30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان ہے ، ان میں بکثرت رکعات یا دو۲ رکعتوں کا ذکر ہے ان میں سے ایك تو وہی ہے جو ابھی ابو نعیم کے حوالے سے گزری تھی کہ نماز پڑھی دو رکعتیں ۔ اور ابونعیم کے علاوہ ایك دوسرے محدث کی روایت کہ ابتدا میں صرف دو۲ رکعتیں فرض تھیں ۔ اور رکعت کی وجہ تسمیہ ہی یہ ہے کہ اس میں رکوع پایا جاتا ہے۔ ت)
سجود بھی تھا :
کما فی حدیث ایذاء ابی جھل وغیرہ من الکفرۃ ، لعنھم الله تعالی ، حین صلی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عند الکعبۃ ، فرمقوا سجودہ ، فالقوا علیہ مااُلقُوا بہ فی قلیب بدر ملعونین۔ والحمدلله رب العٰلمین۔ والحدیث معروف فی الصحیحین وغیرھما عن ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ ، وفیہ من قول الکفار “ یجیئ بہ ثم یمھلہ حتی اذاسجد وضع بین کتفیہ؛ قال : فانبعث اشقاھم فلما سجد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وضعہ بین کتفیہ ، وثبت النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ساجدا [1] ۔ الحدیث۔ وقدقال تعالٰی فی سورۃ اقرأ ، وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩(۱۹)
جیسا کہ اس حدیث میں ہے جس میں ابوجہل اور دیگر کفار لعنھم الله کی ایذا رسانی کا ذکر ہے کہ جب رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے تو کفار نے اُن کے سجدے پر نگاہ رکھی اور آپ پر وہ کچھ ڈال دیا (یعنی اوجھڑیاں وغیرہ) جس کے بدلے میں بدر کے کنویں میں ملعون کرکے پھینك دئیے گئے۔ اور یہ حدیث صحیحین وغیرہ میں عبدالله ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے معروف ہے اور اس میں ہے کہ کوئی جاکر اوجھڑیاں لائے پھر محمد کو اتنی مہلت دے کہ وہ سجدے میں چلاجائے ، اس وقت اس کے شانوں کے درمیان اوجھڑیاں رکھ دے۔ راوی کہتا ہے کہ ان میں سے جو بہت بدبخت تھا وہ اس کام کیلئے تیار ہوگیا اور جب رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسجدے میں گئے تو اس نے اوجھڑیاں آپ کے شانوں کے درمیان رکھ دیں اور آپ سجدے میں پڑے رہے۔ الحدیث۔ اور الله تعالٰی نے سورۃ اقرأ میں فرمایا ہے : “ اور سجدہ کرو اور قُرب حاصل کرو “ ۔ (ت)
جماعت بھی تھی :
کماتقدم من حدیث المبعث ، ولفظہ عن ابن اسحٰق ، ثم قام بہ جبرئیل فصلی بہ ، وصلی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بصلاتہ ، (الی ان قال فی خدیجۃ) صلی بھا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کماصلی بہ جبرئیل ، فصلت بصلاتہ[2]۔ اھ وقد قال تعالٰیوَ طَآىٕفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَؕ-[3] واخرج الشیخان عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما فی حدیث مجیئ الجن الیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اول البعث ، انھم اتوہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھو یصلی باصحابہ صلاۃ الفجر[4] ، قال الزرقانی المراد بالفجر الرکعتان اللتان کان یصلیھا قبل طلوع الشمس [5] الخ۔
جیسا کہ بعث والی حدیث گزری ہے اور اس کے الفاظ ابنِ اسحٰق کے ہاں اس طرح ہیں “ پھر جبریل آپ کے ساتھ کھڑے ہُوئے اور آپ کو نماز پڑھائی اور رسول الله نے جبریل کی نماز کے مطابق نماز پڑھی (یہاں تك کہ خدیجہ کے بارے میں کہا ہے) رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ان کو نماز پڑھائی جس طرح جبریل نے رسول الله کو پڑھائی تھی چنانچہ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی نماز کے مطابق نماز پڑھی۔ اھ اور الله تعالٰی نے فرمایا : “ اور ایك جماعت ان لوگوں کی جو تمہارے ساتھ ہے “ بخاری ومسلم نے ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اس حدیث کی روایت کی ہے جس میں ابتداءِ وحی کے دوران رسول الله کے پاس جنّات کے آنے کا ذکر ہے۔ اس میں ہے کہ جب جنّات آپ کے پاس آئے اس وقت آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ زرقانی نے کہا ہے کہ فجر کی نماز سے مراد وہ دو۲ رکعتیں ہیں جو طلوعِ آفتاب سے پہلے پڑھا کرتے تھے الخ۔ (ت)
جہر بھی تھا :
قال تعالٰی قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ(۱) یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖؕ-[6] ، وقد کانوا سمعوہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی صلاۃ الفجر ، کماتقدم ، ومرّ حدیث ابن اسحٰق فی اسلام امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالٰی عنہ ، وروی ابن سنجر فی مسندہ عنہ رضی الله تعالٰی عنہ “ خرجت اتعرض رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قبل ان اسلم ، فوجدتہ قدسبقنی الی المسجد ، فقمت خلفہ ، فاستفتح سورۃ الحاقۃ ، فجعلتُ اتعجّب من تألیف القراٰن ، فقلت :
ھوشاعر کماقالت قریش ، فقرأ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ(۴۰) وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ(۴۱)فقلت : کاھن ، علم مافی نفسی ، فقرأ وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ(۴۲)الی آخر السورۃ ، فوقع الاسلام فی قلبی کل موقع [7]۔
اقول : لکن ذکر ابن عباس رضی الله تعالٰی عنھما فی حدیثہ المذکور نزول الحاقۃ بعد بنی اسرائیل بسبع وعشرین سورۃ ، وجعلھا من اواخر ما نزل بمکۃ ، ولایظھر الجمع بان بعضھا نزل قدیما فسمعہ عمر قبل ان یسلم وتأخر نزول الباقی ، واعتبر ابن عباس بالاکثر ، <
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع