30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عـــہ۱ : فیہ تحت حدیثہ ایضا والذی نفسی بیدہ ماانزل الله من وحی قط علی نبی بینہ وبینہ الابالعربیۃ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : فیہ ایضا تحت حدیث ابن شاھین لماکلم الله تعالٰی موسٰی یوم الطور کلمہ بغیر الکلام الذی کلمہ یوم ناداہ الحدیث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۳ : ذکرہ فی اول باب صلاۃ۔
عـــہ۴ : الکنایۃ للذھبی ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
اس میں اسی حدیث کے تحت یہ بھی ہے کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے الله تعالٰی نے کسی نبی پر وحی نہیں فرمائی مگر اس کے اور اس کے نبی کے درمیان عربیت تھی الحدیث (ت)
اس میں حدیث ابن شاہین کے تحت یہ بھی ہی کہ جب الله تعالٰی نے موسٰی علیہ السلام سے طور کے دن گفتگو فرمائی تو یہ کلام اس کلام کی طرح نہ تھا جو انکے ساتھ ندا کے وقت کیا تھا ، الحدیث ۱۲ منہ (ت)
باب الصلوۃ کے شروع میں اسے ذکر کیا ہے(ت)اس سے امام ذہبی کی طرف کنایہ ہے ۱۲ منہ (ت)
حدیث چِلّہ صوفیہ کرام قدست اسرارہم کہ :
من اخلص لله تعالٰی اربعین یوما ظھرت ینابیع الحکمۃ من قلبہ علٰی لسانہ [1]۔
جس شخص نے چالیس۴۰ دن الله تعالٰی کیلئے اخلاص کیا اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری ہوجائیں گے۔ (ت)
ابنِ جوزی نے بطریق عدیدہ روایت کرکے اس کے رواۃ میں کسی کے مجہول ، کسی کے کثیر الخطا ، کسی کے مجروح ، کسی کے متروك ہونے سے طعن کیا ، تعقبات میں سب کا جواب یہی فرمایا کہ “ مافیھم متھم بکذب[2] “ یہ سب کچھ سہی پھر اُن میں کوئی مہتم بکذب تو نہیں کہ حدیث کو موضوع کہہ سکیں ۔ یوں ہی ایك حدیث عــہکی علت بیان کی : بشربن نمیرعن القاسم متروکان [3](بشربن نمیر نے قاسم سے روایت کی اور یہ دونوں متروك ہیں ۔ ت) تعقبات میں فرمایا : بشرلم یتھم بکذب [4] (بشر مہتم بالکذب نہیں ۔ ت) حدیث ابی ہریرہ “ اتخذالله ابراھیم خلیلا “ الحدیث (الله تعالٰی نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا خلیل بنایا ، پوری حدیث۔ ت) میں کہا تفرد بہ مسلمۃ بن علی الخشنی وھو متروك [5] (اس میں مسلمہ بن علی الخشنی منفرد ہے اور وہ متروك ہے۔ ت) تعقبات میں فرمایا : مسلمۃ وان ضعف فلم یجرح بکذب [6](مسلمہ اگرچہ ضعیف ہے مگر اس پر جرح بالکذب نہیں ۔ ت) حدیثِ ابی ہریرہ “ ثلٰثۃ لایعادون “ (تین چیزیں نہیں لوٹائی جائیں گی۔ ت) پر بھی مسلمہ مذکور سے طعن کیا ، تعقبات میں فرمایا : لم یتھم بکذب ، والحدیث ضعیف لاموضوع [7](یہ مہتم بالکذب نہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ ت)سبحان الله ! جب انتہا درجہ کی شدید جرحوں سے موضوعیت ثابت نہیں ہوتی ، تو صرف جہالت راوی یا انقطاع سند کے سبب موضوع کہہ دینا کیسی جہالت اور عدل وعقل سے انقطاع کی حالت ہے ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون۔
عـــہ : یعنی حدیث ابی امامۃ من قال حین یمسی صلی الله تعالٰی علی نوح وعلیہ السلام لم تلدغہ عقرب تلك اللیلۃ ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م
اس سے مراد حدیث ابی امامہ ہے جس میں ہے کہ جس شخص نے شام کے وقت یہ کہا : “ صلی الله تعالٰی علٰی نوح وعلیہ السلام “ تو اسے اس رات بچھّو نہیں ڈسے گا ۱۲ منہ (ت)
تذییل : یہ ارشادات تو ہمارے ائمہ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے تھے ، ایك قول وہابیہ کے امام شوکانی کا بھی لیجئے ، موضوعات ابوالفرج میں یہ حدیث کہ جب مسلمان کی عمر چالیس۴۰ برس کی ہوتی ہے الله تعالٰی جنون وجذام وبرص کو اس سے پھیر دیتا ہے اور پچاس۵۰ سال والے پر حساب میں نرمی اور ساٹھ۶۰ برس والے کو توبہ وعبادت نصیب ہوتی ہے ، ہفتاد۷۰ سالہ کو الله عزوجل اور اُس کے فرشتے دوست رکھتے ہیں ، اسی۸۰ برس والے کی نیکیاں قبول اور برائیاں معاف ، نوّے۹۰ برس والے کے سب اگلے پچھلے گناہ مغفور ہوتے ہیں ، وہ زمین میں الله عزوجل کا قیدی کہلاتا ہے اور اپنے گھر والوں کا شفیع کیا جاتا ہے ، بطریق عدیدہ روایت کرکے اُس کے راویوں پر طعن کئے کہ یوسف بن ابی ذرہ راوی مناکیر لیس بشیئ ہے اور فرج ضعیف منکر الحدیث کہ واہی حدیثوں کو صحیح سندوں سے ملادیتا ہے اور محمد بن عامر حدیثوں کو پلٹ دیتا ہے ثقات سے وہ روایتیں کرتا ہے جو اُن کی حدیث سے نہیں اور عرزمی متروك اور عباد بن عباس مستحق ترك اور عزرہ کو یحیٰی بن معین نے ضعیف بتایا اور ابوالحسن کو فی مجہول اور عائز ضعیف ہے۔ شوکانی نے ان سب مطاعن کو نقل کرکے کہا :
ھذا غایۃ ماابدی ابن الجوزی دلیلا علی ماحکم بہ من الوضع ، وقد افرط وجازف فلیس مثل ھذہ المقالات توجب الحکم بالوضع بل اقل احوال الحدیث ان یکون حسنا لغیرہ [8]۔ انتہی والله الھادی الٰی سبیل الھدٰی۔
یعنی ابن جوزی نے جو اس حدیث پر حکمِ وضع کیا اُس کی دلیل میں انتہا درجہ یہ طعن پیدا کیے اور بے شك وہ حد سے بڑھے اور بیباکی کو کام میں لائے کہ ایسے طعن حکمِ وضع کے موجب نہیں ، بلکہ کم درجہ حال اس حدیث کا یہ ہے کہ حسن لغیرہٖ ہو۔
افادہ دہم : (موضوعیتِ حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے) غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے ، ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون (۱) قرآن عظیم (۲) سنتِ متواترہ (۳) یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ (۴) یا عقل صریح (۵) یا حسن صحیح (۶) یا تاریخ یقینی کے ایسا مخالف ہوکہ احتمالِ تاویل وتطبیق نہ رہے۔ (۷) یا معنی شنیع وقبیح ہوں جن کا صدور حضور پُرنور صلوات الله علیہ سے منقول نہ ہو ، جیسے معاذ$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع