دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

بااینہمہ علما نے فرمایا ایسے کی حدیث بھی موضوع نہیں ، تعقبات عـــہ۲  میں ہے :

قال البخاری منکر الحدیث ، ففایۃ امر حدیثہ انیکون ضعیفا[1]۔

بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے تو زیادہ سے زیادہ اس کی حدیث ضعیف ہوگی۔ (ت)

افادہ نہم : (متروك کی حدیث بھی موضوع نہیں ) ضعیفوں میں سب سے بدتر درجہ متروك کا ہے جس کے بعد صرف عــہ۳ مہتم بالوضع یا کذاب دجال کا مرتبہ ہے ، میزان میں ہے :

عـــہ۱  :  قالہ فی سلیمن بن داود الیمانی ۱۲ منہ (م)

سلیمان بن داؤد یمانی کے ترجمہ میں یہ تحریر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

عـــہ۲ : باب فضائل القرآن ۱۲ منہ رضی الله  تعالی عنہ۔

باب فضائل القران میں یہ مذکور ہے۔ ۱۲ منہ (ت)

عـــہ۳ :  بلکہ مولانا علی قاری نے حاشیہ نزہۃ النظر میں متروك ومہتم بالوضع کا ایك مرتبہ میں ہونا نقل کیا :

حیث قال فالمرتبۃ الثالثۃ فلان متھم بالکذب اوالوضع اوساقط اوھالك اوذاھب الحدیث وفلان متروك اومتروك الحدیث [2] اوترکوہ ملخصًا اقول :  وکان ھذا القائل ایضا لایقول باستواء جمیع ماذکر فی المرتبۃ بل فیھا ایضا تشکیك عندہ وکانہ الی ذلك اشار باعادۃ فلان قبل قولہ متروك الا ان فیہ ان ساقطا ومابعدہ لایفوق متروکا ومابعدہ فافھم ۱۲ منہ (م)                                                                        

ان کے الفاظ یہ ہیں تیسرا مرتبہ یہ ہے فلان مہتم بالکذب یا بالوضع یا ساقط یا ہالك یا ذاہب الحدیث اور فلان متروك یا متروك الحدیث یا لوگوں نے اسے ترك کردیا ہے اقول : گویا اس قائل نے بھی تمام مذکور کو ایك مرتبہ میں برابر قرار نہیں دیا بلکہ اس میں بھی اس کے نزدیك تشکیك ہے۔ گویا انہوں نے اپنے قول “ متروک “ سے پہلے “ فلان “ کا اعادہ کرکے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے مگر اس میں کلام ہے کہ ساقط اور اس کا مابعد ، متروك اس کے مابعد سے فوق وبلند مرتبہ نہیں ہوسکتے ۱۲ منہ (ت)

اردی عبارات الجرح ، دجال کذاب ، اووضاع یضع الحدیث ثم متھم بالکذب ومتفق علی ترکہ ، ثم متروك [3] الخ

جرح کے سب سے گھٹیا الفاظ یہ ہیں ، دجال ، کذاب ، وضاع جو حدیثیں گھڑتا ہے اس کے بعد متہم بالکذب ومتفق علٰی ترکہ ہے پھر متروك کا لفظ ہے الخ (ت)

امام الشان تقریب التہذیب میں ذکر مراتب دو روایتیں فرماتے ہیں :

العشرۃ ، من لم یوثق البتۃ وضعف مع ذلك بقادح والیہ الاشارۃ بمتروك اومتروك الحدیث اوواھی الحدیث اوساقط ، الحادیۃ عشر ، من اتھم بالکذب “ الثانیۃ عشر “ من اطلق علیہ اسم الکذب والوضع [4]۔

دسواں مرتبہ یہ ہے کہ اس راوی کی کسی نے توثیق نہ کی ہو اور اسے جرح کے ساتھ ضعیف کہاگیا ہو ، اس کی طرف اشارہ متروك یا متروك الحدیث یا واہی الحدیث اور ساقط کے ساتھ کیا جاتا ہے “ گیارھواں درجہ یہ ہے “ جو متہم بالکذب ہو ، اور بارھواں درجہ یہ ہے کہ جس پر کذب ووضع کے اسم کا اطلاق ہو۔ (ت)

اس پر بھی علماء نے تصریح فرمائی کہ متروك کی حدیث بھی صرف ضعیف ہی ہے موضوع نہیں ، امام حجر اطراف العشرۃ پھر خاتم الحفاظ لآلی عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :

زعم ابن ھبان وتبعہ ابن الجوزی ان ھذا المتن موضوع ، ولیس کماقال ، فان الراوی وان کان متروکا عندالاکثر ضعیفا عندالبعض ، فلم ینسب للوضع[5] اھ مختصرا۔

ابن حبان نے یہ زعم کیا اور ابن جوزی نے ان کی اتباع میں کہا کہ یہ متن موضوع ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اگرچہ راوی اکثر کے نزدیك متروك اور بعض کے نزدیك ضعیف ہے ، لیکن یہ وضع کی طرف منسوب نہیں ہے اھ مختصر (ت)

 عــــہ :  فی التوحید تحت حدیث ابن عدی ان الله  عزوجل قرأ طہ وٰیسین قبل ان یخلق آدم الحدیث ۱۲ منہ (م)                                 

اس کا ذکر کتاب التوحید میں ابن عدی کی اس حدیث کے تحت ہے جس میں ہے کہ الله   عزوجل نے طٰہٰ اور یس تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے پڑھا الحدیث ۱۲ منہ (ت)

امام بدر زرکشی کتاب النکت علی ابن الصلاح ، پھر خاتم الحفاظ لآلی عــہ۱ میں فرماتے ہیں :

بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر ، وسلیمن بن ارقم وان کان متروکا فلم یتھم بکذب ولاوضع [6] اھ ملخصا۔

محدثین کے قول “ لم یصح “ اور “ موضوع “ کے درمیان بڑا فرق ہے سلیمان بن ارقم اگرچہ متروك ہے لیکن وہ متہم بالکذب اور متہم بالوضع نہیں اھ ملخصا (ت)

ابوالفرج نے ایك حدیث میں طعن کیا کہ “ الفضل متروک “ (فضل متروك ہے۔ ت) لآلی عـــہ۲ میں فرمایا :

فی الحکم بوضعہ نظر ، فان الفضل لم یتھم بکذب[7]۔

اس کو موضوع قرار دینا محلِ نظر ہے ، کیونکہ فضل مہتم بالکذب نہیں ۔ (ت)

تعقبات عـــہ۳ میں ہے :

اصبغ شیعی متروك عندالنسائی فحاصل عــہ کلامہ “ انہ ضعیف لاموضوع “ وبذلك صرح البیھقی[8]۔

اصبغ شیعہ ہے ، امام نسائی کے ہاں متروك ہے ، ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ ضعیف ہے موضوع نہیں ، اور اسی بات کی تصریح بیہقی نے کی ہے۔ (ت)

 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن