30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : انصافًا یوں ہی وہ مناقبِ امیر معاویہ وعمروبن العاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکہ صرف نواصب کی روایت سے آئیں کہ جس طرح روافض نے فضائل امیرالمومنین واہل بیت طاہرین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممیں قریب تین لاکھ حدیثوں کے وضع کیں “ کمانص علیہ الحافظ ابویعلی والحافظ الخلیلی فی الارشاد “ (جیسا کہ اس پر حافظ ابویعلی اور حافظ خلیلی نے ارشاد میں تصریح کی ہے۔ ت) یونہی نواصب نے مناقب امیر معٰویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمیں حدیثیں گھڑیں کماارشد الیہ الامام الذاب عن السنۃ احمد بن حنبل رحمہ الله تعالٰی (جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے رہنمائی فرمائی جو سنّت کا دفاع کرنے والے ہیں ۔ ت)
(۱۳) یا قرائن حالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یاغضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑکر پیش کردی ہے جیسے حدیث سبق میں زیادت جناح اورحدیث ذم معلمین اطفال۔
(۱۴) یا تمام کتب وتصانیف اسلامیہ میں استقرائے تام کیاجائے اور اس کاکہیں پتانہ چلے یہ صرف اجلہ حفاظ ائمہِ شان کاکام تھاجس کی لیاقت صدہاسال سے معدوم۔
(۱۵) یاراوی خود اقرار وضع کردے خواہ صراحۃً خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ اقرار ہو ، مثلًا ایك شیخ سے بلاواسطہ
عـــہ : زدتہ لان التواتر لایعتبر الافی الحسیات کمانصوا علیہ فی الاصلین ۱۲ منہ (م)
میں نے اس کا اضافہ کیا کیونکہ تواتر کا اعتبار حسیات کے علاوہ میں نہیں ہوتا جیسے کہ انہوں نے اصول میں اس کی تصریح کی ہے ۱۲ منہ (ت)
بدعوی سماع روایت کرے ، پھراُس کی تاریخِ وفات وہ بتائے کہ اُس کااس سے سننامعقول نہ ہو۔
یہ پندرہ۱۵ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع وتلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں ولوبسطنا المقال علٰی کل صورۃ لطال الکلام وتقاصی المرام ، ولسناھنالك بصددذلک(اگر ہم ہر ایك صورت پر تفصیلی گفتگو کریں تو کلام طویل اور مقصد دُورہوجائے گالہذا ہم یہاں اس کے درپے نہیں ہوتے۔ (ت)
ثمّ اقول(پھر میں کہتا ہوں ۔ ت)رہا یہ کہ جو حدیث ان سب سے خالی ہو اس پر حکم وضع کی رخصت کس حال میں ہے ، اس باب میں کلمات علمائے کرام تین طرز پر ہیں :
(۱) انکار محقق یعنی بے امور مذکورہ کے اصلًا حکم وضع کی راہ نہیں اگرچہ راوی وضاع ، کذاب ہی پر اُس کا مدار ہو ، امام سخاوی نے فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث میں اسی پر جزم فرمایا ، فرماتے ہیں :
مجرد تفرد الکذاب بل الوضاع ولوکان بعد الاستقصاء فی التفتیش من حافظ متبحرتام الاستقراء غیر مستلزم لذلك بل لابد معہ من انضمام شیئ مماسیاتی [1]۔
یعنی اگر کوئی حافظ جلیل القدرکہ علمِ حدیث میں دریااور اس کی تلاش کا مل ومحیط ہو ، تفتیش حدیث میں استقصائے تام کرے اور بااینہمہ حدیث کا پتا ایك راوی کذاب بلکہ وضاع کی روایت سے جدا کہیں نہ ملے تاہم اس سے حدیث کی موضوعیت لازم نہیں آتی جب تك امور مذکورہ سے کوئی امر اس میں موجود نہ ہو۔ (ت)
مولانا علی قاری نے موضوعاتِ کبیر میں حدیث ابن ماجہ دربارہ اتخاذ وجاج کی نسبت نقل کیا کہ اُس کی سند میں علی بن عروہ دمشقی ہے ، ابن حبان نے کہا : وہ حدیثیں وضع کرتا تھا۔ پھر فرمایا : والظاھر ان الحدیث ضعیف لاموضوع [2](ظاہر یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں )حدیث فضیلت عسقلان کا راوی ابوعقال ہلال بن زیدہے ، ابنِ حبان نے کہا وہ انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے موضوعات روایت کرتاولہذا ابن الجوزی نے اُس پر حکم وضع کیا۔ امام الشان حافظ ابن حجر نے قولِ مسدد پھر خاتم الحفاظ نے لآلی میں فرمایا :
ھذا الحدیث فی فضائل الاعمال والتحریض علی الرباط ، ولیس فیہ مایحیلہ الشرع ولاالعقل ، فالحکم علیہ بالبطلان بمجردکونہ من روایۃ ابی عقال لایتجہ ، وطریقۃ الامام احمد معروفۃ فی التسامح فی احادیث الفضائل دون احادیث الاحکام [3]۔
یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے ، اس میں سرحد دارالحرب پر گھوڑے باندھنے کی ترغیب ہے اور ایسا کوئی امر نہیں جسے شرع یا عقل محال مانے تو صرف اس بنا پر کہ اس کا راوی ابوعقال ہے باطل کہہ دینا نہیں بنتا ، امام احمد کی روش معلوم ہے کہ احادیث فضائل میں نرمی فرماتے ہیں نہ احادیث احکام میں ۔ (ت)
یعنی تو اسے درج مسند فرمانا کچھ معیوب نہ ہوا۔
(۲) کذاب وضاع جس سے عمدًا نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر معاذ الله بہتان وافتراء کرناثابت ہو ، صرف ایسے کی حدیث کو موضوع کہیں گے وہ بھی بطریقِ ظن نہ بروجہ یقین کہ بڑا جھُوٹابھی کبھی سچ بولتا ہے اور اگر قصدًا افترا اس سے ثابت نہیں تو اُس کی حدیث موضوع نہیں اگرچہ مہتم بکذب و وضع ہو ، یہ مسلك امام الشان۱ وغیرہ علماء کا ہے ، نخبہ ونزھہ میں فرماتے ہیں :
الطعن اماان یکون لکذب الراوی بان یروی عنہ مالم یقلہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم متعمد الذلك اوتھمتہ بذلک ، الاول ھوالموضوع ، والحکم علیہ بالوضع انما ھو بطریق الظن الغالب لابالقطع ، اذقد یصدق الکذوب ، والثانی ھو المتروك [4] اھ ملتقطا
طعن یا تو کذب راوی کی وجہ سے ہوگا مثلًا اس نے عمدًا اپنی بات روایت کی جو نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے نہیں فرمائی تھی یا اس پر ایسی تہمت ہو ، پہلی صورت میں روایت کو موضوع کہیں گے اور اس پر وضع کا حکم یقینی نہیں بلکہ بطور ظن غالب ہے کیونکہ بعض اوقات بڑا جھُوٹابھی سچ بولتا ہے ، اور دوسری صورت میں روایت کو متروك کہتے ہیں اھ ملتقطًا۔ (ت)
یہی ۲امام کتاب الاصابہ عـــہ فی تمیز الصحابہ میں حدیث ان الشیطان یحب الحمرۃ فایاکم والحمرۃ وکل ثوب فیہ شھرۃ (شیطان سُرخ رنگ پسند کرتا ہے تم سُرخ رنگت سے بچو اور ہر اس کپڑے سے جس میں شہرت ہو۔ ت) کی نسبت فرماتے ہیں :
قال الجوزقانی فی کتاب الاباطیل ھذا حدیث باطل واسنادہ منقطع کذاقال وقولہ باطل مردود فان ابابکر الھذلی لم یوصف بالوضع وقد وافقہ سعید بن بشیر ، وان زادفی السند رجلا ، فغایتہ ان المتن ضعیف اماحکمہ بالوضع فمردود [5]۔
جو زقانی نے کتاب الاباطیل میں کہا کہ یہ روایت باطل ہے اور اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اسی طرح انہوں نے کہا اور ان کا باطل کہنا مردود ہے کیونکہ ابوبکر ہذلی وضاع نہیں اور اس کی سعید بن بشیر نے موافقت کی ، اگرچہ سند میں انہوں نے ایك آدمی کا اضافہ کیا ہے ، زیاد سے زیادہ یہ ہے کہ متن ضعیف ہے لیکن اس پر وضع کا حکم جاری کرنا مردود ہے۔ (ت)
عـــہ : ذکرہ فی ترجمۃ رافع بن یزید الثقفی ۱۲ منہ (م)
رافع بن یزید ثقفی کے ترجمہ میں اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
۳علی قاری حاشیہ نزھہ میں فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع