دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

مااختلفوا فی انہ موضوع ترکت ذکرہ للحذر من الخطر لاحتمال ان یکون موضوعا من طریق وصحیحا من وجہ اٰخر[1] الخ

جس کے موضوع ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے تو میں نے اس حدیث کا ذکر اس خطرہ کے پیشِ نظر ترك کیا کہ ممکن ہے یہ ایك سند کے اعتبارسے موضوع ہو اور دوسری سندکے اعتبار سے صحیح ہو الخ (ت)

علّامہ زرقانی حدیث احیائے ابوین کریمین کی نسبت فرماتے ہیں :

قال السھیلی ان فی اسنادہ مجاھیل وھو یفیدضعفہ فقط ، وبہ صرح فی موضع اٰخر من الروض وایدہ بحدیث ولاینافی ھذا توجیہ صحتہ لان مرادہ من غیر ھذا الطریق ، ان وجد ، اوفی نفس الامر لان الحکم بالضعف وغیرہ انما ھو فی الظاھر[2]۔                        

سہیلی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں راوی مجہول ہیں جو اس کے فقط ضعف پر دال ہیں اور اسی بات کی تصریح الروض میں دوسرے مقام پر کی ہے اور اس کوحدیث کے ساتھ تقویت دی اور یہ صحتِ حدیث کی توجیہ کے منافی نہیں کیونکہ اس کی مراد اس سند کے علاوہ ہے اگر وہ موجود ہو ورنہ نفس الامر کے اعتبار سے کیونکہ ضعف وغیرہ کا حکم ظاہر میں ہوتا ہے۔ (ت)

اور سُنئے حدیث “ صلاۃ بسواك خیرمن سبعین صلاۃ بغیر سواك [3] “ (مسواك کے ساتھ نماز بے مسواك کی ستّر۷۰ نمازوں سے بہتر ہے) ابونعیم نے کتاب السواك میں دو۲ جید وصحیح سندوں سے روایت کی ، امام ضیاء نے اسے صحیح مختارہ اور حاکم نے صحیح مستدرك میں داخل کیا اور کہا شرطِ مسلم پر صحیح ہے۔ امام احمد وابن خزیمہ وحارث بن ابی اسامہ وابویعلی وابن عدی وبزار وحاکم وبیہقی وابونعیم وغیرہم اجلّہ محدثین نے بطریق عدیدہ واسانید متنوعہ احادیث اُمّ المومنین صدیقہ وعبدالله   بن عباس وعبدالله   بن عمرو جابربن عبدالله   وانس بن مالك وام الدرداء وغیرہم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے تخریج کی ، جس کے بعد حدیث پر حکمِ بطلان قطعًا محال ، بااینہمہ ابوعمر ابن عبدالبرنے تمہید میں امام ابن معین سے اُس کا بطلان نقل کیا ، علّامہ شمس الدین سخاوی مقاصد حسنہ میں اسے ذکر کرکے فرماتے ہیں :

قول ابن عبدالبر فی التمھید عن ابن معین ، انہ حدیث باطل ، ھو بالنسبۃ لماوقع لہ من طرقہ [4]۔

یعنی امام ابن معین کا یہ فرمانا(کہ یہ حدیث باطل ہے اُس سند کی نسبت ہے جو انہیں پہنچی۔ )

ورنہ حدیث تو باطل کیا معنے ضعیف بھی نہیں ، اقل درجہ حسن ثابت ہے۔

اور سُنیے حدیث حسن صحیح مروی سنن ابی داؤد ونسائی وصحیح مختارہ وغیرہا صحاح وسنن :

ان رجلا اٰتی النبی صلّی الله  تعالٰی علیہ وسلم فقال ان امرأتی لاتدفع عـــہ یدلامس قال طلقھا قال انّی احبھا قال استمتع [5] بھا۔

ایك شخص نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری بیوی کسی بھی چھُونے والے کے ہاتھ کو منع نہیں کرتی۔ فرمایا : اُسے طلاق دے دے۔ عرض کیا : میں اس سے محبت رکھتا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا : اس سے نفع حاصل کر۔ (ت)

کہ باسانید ثقات وموثقین احادیث جابر بن عبدالله   وعبدالله   بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے آئی ، امام ذہبی نے مختصر سُنن میں کہا : “ اسنادہ صالح “ (اس کی سند صالح ہے۔ ت) امام عبدالعظیم منذری نے مختصر سنن میں فرمایا : “ رجال اسنادہ محتج بھم فی الصحیحین علی الاتفاق والانفراد [6] (اس روایت کے تمام راوی ایسے ہیں جن سے بخاری ومسلم میں اتفاقا اور انفرادًا استدلال کیا ہے۔ (ت)

عـــہ  ای کل من سألھا شیئا من طعام اومال اعطتہ ولم ترد ھذا ھوالراجح عندنا فی معنی الحدیث۔  والله  تعالٰی اعلم۔ (م)

یعنی جو شخص بھی اس سے طعام یا مال مانگتا ہے وہ اسے دے دیتی ہے رَد نہیں کرتی ، حدیث کے معنی میں ہمارے نزدیك یہی راجح ہے والله   تعالٰی اعلم۔ (ت)

امام ابنِ حجر عسقلانی نے فرمایا : حسن صحیح (حسن صحیح ہے۔ ت) اس حدیث کو جو حافظ ابوالفرج نے امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے ارشاد “ ولیس لہ اصل ولایثبت عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم “ (اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی یہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ثابت ہے۔ ت)( کی تبعیت سے لا اصل لہ (اس کی کوئی اصل نہیں ۔ ت) کہا امام الشان حدیث کا صحیح ہونا ثابت کرکے فرماتے ہیں :

لایلتفت الٰی ماوقع من ابی الفرج ابن الجوزی ،  حیث ذکر ھذا الحدیث فی الموضوعات ، ولم یذکر من طرقہ الاالطریق التی اخرجھا الخلال من طریق ابی الزبیر عن جابر ، واعتمد فی بطلانہ علی مانقلہ الخلال عن احمد ، فابان ذلك عن قلّۃ اطلاع ابن الجوزی وغلبۃ التقلید علیہ ، حتی حکم بوضع الحدیث بمجرد ماجاء عن امامہ ، ولوعرضت ھذہ الطرق علی امامہ لاعترف علی ان للحدیث اصلا ، ولکنہ لم تقع لہ فلذلك لم ارلہ فی مسندہ ،  ولافیمایروی عنہ ذکرااصلا لامن طریق ابن عباس ولامن طریق جابرسوی ماسألہ عند الخلال وھو معذور فی جوابہ بالنسبۃ لتلك الطریق بخصوصھا [7] اھ ذکرہ فی اللالی عـــہ۔           

ابوالفرج ابن جوزی کی اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی کہ انہوں نے اس حدیث کو موضوعات میں شامل کیا ہے اور اس کی دیگر اسناد ذکر نہیں کیں ماسوائے اس سند کے جس کے حوالے سے خلال نے ابوالزبیر عن جابر روایت کیا اور اس کے بطلان میں اسی پر اعتماد کرلیا جو خلال نے احمد سے نقل کیا ہے ، تو یہ بات ابن جوزی کے قلتِ مطالعہ اور غلبہ تقلید کو واضح کررہی ہے حتی کہ انہوں نے اپنے امام سے منقول محض رائے کی بنیاد پر حدیث کو موضوع کہہ دیا حالانکہ یہ سندیں اگر ان کے امام کے سامنے پیش کی جاتیں تو وہ فی الفور اعتراف کرلیتے کہ حدیث کی اصل ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اس وجہ سے یہ حدیث اصلًا ان کی مسند میں نہیں آئی اور نہ ہی اُن روایات میں جو ان سے مروی ہیں نہ سند ابن عباس سے اور نہ ہی سند جابر سے ماسوائے اس سند کے جس کے بارے میں خلال نے سوال کیا تھا اور امام احمد اس کے جواب میں معذور ٹھہرے کیونکہ ان کا جواب اسی سند کے اعتبار سے ہے اور اسے لآلی میں ذکر کیا ہے۔ (ت)

 

عـــہ فی اوخر النکاح

باب النکاح کے آخر میں اس کا ذکر کیا ہے (ت)

(نتیجۃ الافادات) بحمدالله  تعالٰی فقیر آستان قادری غفرالله   تعالٰی لہ کے ان گیارہ۱۱  افادات نے مہرنیمروز وماہِ نیم ماہ کی طرح روشن کردیا کہ احادیثِ تقبیل ابہامین کو وضع وبطلان سے اصلًا کچھ علاقہ نہیں ، اُن پندرہ۱۵ عیبوں سے اس کا پاك ہونا تو بدیہی اور یہ بھی صاف ظاہر کہ اس کا مدار کسی وضاع ، کذاب یا متہم بالکذب پر نہیں ۔ پھر حکمِ وضع محض بے اصل وواجب الدفع ، ولہذا علمائے کرام نے صرف “ لا یصح “ فرمایا یہاں تك کہ وہابیہ کے امام شوکانی نے بھی بآنکہ ایسے مواقع میں سخت



[1]   الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ الدافع للمؤلف لتالیف ہٰذا المختصر مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۴۵۔ ۴۶

[2]   شرح زرقانی علی المواہب باب وفاۃ امّہ ومایتعلق بابویہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مطبوعہ المطبعۃ العامرہ مصر۱ / ۱۹۶ 

[3]   مسند احمد بن حنبل از مسند عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۲۷۲

[4]   المقاصد الحسنۃ للسخاوی حدیث ۶۲۵$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن