دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

محدثین وفقہا وغیرہم علما نے فرمایا کہ فضائل اور نیك بات کی ترغیب اور بُری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ومستحب ہے جبکہ موضوع نہ ہو۔

بعینہا یہی الفاظ امام ابن الہائم نے العقد النضید فی تحقیق کلمۃ التوحید پھر عارف بالله   سیدی ۳۲عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ عـــہ۱ ۳۳شرح طریقہ محمدیہ میں نقل فرمائے ، ۳۴امام فقیہ النفس محقق علی الاطلاق فتح القدیر عــــہ۲میں فرماتے ہیں : الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع [1] (حدیث ضعیف سے کہ موضوع نہ ہو فعل کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے) علامہ۳۵ ابراہیم حلبی غنیۃالمستملی عــــہ۳ فی شرح منیۃ المصلی میں فرماتے ہیں :

(یستحب ان یمسح بدنہ بمندیل بعدالغسل) لماروت عائشۃ رضی الله  تعالی عنھا قالت کان للنبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعدالوضوء رواہ الترمذی وھو ضعیف ولکن یجوز العمل بالضعیف فی الفضائل [2]۔                                              

(نہاکر رومال سے بدن پُونچھنا مستحب ہے جیسا کہ ترمذی نے ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کی کہ حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموضو کے بعد رومال سے اعضاءِ مبارك صاف فرماتے۔ ترمذی نے روایت کیا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل میں ضعیف پر عمل روا۔

مولانا۳۶ علی قاری موضوعاتِ کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کرکے فرماتے ہیں :

الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب اوسنۃ [3]۔

فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنّت ہے۔

عـــہ۱ :  اواخر الفصل الثانی من باب الاول ۱۲ منہ (م) 

عــــہ۲ :  قبیل فصل فی حمل الجنازۃ ۱۲ منہ (م) 

عـــہ۳  :  فی سنن الغسل ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ (م)                   

باب اول کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
فصل فی حمل الجنازہ سے تھوڑا پہلے اس کو بیان کیا ہے
۱۲ منہ (ت)

 سنن غسل میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

امام جلیل۳۷ سیوطی طلوع عــــہ۱ الثریا باظہار ماکان خفیا میں فرماتے ہیں :

استحبہ ابن الصلاح وتبعہ النووی نظر الی ان الحدیث الضعیف یتسامح بہ فی فضائل الاعمال [4]۔

تلقین کو امام ابن الصلاح پھر امام نووی نے اس نظر سے مستحب مانا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے۔

علامہ۳۸ محقق جلال دوانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِانموذج العلوم عــــہ۲  میں فرماتے ہیں :

الذی یصلح للتعویل علیہ ان یقال اذاوجد حدیث فی فضیلۃ عمل من الاعمال لایحتمل الحرمۃ والکراھیۃ یجوز العمل بہ ویستحب لانہ مامون الخطر ومرجو النفع [5]۔

اعتماد کے قابل یہ بات ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت میں کوئی حدیث پائی جائے اور وہ حرمت وکراہت کے قابل نہ ہوتو اُس حدیث پر عمل جائز ومستحب ہے کہ اندیشہ سے امان ہے اور نفع کی اُمید۔

اندیشہ سے امان یوں کہ حُرمت وکراہت کا محل نہیں اور نفع کی اُمید یوں کہ فضیلت میں حدیث مروی ہے اگرچہ ضعیف ہی سہی۔

اقول : وبالله  التوفیق بلکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کے معنی ہی یہ ہیں کہ استحباب مانا جائے

عــــہ ۱  :  نقلہ بعض العصریین وھو فیما نری ثقۃ فی النقل ۱۲ منہ (م)

عــــہ ۲  :  نقلہ العلّامۃ شھاب الخفاجی فی نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فی شرح الدیباجۃ حیث روی المصنّف رحمۃ الله  تعالٰی بسندہ الی ابی داؤد حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث وللمحقق ھھنا کلام طویل نقلہ الشارح ملخصا ونازعہ بماھو منازع فیہ والوجہ مع المحقق فی عامۃ ماذکروا لولا خشیۃ الاطالۃ لاٰتینا بکلاھما مع مالہ وعلیہ ولکن سنشیر ان شاء الله  تعالٰی الٰی احرم یسیر یظھر بھا الصواب بعون الملك الوھاب ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ (م)

ورنہ نفس جواز تو اصالت اباحت وانعدام نہی شرعی سے آپ ہی ثابت ، اُس میں حدیث ضعیف کا کیا دخل ہُوا ، تو لاجرم ورود حدث کے سبب جانب فعل کو مترجح مانےے کہ حدیث کی طرف اسناد محقق اور اُس پر عمل ہونا صادق ہو اور یہی معنی استحباب ہے ، آخر نہ دیکھا کہ علّامہ حلبی وعلّامہ قاری نے اسے عمل وجواز عمل کو دلیل ومثبت استحباب قرار دیا اور امام محمدمحمدمحمد ابن امیرالحاج نے مقامِ اباحت میں اُس سے تمسك کو درجہ ترقی واولویت میں رکھا کہ جب اُس پر عمل ہونا ہے تو ثبوت اباحت تو بدرجہ اولٰی اس کے کھُل گیا کہ اُس پر عمل کے معنی نفس اباحت سے ایك زائد وبااتر چیز ہے اور وہ نہیں مگر استحباب وھذا ظاھر لیس دونہ حجاب (اور یہ ظاہر ہے اس میں کوئی خفا نہیں ۔ ت) حلیہ۳۹ شرح عــــہ۱ منیہ میں فرماتے ہیں :

الجمھور علی العمل بالحدیث الضعیف الذی لیس بموضوع فی فضائل الاعمال فھو فی ابقاء الاباحۃ التی لم یتم دلیل علی انتقائھا کمافیما نحن فیہ اجدر [6]۔

جمہور علماء کا مسلك فضائل اعمال میں حدیث ضعیف غیر موضوع پر عمل کرنا ہے تو ایسی حدیث اُس اباحت فعل کے باقی رکھنے کی تو زیادہ سزا وار ہے جس کی نفی پر دلیل تمام نہ ہوئی جیسا کہ ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔

امام۴۰ ابوطالب مکی قوت القلوب عــــہ۲ میں فرماتے ہیں :

الحدیث اذالم ینافہ کتاب اوسنۃ وان لم یشھد الہ ان لم یخرج تاویلہ عن اجماع الامۃ ، فانہ یوجب القبول والعمل لقولہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم کیف وقد قیل [7]۔

 



[1]   فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۹۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن