دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

عـــہ۲  باب فضائل القراٰن ١٢ منہ

عـــہ۳  آخر البعث ١٢ منہ                                         

دسویں مقصد کی فصل ثانی فی زیادۃ قبرالنبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)

باب فضائل القرآن میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)

باب البعث کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ(ت)

حدیث فیہ حسن بن فرقدلیس بشیئ ، قلت ، لم یتھم بکذب ، واکثر مافیہ ان الحدیث ضعیف [1]۔

اس حدیث کی سند میں حسن بن فرقد کوئی شیئ نہیں ، میں کہتا ہوں کہ یہ متہم بالکذب نہیں ، زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ (ت)

اُسی میں عـــہ۱ ہے :

حدیث فیہ عطیۃ العوفی وبشربن عمارۃ ضعیفان “ قلت “ فی الحکم بوضعہ نظرفلم یتھم واحد منھما بکذب[2]۔

اس حدیث کی سندمیں عطیہ اور بشر دونوں ضعیف ہیں ، میرے نزدیك اس حدیث پر وضع کا حکم نافذکرنا محلِ نظر ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی پر بھی کذب کی تہمت نہیں ۔ (ت)

۱۰اسی میں عـــہ۲ ہے :

حدیث اطلبواالعلم ولوبالصّین ، فیہ ابوعاتکۃ منکر  الحدیث “ قلت “ لم یجرح بکذب و لاتھمۃ[3]۔

حدیث “ علم حاصل کرو اگرچہ چین جانا پڑے “ اس کی سند میں ابوعاتکہ منکر الحدیث ہے میں کہتا ہوں اس پر کذب اور تہمت کا طعن نہیں ہے۔ (ت)

۱۱ اُسی میں عـــہ۳ ہے :

حدیث فیہ عمار لایحتج بہ قال الحافظ ابن حجر ،  تابعہ اغلب واغلب شبیہ بعمارۃ فی الضعف ، لکن لم ارمن اتھمہ بالکذب [4]۔

اس حدیث کی سند میں عمارہ ہے ، لہذا یہ قابلِ استدلال نہیں ، حافظ ابنِ حجر کہتے ہیں کہ اس کی اغلب نے متابعت کی ہے اور اغلب ضعف میں عمارہ کے مثل ہے ، لیکن میرے علم میں کوئی ایسا نہیں جس نے اس پر کذب کی تہمت لگائی ہو۔ (ت)

۱۲علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں حدیث عالم قریش یملؤ الارض علمًا(عالم قریشی زمین کو علم سے بھردے گا۔ ت)کی نسبت فرمایا : یتصور وضعہ ولاکذاب فیہ ولامتھم [5] اس کا موضوع ہونا کیونکر متصور ہو حالانکہ نہ اُس میں کوئی کذاب نہ کوئی متہم۔

عــــہ۱   آخر التوحید ۱۲ منہ  ۔  عـــہ۲  اول العلم ۱۲ منہ ۔  عــــہ۳    اول باب البعث                    ب

اب التوحید کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)

باب العلم کی ابتداء میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)

بالجملہ اس قدر پر اجماعِ محققین ہے کہ حدیث جب اُن دلائل وقرائن قطعیہ وغالبہ سے خالی ہو اور اُس کا مدار کسی متہم بالکذب پرنہ ہوتو ہرگز کسی طرح اُسے موضوع کہنا ممکن نہیں جو بغیر اس کے حکم بالوضع کردے یا مشدد مفرط ہے یا مخطی غالط یا متعصب مغالط والله   الھادی وعلیہ اعتمادی۔

افادہ یازدہم : (بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایك سند خاص کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے) جو حدیث فی نفسہٖ ان پندرہ۱۵ دلائل سے منزّہ ہو محدّث اگر اُس پر حکم وضع کرے تو اس سے نفس حدیث پر حکم لازم نہیں بلکہ صرف اُس سند پر جو اُس وقت اس کے پیشِ نظر ہے ، بلکہ بارہا اسانید عدیدہ حاضرہ سے فقط ایك سند پر حکم مراد ہوتا ہے یعنی حدیث اگرچہ فی نفسہٖ ثابت ہے ، مگر اس سند سے موضوع وباطل اور نہ صرف موضوع بلکہ انصافًاضعیف کہنے میں بھی یہ حاصل حاصِل ائمہِ حدیث نے ان مطالب کی تصریحیں فرمائیں تو کسی عالم کو حکم وضع یا ضعف دیکھ کر خواہی نخواہی یہ سمجھ لینا کہ اصل حدیث باطل یا ضعیف ہے ، ناواقفوں کی فہم سخیف ہے ، میزان الاعتدال امام ذہبی میں ہے :

ابراھیم بن موسٰی المروزی عن مالك عن نافع عن ابن عمر رضی الله  تعالٰی عنہماحدیث “ طلب العلم فریضۃ “ قال احمد بن حنبل “ ھذا کذب “  یعنی بھذا الاسناد والا فالمتن لہ طرق ضعیفۃ [6]۔

ابراہیم بن موسٰی المروزی مالك سے نافع سے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے راوی ہیں کہ امام احمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جو حدیث طلب العلم فریضۃ کو کذب فرمایااس سے مراد یہ ہے کہ خاص اس سند سے کذب ہے ، ورنہ اصل حدیث تو کئی سندوں ضعاف سے وارد ہے۔ (ت)

امام شمس الدین ابوالخیر محمدمحمد محمد ابن الجزری استادامام الشان امام ابن حجر عسقلانی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے حصن حصین شریف میں جس کی نسبت فرمایا : فلیعلم انی ارجو ان یکون جمیع مافیہ صحیحا [7] (معلوم رہے کہ میں امیدکرتاہوں کہ اس کتاب میں جتنی حدیثیں ہیں سب صحیح ہیں )حدیث حاکم وابن مردودیہ کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ تعزیت نامہ ارسال فرمایاذکر کی ، مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری  اُس کی شرح حرزثمین میں لکھتے ہیں :

صرح ابن الجوزی بان ھذا الحدیث موضوع  “ قلت “ یمکن ان یکون بالنسبۃ الٰی اسنادہ المذکور عندہ موضوعًا [8]۔

ابنِ جوزی نے تصریح کی ہے کہ یہ روایت موضوع ہے “ میں کہتا ہوں “ ممکن ہے اس مذکورہ سند کے اعتبار سے ان کے نزدیك موضوع ہو۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن