30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الموضوع ھو الحدیث الذی فیہ الطعن بکذب الراوی [1]۔
موضوع اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کے راوی پر کذب کا طعن ہو۔ (ت)
علامہ۴ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب عـــہ۱ لدنیہ میں فرماتے ہیں :
احادیث الدیك حکم ابن الجوزی بوضعھاورد علیہ الحافظ بماحاصلہ انہ لم یتبین لہ الحکم بوضعھااذلیس فیھا وضاع ولاکذاب نعم ھوضعیف من جمیع طرقہ[2]۔
روایات دیك (مرغ) کو ابن جوزی نے موضوع قرار دیا ہے اور حافظ نے ان کا رد کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس کا مرفوع قرار دینا بیان نہیں کیاکیونکہ اس میں نہ کوئی وضاع ہے اور نہ کذاب ، ہاں وہ جمع طرق کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ (ت)
۵اُسی میں حدیث عـــہ۲ کان لایعود الابعد ثلث [3](سرکار دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتین دن کے بعد عیادتِ مریض فرماتے تھے۔ ت) پر اس طعن کے جواب میں کہ اس میں مسلمہ بن علی متروك واقع ہے ، فرمایا :
اوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات وتعقبوا “ بانہ ضعیف فقط ، لاموضوع ، فان مسلمۃ لم یجرح بکذب کماقالہ الحافظ ولاالتفات لمن غر بزخرف القول فقال ھو موضوع کماقال الذھبی وغیرہ [4]۔
ابنِ جوزی نے اسے موضوعات میں شامل کیا ہے محدثین نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف ضعیف ہے موضوع نہیں کیونکہ مسلمہ پر جرح بالکذب نہیں جیساکہ حافظ نے کہا اور نہ توجہ کی جائے اس شخص کی طرف جس نے ملمع کاری سے دھوکاکھایا اور کہاکہ یہ موضوع ہے جیسا کہ ذہبی وغیرہ نے کہا۔ (ت)
عـــہ۱ : المقصد الثانی آخر الفصل التاسع ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : المقصد الثامن من الفصل الاول فی طبہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی
دوسرے مقصد کی ساتویں فصل کے آخر میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
آٹھویں مقصدکی پہلی فصل سے طب نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممیں اس کاذکرہے ۱۲منہ (ت)
اُسی میں بعد کلام مذکور ہے :
المدارعلی الاسناد فان تفردبہ کذاب اووضاع فحدیثہ موضوع وان کان ضعیفا فالحدیث ضعیف فقط [5]۔
مدار سندِ حدیث پر ہے اگر اسے روایت کرنے والا کذاب یا وضاع متفردہے تو وہ روایت موضوع ہوگی اور اگر ضعیف ہے تو روایت صرف ضعیف ہوگی۔ (ت)
۶انہیں ابن علی خشنی نے حدیث لیس عیادۃ الرمد والدمل والضرس (تین اشخاص کی عیادت لازم نہیں جس کی آنکھ میں تکلیف ہو جس کو پھوڑا نکل آئے اور داڑھ درد والے کی۔ ت)کو مرفوعًا روایت کیا اور ہقل نے یحیٰی بن ابی کثیر پر موقوف رکھا ، تو شدّت طعن کے ساتھ مخالفت اوثق نے حدیث کو منکر بھی کردیا ولہذا بیہقی نے موقوف کو “ ھو الصحیح “ (وہ صحیح ہے۔ ت) بتایا ، امام حافظ نے فرمایا :
تصحیحہ وقفہ لایوجب الحکم بوضعہ اذمسلمۃوان کان ضعیفالم یجرح بکذب ، فجزم ابن الجوزی بوضعہ وھم [6]اھ نقلہ الزرقانی قبیل مامر۔
اس کی تصحیح کاموقوف ہونا ہے جوکہ اس کے موضوع ہونے کو ثابت نہیں کرتی کیونکہ مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس پر کذب کاطعن نہیں ، لہذا ثابت ہواکہ ابن جوزی کا ان کو موضوع قراردیناوہم ہے اھ اسے امام زرقانی نے پہلی حدیث سے کچھ پہلے نقل کیا ہے۔ (ت)
۷امام مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا خلیفہ منصور عباسی سے ارشاد کہ اپنا منہ حضور پُرنور شافع یوم النشور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کیوں پھیرتا ہے وہ تیرا اور تیرے باپ آدمعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا الله عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں ، اُن کی طرف منہ کر اور اُن سے شفاعت مانگ کر الله تعالٰی ان کی شفاعت قبول فرمائے گا ، جسے اکابر ائمہ نے باسانید جیدہ مقبولہ روایت فرمایا ، ابن تیمیہ متہّورنے جزافًا بك دیا کہ ان ھذہ الحکایۃ کذب علٰی مالک “ ۔
(اس واقعہ کا امام مالك سے نقل کرنا جھُوٹ ہے۔ ت) علامہ عـــہ۱ زرقانی نے اُس کے رَد میں فرمایا :
ھذا تھوّر عجیب ، فان الحکایۃ رواھا ابوالحسن علی بن فھر فی کتابہ فضائل مالك باسناد لاباس بہ ، واخرجھا القاضی عیاض فی الشفاء من طریقہ عن شیوخ عدۃمن ثقات مشایخہ فمن این انھاکذب ولیس فی اسنادھا وضاع ولاکذاب [7]۔
یہ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ اس واقعہ کو شیخ ابوالحسن بن فہرنے اپنی کتاب “ فضائلِ مالک “ میں ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں کمزوری نہیں اور اسے قاضی عیاض نے شفاء میں متعدد ثقہ مشائخ کے حوالے سے اسی سند سے بیان کیاہے لہذااسے جھُوٹا کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟حالانکہ اسکی سند میں نہ کوئی رواوی وضاع ہے اور نہ ہی کذّاب۔ (ت)
افادہ نہم میں ۸امام الشان وامام خاتم الحفاظ کا ارشاد گزرا کہ راوی متروك سہی کسی نے اُسے وضاع تو نہ کہا ، امام۹ آخر کا قول گزرا کہ مسلمہ ضعیف سہی اس پر طعنِ کذب تو نہیں ، نیز تعقبات عـــہ۲ میں فرمایا :
لم یجرح بکذب فلایلزم انیکون حدیثہ موضوعا [8]۔
اس پر کذب کا طعن نہیں لہذا اس کی روایت کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (ت)
(۳) بہت علماء جہاں حدیث پر سے حکمِ وضع اٹھاتے ہیں وجہ رد میں کذب کے ساتھ تہمتِ کذب بھی شامل فرماتے ہیں کہ یہ کیونکر موضوع ہوسکتی ہے حالانکہ اس کا کوئی راوی نہ کذاب ہے نہ متہم بالکذب۔ کبھی فرماتے ہیں موضوع تو جب ہوتی کہ اس کا راوی متہم بالکذب ہوتا یہاں ایسا نہیں تو موضوع نہیں ۔ ۱افادہ دوم میں امام زرکشی وامام سیوطی کا ارشاد گزرا کہ حدیث موضوع نہیں ہوتی جب تك راوی متہم بالوضع نہ ہو۔ ۲افادہ پنجم میں گزرا کہ ابوالفرج نے کہا ملیکی متروك ہے ، تعقبات میں فرمایامتہم بکذب تونہیں ۔ ۳افادہ نہم میں انہی دونوں ائمہ کا قول گزرا کہ راوی متروك سہی متہم بالکذب تو نہیں ۔ وہیں امام خاتم الحفاظ کے چار۴ قول گزرے کہ راویوں کے ۴مجہول ، ۵مجروح ، ۶ کثیرالخطا ، ۷متروك ہونے سب کے یہی جواب دیے۔ نیز تعقبات عـــہ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع