30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معتمد علما نے تصریح فرمائی ہے کہ اہلِ علم کی موافقت صحتِ حدیث کی دلیل ہوتی ہے اگرچہ اُس کے لئے کوئی سند قابلِ اعتماد نہ ہو۔
یہ ارشاد علما احادیث احکام کے بارے میں ہے پھر احادیثِ فضائل تو احادیثِ فضائل ہیں ۔
افادہ شانزدہم۱۶ : (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں )جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایك پلّہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلٰی درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تك حدیث مشہور ، متواتر نہ ہو اُس کا ثبوت نہیں دے سکتے احاد اگرچہ کیسے ہی قوت سند ونہایت صحت پر ہوں اُن کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں ۔ (عقائد میں حدیث احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں )یہ اصول عقائد اسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار ، علّامہ تفتازانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِشرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں :
خبر الواحد علی تقدیر اشتمالہ علٰی جمیع الشرائط المذکورۃ فی اصول الفقہ لایفید الا الظن ولاعبرۃ بالظن فی باب الاعتقادات[1]۔
حدیث احاد اگرچہ تمام شرائط صحت کی جامع ہو ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقادمیں ظنیات کاکچھ اعتبار نہیں ۔
عـــہ باب الصلاۃ حدیث من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقداتی بابا من ابواب الکبائر اخرجہ الترمذی وقال حسین ضعفہ احمد وغیرہ والعمل علی ھذا الحدیث عنداھل العلم فاشار بذلك الی ان الحدیث اعتضد بقول اھل العلم وقدصرح غیر واحد [2] الخ ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
باب الصلوٰۃ کی اس حدیث کے تحت ذکر ہے جس میں ہے کہ جس نے دو۲ نمازیں بغیر عذر کے جمع کیں اس نے کبائر میں سے ایك کبیرہ کا ارتکاب کیا ، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسین نے کہا احمد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اہلِ علم کا اس حدیث پر عمل ہے ، اس سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس حدیث نے اہلِ علم کے قول کے ذریعے قوت حاصل کی ہے اور اس کی تصریح متعدد محدثین نے کی ہے ۱۲ منہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ(ت)
مولاناعلی قاری منح الروض الازہر میں فرماتے ہیں : الاحاد لاتفید الاعتماد فی الاعتقاد[3] (احادیث احاد دربارہ اعتقاد ناقابلِ اعتماد)۔ (دربارہ احکام ضعیف کافی نہیں ) دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ اُن کے لئے اگرچہ اُتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہئے ، جمہور علماء یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔
(فضائل ومناقب میں باتفاق علماء حدیثِ ضعیف مقبول وکافی ہے) تیسرا مرتبہ فضائل ومناقب کا ہے یہاں باتفاقِ عـــہ۱ علماء ضعیف عـــہ۲حدیث بھی کافی ہے ، مثلًا کسی حدیث میں ایك عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کرے گااتنا ثواب پائے گایاکسی نبی یاصحابی کی خُوبی بیان ہوئی کہ اُنہیں الله عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا ، یہ فضل عطا کیا ، تو ان کے مان لینے کوضعیف حدیث بھی بہت ہے ، ایسی جگہ صحت حدیث میں کام کرکے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرق مراتب نہ جاننے سے ناشیئ ، جیسے بعض جاہل بول اُٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ، یہ اُن کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں ، یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ، عزیز ومسلم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے ، حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے ، عـــہ۳ رسالہ۱ قاری و۲مرقاۃ و۳شرح ابنِ حجر مکی و۴تعقبات و۵لآلی امام سیوطی وقول مسدّد امام عسقلانی کی پانچ عبارتیں افادہ دوم وسوم وچہارم ودہم میں گزریں ، عبارتِ تعقبات میں تصریح تھی کہ نہ صرف ضعیف محض بلکہ منکر بھی فضائلِ اعمال میں مقبول ہے ، بآنکہ اُس میں ضعف راوی کے ساتھ اپنے سے اوثق کی مخالفت بھی ہوتی ہے کہ تنہا ضعف سے کہیں بدتر ہے ، ۶امام اجل شیخ العلماء والعرفاء سیدی ابوطالب محمد بن علی مکی قدس الله سرہ الملکی کتاب جلیل القدر عظیم الفخر قوت القلوب عـــہ۴ فی معاملۃ المحبوب
عـــہ۱ : ای ولاعبرۃ بمن شذ ۱۲منہ (یعنی کسی شاذ شخص کااعتبار نہیں ۔ ت)
عـــہ۲ : الاجماع المذکور فی الضعیف المطلق کمانحن فیہ منہ
عـــہ۳ : مسئلہ امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تحقیق وتنقیح فقیر کے رسالہ البشری العاجلہ من تحف اجلہ ورسالہ الاحادیث الراویہ لمدح الامیر المعاویہ ورسالہ عرش الاعزاز والاکرام لاول ملوك الاسلام ورسالہ ذب الاھواء الواہیہ فی باب الامیرمعاویہ وغیرھامیں ہے وفقناالله تعالی بمنہ وکرمہ لترصیفھاوتبیینھاونفع بھاوبسائر تصانیفی امۃ الاسلام بفھمھا و بتفہیمھا امین باعظم القدرۃ واسع الرحمۃ امین صلی الله تعالی وبارك وسلم علی سیدنامحمدوالہ وصحبہ وسلم ١٢منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
عـــہ۴ فی فصل الحادی و الثلثین ۱۲ منہ
میں فرماتے ہیں :
الاحادیث فی فضائل الاعمال وتفضیل الاصحاب متقبلۃ محتملۃ علی کل حال مقاطیعھا ومراسیلھا لاتعارض ولاترد ، کذلك کان السلف یفعلون [4]۔
فضائل اعمال وتفضیلِ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی حدیثیں کیسی ہی ہوں ہر حال میں مقبول وماخوذ ہیں مقطوع ہوں خواہ مرسل نہ اُن کی مخالفت کی جائے نہ اُنہیں رَد کریں ، ائمہ سلف کا یہی طریقہ تھا۔
۷امام ابوزکریا نووی اربعین پھر امام ابن حجر مکی شرح مشکوٰۃ پھر مولانا علی قاری مرقاۃ عـــہ۱ وحرز عـــہ۲ ثمین ۸شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :
قداتفق الحفاظ ولفظ الاربعین قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال [5]ولفظ الحرز لجواز العمل بہ فی فضائل الاعمال بالاتفاق [6]۔
یعنی بیشك حفاظِ حدیث وعلمائے دین کا اتفاق ہے کہ فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے۔ (ملخصًا)
۹فتح المبین بشرح عـــہ۳ الاربعین میں ہے :
لانہ ان کان صحیحا فی نفس الامرفقد اعطی حقہ من العمل بہ ، والالم یترتب علی العمل بہ مفسدۃ تحلیل ولاتحریم ولاضیاع حق للغیر وفی حدیث ضعیف من بلغہ عنی ثواب عمل فعملہ حصل لہ اجرہ وان لم اکن قلتہ اوکما قال واشار المصنّف رحمہ الله تعالٰی بحکایۃ الاجماع علٰی ماذکرہ الی الرد علی من نازع فیہ [7]الخ
[1] التعقبات علی الموضوعات باب الصلوٰۃ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ص ۱۲
[2] شرح عقائد نسفی بحث تعداد الانبیاء مطبوعہ دارالاشاعت العربیۃ قندھار ص۱۰۱
[3] منح الروض الازہرشرح فقہ اکبر الانبیاء منزھون عن الکباروالصغائر مصطفی البابی مصر ص۵۷
[4] قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب فصل الحادی والعشرون مطبوعہ دارصادر مصر ۱ / ۱۷۸
[5] شرح اربعین للنووی خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع