دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

حضرت مجاہد حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس کے تین۳ بیٹے ہوں اور ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے اس نے جہالت سے کام لیا۔ (ت)

پر طعن کیا کہ لیث کو امام احمد وغیرہ نے متروك کیا اور ابن حبان نے مختلط بتایا ، امام سیوطی عـــہ۱  نے اس کا شاہد بروایت نضر بن شنقی مرسلًا مسند حارث سے ذکر کرکے ابن القطان سے نضر کا مجہول ہونا نقل کیا ، پھر فرمایا :

ھذا المرسل یعضد حدیث ابن عباس ویدخلہ فی قسم المقبول[1]۔

یہ مرسل اُس حدیث ابن عباس کی مؤید ہوکر اسے قسم مقبول میں داخل کرے گی۔

علّامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں عـــہ۲٢ فرماتے ہیں :

فی اسنادہ جھالۃ لکنہ اعتضد فصار حسنا[2]۔

اس کی اسناد میں جہالت مگر تائید پاکر حسن ہوگئی۔

 

عــــہ۱   لآلی کتاب المبتداء

عـــہ۲  تحت حدیث ابنوا المساجد واخرجوا القمامۃ منھا ١٢ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ

افادہ چہاردہم۱۴ : (حصولِ قوت کو صرف دو سندوں سے آنا کافی ہے)حصولِ قوّت کیلئے کچھ بہت سے ہی طرق کی حاجت نہیں صرف دو۲ بھی مل کر قوت پاجاتے ہیں ، اس کی ایك مثال ابھی گزری ، نیز تیسیر میں فرمایا : ضعیف لضعف عمروبن واقد لکنہ یقوی بورودہ من طریقین[3]۔ یعنی حدیث تو اپنے راوی عمروبن واقد متروك کے باعث ضعیف ہے مگر دو۲ سندوں سے آکر قوّت پاگئی۔ اُسی میں حدیث “ اکرموا المعزی وامسحوا برغامھا فانھا من دواب الجنۃ [4] “ اسنادہ ضعیف لکن یجبرہ ماقبلہ فیتعاضدان [5]۔ (بکری کی عزت کرو اور اس سے مٹی جھاڑوکیونکہ وہ جنتی جانور ہے۔ ت)بروایت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یزید بن نوفلی کے سبب تضعیف کی پھر اس کے شاہد بروایت ابی سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو فرمایا : سند اس کی بھی ضعیف ہے لیکن پھر پہلی سند اس کی تلافی کرتی ہے تو دو۲ مل کر قوی ہوجائیں گے۔ جامع صغیر میں حدیث “ اکرموا العلماء فانہ ورثۃ الانبیاء[6] “ (علماء کا احترام کرو کیونکہ وہ انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں ۔ ت) دو۲ طریقوں سے ایراد کی ، اوّل : ابن عساکر عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ دوم : خط یعنی الخطیب فی التاریخ عن جابر بن عبدالله  رضی الله  تعالٰی عنہما۔ علّامہ مناوی وعلّامہ عزیزی نے تیسیر وسراج المنیر میں زیر طریق اول لکھا : ضعیف لکن یقویہ مابعدہ [7](ضعیف ہے مگر پچھلی حدیث اسے قوّت دیتی ہے) زیرِ طریق دوم فرمایا : ضعیف لضعف الضحاك بن حجرۃ لکن یعضدہ ماقبلہ [8](ضحاك بن حجرۃ کے ضعف سے یہ بھی ضعیف ہے مگر پہلی اسے طاقت بخشتی ہے۔ ت) متتبعِ کلماتِ علماء اس کی بہت مثالیں پائے گا۔

افادہ پانزدہم۱۵ : (اہلِ علم کے عمل کرنے سے بھی حدیثِ ضعیف قوی ہوجاتی ہے) اہلِ علم کے عمل کرلینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے اگرچہ سند ضعیف ہو۔ مرقاۃ عـــہ میں ہے :

عـــہ :  باب ماعلی الموموم من المتابعۃ اول الفصل الثانی ۱۲ منہ رضی الله  تعالٰی عنہ

رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث غریب والعمل علی ھذا عند اھل العلم ، قال النووی واسنادہ ضعیف نقلہ میرک ، فکأن الترمذی یرید تقویۃ الحدیث بعمل اھل العلم ، والعلم عندالله  تعالٰی کماقال الشیخ محی الدین ابن العربی انہ بلغنی عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ، انہ من قال لاالٰہ الالله  سبعین الفا ، غفرالله  تعالٰی لہ ، ومن قیل لہ غفرلہ ایضا ، فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیران انوی لاحد بالخصوص ، فحضرت طعاما مع بعض الاصحاب وفیھم شاب مشھور بالکشف ، فاذاھو فی اثناء الاکل اظھر البکأ ، فسألتہ عن السبب ، فقال اری امی فی العذاب ، فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا فضحك وقال انی اراھاالاٰن فی حسن المآب فقال الشیخ فعرفت صحۃ الحدیث بصحۃ کشفہ وصحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث [9]۔                        

یعنی امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اہلِ علم کا اس پر عمل ہے سید میرك نے امام نووی سے نقل کیا کہ اس کی سند ضعیف ہے توگویا امام ترمذی عملِ اہل علم سے حدیث کو قوت دینا چاہتے ہیں والله   تعالٰی اعلم اس کی نظیر وہ ہے کہ سیدی شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا مجھے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستّر ہزار بار لاالٰہ الا الله  کہے اس کی مغفرت ہو اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی مغفرت ہو ، میں نے لاالٰہ الا الله  اتنے بار پڑھا تھااُس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی اپنے بعض رفیقوں کے ساتھ ایك دعوت میں گیا اُن میں ایك جوان کے کشف کا شُہرہ تھاکھاناکھاتے کھاتے رونے لگا میں نے سبب پُوچھا ، کہااپنی ماں کو عذاب میں دیکھتا ہُوں ، میں نے اپنے دل میں کلمہ کا ثواب اُس کی ماں کو بخش دیا فورًا وہ جوان ہنسنے لگا اور کہا اب میں اُسے اچھی جگہ دیکھتا ہوں ، امام محی الدین قدس سرہ فرماتے ہیں تو میں نے حدیث کی صحت اُس جوان کے کشف کی صحت سے پہچانی اور اس کے کشف کی صحت حدیث کی صحت سے جانی۔

امام سیوطی تعقبات عـــہ میں امام بیہقی سے ناقل تداولھا الصالحون بعضھم عن بعض وفی ذلك تقویۃ للحدیث المرفوع [10] (اسے صالحین نے ایك دوسرے سے اخذ کیا اور اُن کے اخذ میں حدیث مرفوع کی تقویت ہے)اُسی عـــہ میں فرمایا :

 

عـــہ  باب الصلاۃ حدیث صلاۃ التسبیح ۱۲ منہ

قدصرح غیرواحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العلم بہ وان لم یکن لہ اسناد یعتمد علٰی مثلہ [11]۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن