30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کمایقال عن جمیع مارواہ المحدثون بالسند الصحیح المتصل ینتھی سندہ الی حضرت الحق جل وعلا فکذٰلك یقال فیما نقلہ اھل الکشف الصحیح من علم الحقیقۃ [1]۔
جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ محدثین نے سند صحیح متصل سے روایت کیا اس کی سند حضرت الٰہی عزوجل تك پہنچتی ہے یونہی جو کچھ علم حقیقت سے صحیح کشف والوں نے نقل فرمایا اُس کے حق میں یہی کہا جائےگا۔
عــــہ ۱ : آخر الجلد الاول باب جامع فضائل الذکر اٰخر فصل الامر بالصلاۃ علی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ۔
عــــہ ۲ : فصل فی بیان استحالۃ خروج شیئ من اقوال المجتھدین عن الشریعۃ ۱۲ منہ
بالجملہ اولیا کے لئے سوا اس سند ظاہری کے دوسرا طریقہ ارفع وعلٰی ہے ولہذا حضرت سیدی ابویزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوقدس سرہ السامی اپنے زمانہ کے منکرین سے فرماتے :
قداخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت [2]۔ نقلہ سیدی الامام الشعرانی فی کتابہ المبارك الفاخر الیواقیت والجواھر اٰخر المبحث السابع والاربعین۔
تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لایموت سے لیا ہے۔ اسے سیدی امام شعرانی نے اپنی مبارك اور عظیم کتاب الیواقیت والجواہر کی سینتالیس بحث کے آخر میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طور علم پر ضعیف مانی گئی تھیں ،
کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھٰیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا [3]۔
جیسا کہ انہوں نے فتوحات المکیۃ الشریفۃ الالہٰیۃ الملکیۃ کے تیرھویں باب میں ذکر کیا اور الیواقیت میں اس مقام پر اسے نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی طرح خاتمِ حفاظ الحدیث امام جلیل جلال الملّۃ والدّین سیوطی قدس سرہ العزیز پچھتر۷۵ بار بیداری میں جمالِ جہاں آرائے حضور پُرنور سید الانبیا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے بہرہ ورہُوئے بالمشافہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے تحقیقاتِ حدیث کی دولت پائی بہت احادیث کی کہ طریقہ محدثین پر ضعیف ٹھہر چکی تھیں تصحیح فرمائی جس کا بیان [4]عارف ربانی امام العلامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی کی میزان عــــہ الشریعۃ الکبرٰی میں ہے من شاء فلیتشرف بمطالعۃ (جو اس کی تفصیل چاہتا ہے میزان کا مطالعہ کرے۔ ت)یہ نفیس وجلیل فائدہ کہ
عــــہ : فی الفصل المذکور قبل مامر بنحوہ صفحۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
بمناسبت مقام بحمدالله تعالٰی نفع رسانی برادرانِ دین کے لئے حوالہ قلم ہوا لوحِ دل پر نقش کرلینا چاہے کہ اس کے جاننے والے کم ہیں اور اس لغزش گاہ میں پھسلنے والے بہت قدم ؎
خلیلی قطاع الفیانی الی الحمی
کثیر و ارباب الوصول قلائل
(اے میرے دوست! چراگاہوں میں ڈاکہ ڈالنے والے کثیر اور منزل کو پانے والے کم ہیں ۔ ت)
بات دُور پہنچی ، کہنا یہ تھا کہ سند پر کیسے ہی طعن وجرح ہوں اُن کے سبب بطلانِ حدیث پر جزم نہیں ہوسکتا ممکن کہ واقع میں حق ہو اور جب صدق کا احتمال باقی تو عاقل جہان نفع بے ضرر کی اُمید پاتا ہے اُس فعل کو بجالاتا ہے دین ودنیا کے کام اُمید پر چلتے ہیں پھر سند میں نقصان دیکھ کر ایکدست اس سے دست کش ہونا کس عقل کا مقتضی ہے کیا معلوم اگر وہ بات سچی تھی تو خود فضیلت سے محروم رہے اور جھُوٹی ہوتو فعل میں اپنا کیا نقصان فافھم وتثبت ولاتکن من المتعصبین (اسے اچھی طرح سمجھ لے اس پر قائم راہ اور تعصب کرنے والوں سے نہ ہو۔ ت) انصاف کیجئے مثلًا کسی کو نقصان حرارت عزیزی وضعف ارواح کی شکایت شدید ہو زید اس سے بیان کرے کہ فلاں حکیم حاذق نے اس مرض کے لئے سونے کے ورق سونے کے کھرل میں سونے کی موصلی سے عرق بید مشك یا ہتھیلی پر انگلی سے شہد میں سحق ببلیغ کرکے پینا تجویز فرمایا ہے تو عقلی سلیم کا اقتضا نہیں کہ جب تك اُس حکیم تك سند صحیح متصل کی خوب تحقیقات نہ کرلے اس کا استعمال طبًا حرام جانے ، بس اتنا دیکھنا کافی ہے کہ اصولِ طبیہ میں میرے لئے اس میں کچھ مضرت تو نہیں ورنہ وہ مریض کہ نسخہ ہائے قرابادین کی سندیں ڈُھوڈتا اور حالِ رواۃ تحقیق کرتا پھرے گا قریب ہے کہ بے عقلی کے سبب اُن ادویہ کے فوائد ومنافع سے محروم رہے گا نہ عراق تنقیح سے تریاق تصحیح ہاتھ آئے گا نہ یہ مارگزیدہ دوا پائیگا ، بعینہ یہی حال ان فضائل اعمال کا ہے جب ہمارے کان تك یہ بات پہنچی کہ اُن میں ایسا نفع ذکر کیا گیا اور شرع مطہر نے ان افعال سے منع نہ کیا ، تو اب ہمیں تحقیق محدثانہ کیا ضرور ہے اگر حدیث فی نفسہٖ صحیح ہے فبہا ورنہ ہم نے اپنی نیك نیت کا اچھا پھل پایا ، هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِؕ-[5](تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو۲ خوبیوں میں سے ایك کا۔ ت)
افادہ بستم۲۰ : (حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محلِ احتیاط ہو) مقاصد شرع کا عارف اور کلماتِ علما کا واقف جب قبول ضعیف فی الفضائل کے دلائل مزکورہ عبارات سابقہ فتح المبین امام ابن حجر مکی وانموذج العلوم محقق دوانی وقوت القلوب امام مکی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ونیز تقریر فقیر مذکور افادہ سابقہ پر نظر صحیح کرے گا ان انوار متجلیہ کے پر توسے بطور حدس بے تکلّف اُس کے آئینہ دل میں مرتسم ہوگا کہ کچھ فضائل اعمال ہی میں انحصار نہیں بلکہ عمومًا جہاں اُس پر عمل میں رنگ احتیاط ونفع بے ضرر کی ضرورت نظر آئے گی بلاشبہہ قبول کی جائے گی جانب فعل میں اگر اس کا ورود استحباب کی راہ بتائے گا جانب ترك میں تنزع وتورع کی طرف بلائے گا کہ آخر مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا : کیف وقدقیل [6]۔ (کیونکہ نہ مانے گا حالانکہ کہا تو گیا) رواہ البخاری عن عقبۃ بن الحارث النوفلی رضی الله تعالٰی عنہ (اسے امام بخاری نے عقبہ بن حارث نوفلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ ت)
اقول : وقال صلی الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دع مایربك الی مایریبك [7]۔ رواہ الامام احمد وابوداود الطیالسی والدارمی والترمذی وقال “ حسن صحیح “ والنسائی وابن حبان والحاکم “ وصححاہ “ وابن قانع فی معجمہ عن الامام ابن الامام سیدنا الحسن بن علی رضی الله تعالٰی عنہما بسند قوی وابو نعیم فی الحلیۃ والخطیب فی التاریخ بطریق مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہما۔
اقول : رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ جس میں شبہہ پڑتا ہو وہ کام چھوڑدے اور ایسے کی طرف آ جس میں کوئی دغدغہ نہیں “ ۔ اسے امام احمد ، ابوداود طیالسی ، دارمی ، ترمذی ، نے روایت کیا اور اسے حسن صحیح کہا۔ نسائی ، ابن حبان اور حاکم ان دونوں نے اسے صحیح کہا۔ ابن قانع نے اپنی معجم میں امام ابن امام سیدنا حسن بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سند قوی کے ساتھ روایت کیا۔ ابونعیم نے حلیہ اور خطیب نے تاریخ میں بطریق مالك عن نافع عن ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کیا۔ (ت)
[1] المیزان الکبرٰی فصل فی استحالہ خروج شیئ من اقوال المجتہدین الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵
[2] الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۹۱
[3] الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۸۸
[4] المیزان الکبرٰی فصل فی استحالۃ خروج شیئ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴
[5] القرآن ۹$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع