عقل سلیم کے نزدیك وہ مطلب بھی روشن ہوگیا کہ ضعیف حدیث اُس کی غلطی واقعی کو مستلزم نہیں ۔ دیکھو یہ حدیثیں بلحاظِ سند کیسی ضعاف تھیں اور واقع میں اُن کی وہ شان کہ مخالفت کرتے ہیں فورًا تصدیقیں ظاہر ہُوئیں ، کاش منکر اِن فضائل کو بھی الله عزوجل تعظیم حدیث مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی توفیق بخشے اور اُسے ہلکا سمجھنے سے نجات دے ، آمین!
افادہ بست۲۱ ویکم : (حدیث ضعیف پر عمل کے لئے خاص اُس باب میں کسی صحیح حدیث کا آنا ہر گز ضرور نہیں ) بذریعہ حدیث ضعیف کسی فعل کے لئے محلِ فضائل میں استحباب یا موضع احتیاط میں حکم تنزہ ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار اصلًا اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعل معین کے باب میں کوئی حدیث صحیح بھی وارد ہوئی ہو ، بلکہ یقینا قطعًا صرف ضعیف ہی کا درود ان احکام استحباب وتنزہ کے لئے ذریعہ کافیہ ہے ، افادات سابقہ کو جس نے ذرا بھی بگوش ہوش استماع کیا ہے اُس پر یہ امر شمس وامس کی طرح واضح وروشن۔ مگر ازانجا کہ مقام مقام افادہ ہے ایضاحِ حق کے لئے چند تنبیہات کا ذکر مستحسن۔
اوّلًا کلمات علمائے کرام میں باآنکہ طبقہ فطبقۃ اُس جوش وکثرت سے آئے ، اس تقیید بعید کا کہیں نشان نہیں تو خواہی نخواہی مطلق کو ازپیش خویش مقید کرلینا کیونکر قابل قبول۔
ثانیا بلکہ ارشاداتِ علما صراحۃً اس کے خلاف ، مثلًا عبارت اذکار وغیرہا خصوصًا عبارت امام ابن الہمام جو نص تصریح ہے کہ ثبوتِ استحباب کو ضعیف حدیث کافی۔
اقول : بلکہ خصوصًا اذکار کا وہ فقرہ کہ اگر کسی مبیع یا نکاح کی کراہت میں کوئی حدیث ضعیف آئے تو اس سے بچنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ اس استحباب وانکار وجوب کا منشا وہی ہے کہ اُس سے نہی میں حدیث صحیح نہ آئی کہ وجوب ہوتا ، تنہا ضعیف نے صرف استحباب ثابت کیا اور سب اعلٰی واجل کلام امام ابوطالب مکی ہے اس میں تو بالقصد اس تقیید جدید کا رد صریح فرمایا ہے کہ “ وان لم یشھد الہ “ (اگرچہ کتاب وسنّت اس خاص امر کے شاہد نہ ہوں )
ثالثا علمائے فقہ وحدیث کا عملدرآمد قدیم وحدیث اس قید کے بطلان پر شاہد عدل ، جابجا انہوں نے احادیث ضعیفہ سے ایسے امور میں استدلال فرمایا ہے جن میں حدیث صحیح اصلًا مروی نہیں ۔
اقول مثلًا : (۱) نماز نصف شعبان کی نسبت علی قاری۔
(۲) صلاۃ التسبیح کی نسبت برتقدیر تسلیم ضعف وجہالت امام زرکشی وامام سیوطی کے اقوال افادہ دوم میں گزرے۔
(۳) نماز میں امامت اتقی کی نسبت امام محقق علی الاطلاق کا ارشاد افادہ شانزدہم میں گزرا وہاں اس تقیید کے برعکس حدیث ضعیف پر عمل کو فقدانِ صحت سے مشروط فرمایا ہے :
قال روی ا لحاکم عنہ علیہ الصلاۃ والسلام ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیار کم فان صح والا فالضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال [1]۔
حاکم نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا یہ ارشاد گرامی ذکر کیا ہے کہ اگر تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری نمازیں قبول ہوجائیں تو تم اپنے میں سے بہتر شخص کو امام بناؤ۔ اگر یہ روایت صحیح ہے ورنہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جاتا ہے۔ (ت)
(۴) نیز امام ممدوح نے تجہیز وتکفین قریبی کافر کے بارہ میں احادیث ذکر کیں کہ جب ابوطالب مرے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے سیدنا مولٰی علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمالکریم کو حکم فرمایا کہ اُنہیں نہلاکر دفن کرائیں پھر خود غسل کرلیں بعدہ غسل میت سے غسل کی حدیثیں نقل کیں ، پھر فرمایا :
لیس فی ھذا ولافی شیئ من طرق علی حدیث صحیح ، لکن طرق حدیث علی کثیرۃ و الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع [2]۔
ان دونوں باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں مگر حدیث علی کے طرق کثیر میں اور استحباب حدیث ضعیف غیر موضوع سے ثابت ہوجاتا ہے۔
غسل کے بعد استحباب مندیل کی نسبت علّامہ ابراہیم حلبی۔
(۶) تائید اباحت کی نسبت امام ابن امیرالحاج۔
(۷) استحباب مسح گردن کی نسبت مولانا علی مکّی۔
(۸) استحباب تلقین کی نسبت امام ابن الصلاح وامام نووی وامام سیوطی کے ارشادات افادہ ہفدہم۔
(۹) کراہت وصل بین الاذان والاقامت کی نسبت علامہ حلبی کلام۔
(۱۰) بدھ کو ناخن تراشنے کی نسبت خود نسیم الریاض وطحاوی کے اقوال افادہ بستم میں زیور گوش سا معین ہوئے۔
یہ دس۱۰ تو یہیں موجود ہیں اور خوفِ اطالت نہ ہوتو سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ایك ادنٰی نظر میں جمع ہوسکتے ہیں ، مگر ایضاح واضح میں اطناب تاکے۔
رابعًا ، اقول نصوص واحادیث مذکورہ افادات ہفدہم وبستم کو دیکھئے کہیں بھی اس قید بے معنی کی مساعدت فرماتے ہیں ؟ حاشا بلکہ باعلی ندا اُس کی لغویات بتاتے ہیں کمالایخفی علی اولی النھی (جیسا کہ صاحبِ عقل لوگوں پر مخفی نہیں۔ت)
خامسًا ، اقول : وبالله التوفیق اس شرط زائد کا اضافہ اسل مسألہ اجماعیہ کو محض لغو ومہمل کردے گا کہ اب حاصل یہ ٹھہرے گا کہ احکام میں تو مقتضائے حدیث ضعیف پر کاربندی اصلًا جائز نہیں اگرچہ وہاں حدیث صحیح موجود ہو اور ان کے غیر میں بحالت موجود صحیح صحیح ورنہ قبیح۔
اوّلا اس تقدیر پر عمل بمقتضی الضعیف من حیث ہو مقتضی الضعیف ہوگا یا من حیث ہو مقتضی الصحیح ، ثانی قطعًا احکام میں بھی حاصل اور تفرقہ زائل ، کیا احکام میں درود ضعیف صحاح ثابتہ کو بھی رَد کردیتا ہے؟ ھذا لایقول بہ جاھل (اس کا قول کوئی جاہل بھی نہیں کرسکتا۔ ت) اور اول خود شرط سے رجوع یا قول بالمتنافیین ہوکر مدفوع کہ جب مصحح عمل درود صحیح ہے تو اس سے قطع نظر ہوکر صحت کیونکر!
ثانیا اگر صحیح نہ آتی ضعیف بیکار تھی آتی تو وہی کفایت کرتی بہرحال اس کا وجود عدم یکساں پھر معلوم بہ ہونا کہاں !
ثالثًا بعبارۃ اخری اظھر واجلی (ایك دوسری عبارت کے ساتھ زیادہ ظاہر وواضح ہے۔ ت) حدیث پر عمل کے یہ معنی کہ یہ حکم اس سے ماخوذ اور اُس کی طرف مضاف ہوکہ اگر نہ اُس سے لیجئے نہ اُس کی طرف اسناد کیجئے تو اس پر عمل کیا ہوا ، اور شك نہیں کہ خود صحیح کے ہوتے ضعیف سے اخذ اور اس کی طرف اضافت چہ معنی ، مثلًا کوئی کہے چراغ کی روشنی میں کام کی اجازت تو ہے مگر اس شرط پر کہ نورِ آفتاب بھی موجود ہو۔ سبحان الله جب مہر نیمروز خود جلوہ افروز تو چراغ کی کیا حاجت اور اس کی طرف کب اضافت! اسے چراغ کی روشنی میں کام کرتا کہیں گے یا نورِ شمس میں ! ع
آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ میجوید سہا
(جب جہاں میں آفتاب ہوتو سہا (ستارہ) ڈھونڈنے سے کیا فائدہ!)
لاجرم معنی مسئلہ یہی ہیں کہ حدیث ضعیف احکام میں کام نہیں دیتی اور دوبارہ فضائل کافی ووافی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع