30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منکر ، ضعیف کی قسم ہے اور یہ فضائل میں قابلِ استدلال ہے۔ (ت)
عـــہ۱ : ذکرہ فی اٰخر باب الجنائز ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب الاطمعۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ ۳ : اول باب البعث ۱۲ منہ (م)
عـــہ۴ : قالہ فی اواخر الکتاب تحت حدیث فضل قزوین ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
باب الجنائز کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب الاطمعہ کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
باب البعث کے شروع میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
اُسی عـــہ۱ میں ہے :
رأیت الذھبی قال فی تاریخہ “ ھذا حدیث منکر لایعرف الاببشر وھو ضعیف انتھی “ فعلم انہ ضعیف لاموضوع [1]۔
میں نے پڑھا ہے امام ذہبی نے اپنی تاریخ میں کہاکہ یہ حدیث منکر ہے ، یہ بشر ضعیف کے علاوہ معروف نہیں انتہی ، پس معلوم ہوا کہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
اُسی عـــہ۲ میں ہے :
حدیث ابی امامۃ رضی الله تعالٰی عنہ “ علیکم بلباس الصوف تجدواحلاوۃ الایمان فی قلوبکم “ علیکم الحدیث بطولہ ، فیہ الکدیمی وضاع قلت ، قالت البھیقی فی الشعب “ ھذہ الجملۃ من الحدیث معروفۃ من غیر ھذا الطریق ، وزاد الکدیمی فیہ زیادۃ منکرۃ ، ویشبہ ان یکون من کلام بعض الرواۃ فالحق بالحدیث انتھٰی ، والجملۃ معروفۃ اخرجھا الحکم فی المستدرك والحدیث المطول من قسم المدرج لاالموضوع [2]۔ حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت میں ہے کہ تم صوف کا لباس پہنو اس سے تمہارے دلوں کو حلاوتِ ایمان نصیب ہوگی(طویل حدیث)اس میں کدیمی راوی حدیث گھڑنے والا ہے ، میں کہتا ہوں کہ امام بیہقی نے شعب الایمان میں کہا ہے حدیث کا یہ حصہ اس سند کے علاوہ سے معروف ہے اور کدیمی نے اس میں ایسی زیادتی کی ہے جو منکر ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی راوی کاکلام ہو اور انہوں نے اسے حدیث کاحصہ بنادیاہو انتہی ، اور اس جملہ معروفہ کی امام حاکم نے مستدرك میں تخریج کی ہے اور یہ طویل حدیث مدرج ہے موضوع نہیں ۔ (ت)
افادہ پنجم : (جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں )خیر جہالت راوی کا تو یہ حاصل تھا کہ شاگرد ایك یا عدالت مشکوك شخص تو معین تھا کہ فلاں ہے ، مبہم میں تو اتنا بھی نہیں ، جیسے حدثنی رجل(مجھ سے ایك شخص نے حدیث بیان کی) یا بعض اصحابنا (ایك رفیق نے خبر دی) پھر یہ بھی
عـــہ۱ : ذکرہ فی آخر باب التوحید ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : اول باب اللباس ۱۲ منہ رضی الله تعالٰی عنہ (م)
باب التوحید کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے۔
باب اللباس کے شروع میں اس کا ذکر ہے ۱۲ منہ (ت)
صرف مورثِ ضعف ہے نہ کہ موجبِ وضع۔ امام الشان علامہ ابنِ حجر عسقلانی رسالہ قوۃ الحجّاج فی عموم المغفرۃ للحجّاج پھر خاتم الحفاظ لآلی میں فرماتے ہیں :
لایستحق الحدیث ان یوصف بالوضع بمجرد ان روایہ لم یسم [3]۔
صرف راوی کا نام معلوم نہ ہونے کی وجہ سے حدیث موضوع کہنے کی مستحق نہیں ہوجاتی۔ (ت)
(تعددِ طرق سے مبہم کا جبر نقصان ہوتا ہے) ولہذا تصریح فرمائی کہ حدیث مبہم کا طرق دیگر سے جبر نقصان ہوجاتا ہے ، تعقبات میں زیر حدیث اطلبوا الخیر عندحسان الوجوہ (حسین چہرے والوں سے بھلائی طلب کرو۔ ت)کہ عقیلی نے بطریق یزید بن ھارون قال انبأنا شیخ من قریش عن الزھری عن عائشۃ رضی الله عنہا روایت کی ، فرمایا :
اوردہ (یعنی اباالفرج) من حدیث عائشۃ من طرق ، فی الاول رجل لم یسم ، وفی الثانی عبدالرحمٰن بن ابی بکر الملیکی متروک ، وفی الثالث الحکم بن عبدالله الایلی احادیثہ موضوعۃ ، قلت عبدالرحمٰن لم یتھم بکذب ، ثمّ انہ ینفردبہ بل تابعہ اسمٰعیل بن عیاش وکلاھما یجبران ابھام الذی فی الطریق الاول [4] اھ مختصرا۔
اسے اس(یعنی ابوالفرج)نے حدیثِ عائشہ سے مختلف سندوں سے روایت کیاہے ، پہلی سند میں مجہول شخص ہے (نامعلوم)اور دوسری میں عبدالرحمن بن ابی بکر الملیکی متروك راوی ہے ، تیسری میں حکم بن عبدالله الایلی ہے جس کی احادیث موضوع ہیں ، میں کہتا ہوں کہ عبدالرحمن متہم بالکذب نہیں ، پھر وہ اس میں منفرد بھی نہیں بلکہ اسمٰعیل بن عیاش نے اس کی متابعت کی ہے اور ان دونوں نے اس ابہام کی کمی کا ازالہ کردیا جو سند اول میں تھا اھ مختصرًا۔ (ت)
(حدیث مبہم دوسری حدیث کی مقوی ہوسکتی ہے) بلکہ وہ خود حدیثِ دیگر کو قوّت دینے کی لیاقت رکھتی ہے استاذ الحفّاظ قوۃ الحجاج پھر خاتم الحفاظ تعقبات عـــہ میں فرماتے ہیں :
رجالہ ثقات الا ان فیہ مبھما لم یسم فان کان ثقۃ فھو علی شرط الصحیح ، وان کان ضعیفا فھو عاضد للمسند المذکور [5]۔
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع