دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

(اور نماز وغیرہ) کے صلے میں نجات دی تھی جو وہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے کرتے رہے تھے۔ معالم میں بھی اسی طرح ہے۔ بہرحال اگر فسبّح بحمدربک “ میں تسبیح سے مراد نماز لی جائے اور امر کو وجوب کے لئے قرار دیا جائے تو آیت کا آخری حصّہ دو۲ سے زیادہ نمازوں کے فرض ہونے پر دلالت کرے گا۔ اس کا یہ جواب تو دیا جاسکتا ہے کہ دو۲ میں حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ رات کی نماز بھی بالیقین پہلے سے فرض تھی ، لیکن اس صورت میں الله  تعالٰی کا یہ فرمان “ اور دن کے اطراف میں “ بغیر کسی مفہوم کے رہ جاتا ہے کیونکہ اگر اس سے مراد طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے والی دو نمازیں لی جائیں تو تکرار لازم آئے گی (کیونکہ ان کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے)۔ (ت)رہا مقاتل کا استدلال الله  تعالٰی کے اس فرمان سے “ اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور صبح سویرے“ ۔ تو میں کہتا ہوں کہ بہت ضعیف ہے اور بہت ہی ضعیف ہے ، بلکہ سرے سے بیکار ہے ، کیونکہ یہ آیت سورہ حم مومن کی ہے اور اس کا نزول سورہ بنی اسرائیل سے ، جس میں معراج کا ذکر ہے ، طویل زمانے کے بعد ہوا ہے۔ چنانچہ ابن ضریس نے فضائل قرآن میں ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے سُورتیں نازل ہونے کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے کہ ابن عباس نے کہا ہے کہ “ قرآن میں سب سے پہلے سورہ اقرأ باسم ربك نازل ہوئی ، پھر نۤ۔ ابن ضریس نے یہ روایت پوری بیان کی ہے یہاں تك کہ کہا ہے “ پھر بنی اسرائیل ، پھر یونس ، پھر ہود ، پھر یوسف ، پھر حجر ، پھر انعام ، پھر صٰفّٰت ، پھر لقمان ، پھر سبا ، پھر زمر ، پھر حم مومن آخر تک۔ تو پھر حم مومن کی آیت سے۔ کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ معراج سے پہلے بھی نماز فرض تھی (جبکہ اس وقت تك وہ سورۃ نازل ہی نہیں ہوئی تھی) اسی لئے ترجمان القرآن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس آیت کی تفسیر پانچ نمازوں سے کی ہے۔ جیسا کہ معالم میں ہے۔ اور کبھی استدلال کیا جاتا ہے اس حدیث سے جو ابن ابی حاتم نے انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے واقعہ معراج اور رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے بیت المقدس میں آنے کے بارے میں روایت کی ہے (اس میں ہے کہ رسول الله  نے فرمایا) ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے  پھر ایك مؤذن نے اذان دی اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی۔ رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ہم سب صفیں باندھ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ ہمارا امام کون بنتا ہے ، تو جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کردیا ، چنانچہ میں نے سب کو نماز پڑھائی ، جب میں نے سلام پھیرا تو جبریل نے مجھ سے کہا : “ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے پیچھے کن لوگوں نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا نہیں جبریل نے کہا آپ کے پیچھے ہر اس نبی نے نماز پڑھی ہے جسے الله  تعالٰی نے مبعوث فرمایا ہے۔ یہی وہ حدیث ہے جس کی طرف زرقانی کے کلام میں نعمانی کے حوالے سے اشارہ کیا گیا ہے۔ (ت)

اقول :  ولعل مطمح نظر المستدل وقوع الاذان والاقامۃ فانھما من خصائص الفرائض اوّلًا فلان الاذان والاقامۃ المعروفین ماشرعا الابالمدینۃ ، والاسراء قبل الھجرۃ ولذاقال الزرقانِیْ فی تفسیر الحدیث ، اذن مؤذن ، ای اعلم بطلب الصلاۃ ، فاقیمت الصلٰو ۃ ، ای تھیئو لھا وَشَرعوا فیھا ، فلایردان الاذان والاقامۃ انماشرعا بالمدینۃ والاسراء کان بمکۃ [1] اھ ماثانیًا فلان تخصیصھما بالفرائض انما عرف بعد ماشرعا للامۃ ، اماقبل ذلك فایُّ دلیل علیہ؟ واما ثالثًا ، وھو القاطع ، فلان الاسراء انما کان باللیل ، وقدعلمنا ان صلاۃ اللیل کانت فریضۃ قبل فرض الخمس ، فمایدریك لعلھا ھی۔ وبہ یظھر الجواب عما عسی ان یتعلق بہ متعلق ،  مماروی مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ فی حدیث الاسراء “ وحانت الصلاۃ فاممتھم [2] “ ۔

میں کہتا ہوں کہ شاید دلیل پیش کرنے والے کا مطمحِ نظر یہ ہوکہ اس نماز میں اذان واقامت ہوئی تھی اور یہ فرائض کے ساتھ خاص ہیں ، لیکن اس پر اعتراض ظاہر ہے۔ اوّلًا اس لئے کہ معروف اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہُوئی تھی ، جبکہ معراج ہجرت سے پہلے ہُوا تھا۔ اسی لئے زرقانی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے “ ایك مؤذن نے اذان کہی “ کے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ اس نے نماز کے لئے طلب کیے جانے سے ان کو آگاہ کیا ، “ اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی “ کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اس کیلئے تیار ہوگئے اور اس میں شروع ہوگئے ، اس لئے یہ اعتراض نہیں پیدا ہوگا کہ اذان واقامت تو مدینہ میں شروع ہوئی تھیں اور معراج مکّہ میں ہُوا تھا۔ ثانیًا ، اس لئے کہ اذان واقامت کا فرائض کے ساتھ مخصوص ہونا تو اُمّت کیلئے ان کے مشروع ہونے کے بعد معلوم ہوا ہے۔ مشروعیت سے پہلے تخصیص پر کون سی دلیل ہے؟ ثالثًا ، اس لئے اور یہ اعتراض استدلال کی جڑ کاٹنے والا ہے کہ معراج رات کو ہوئی تھی اور یہ ہم جان چکے ہیں کہ رات کی نماز ، پانچ نمازوں کے فرض ہونے سے پہلے بھی فرض تھی ، تو کیا پتا ، ہوسکتا ہے یہ وہی رات کی نماز ہو! اسی سے اس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا ہے جس کو ہوسکتا ہے کوئی مستدل بطور دلیل پیش کرے یعنی مسلم کی وہ روایت جو ابوہریرہ سے حدیثِ معراج میں مروی ہے (کہ رسول الله  نے فرمایا) اور نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انہیں نماز پڑھائی۔ (ت)

تاہم اس قدر یقینا معلوم کہ معراج مبارك سے پہلے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنمازیں پڑھتے۔ نمازِ شب کی فرضیت تو خود سورہ مزمل شریف سے ثابت اور اُس کے سوا اور اوقات میں بھی نماز پڑھنا وارد عام ازینکہ فرض ہو یا نفل ، حدیث میں ہے :

کان المسلمون قبل ان تفرض الصلوات الخمس یصلون الضحٰی والعصر ، فکان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ اذا صلوا اٰخر النھار ، تفرقوا فی الشعاب فصلوھا فرادی [3]۔

فرضیت پنجگانہ سے پہلے مسلمان چاشت اور عصر پڑھا کرتے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّموصحابہ کرام جب آخر روز کی نماز پڑھتے گھاٹیوں میں متفرق ہوکر تنہا پڑھتے۔

رواہ ابن سعد وغیرہ عن عزیزۃ بنت ابی تجراۃ رضی الله تعالٰی عنھا ذکرہ فی ترجمتھا من الاصابۃ۔

اس کو ابن سعد وغیرہ نے عزیزہ بنت تجراۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا ہے۔ یہ بات اصابہ میں عزیزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے حالات میں مذکور ہے۔ (ت)

احادیث اس باب میں بکثرت ہیں اور ان کی جمع وتلفیق کی حاجت نہیں ب لکہ نماز شروع روز شریفہ سے مقرر ومشروع ہے حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر اوّل بار جس وقت وحی اُتری اور نبوتِ کریمہ ظاہر ہوئی اُسی وقت حضور نے بہ تعلیم جبریلِ امین علیہ الصلاۃ والتسلیم نماز پڑھی اور اُسی دن بہ تعلیمِ اقدس حضرت اُمّ المومنین خدیجۃ الکبرٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے پڑھی ، دُوسرے دن امیر المومنین علی مرتضٰی کرم الله  وجہہ الاسنی نے حضور کے ساتھ پڑھی کہ ابھی سورہ مزمل نازل بھی نہ ہوئی تھی تو ایمان کے بعد پہلی شریعت نماز ہے۔

فقد اخرج احمد وابن ماجۃ والحارث فی مسندہ وغیرہم عن اسامۃ بن زید عن ابیہ رضی الله تعالٰی عنہما ان جبریل اتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، فی اول مااوحی الیہ ، فاراہ الوضوء والصلاۃ ، فلما فرغ من الوضوء اخذ غرفۃ من ماء فنضح بھا فرجہ [4] ۔ وفی سیرۃ ابن اسحٰق ، وسیرۃ ابن ھشام ،  و المواھب اللدنیۃ من المقصد الاول ، وکتاب الخمیس ، وافضل القری لقراء ام القری ، للامام ابن حجر المکی ، ثم حاشیۃ الکنز للعلامۃ السید ابی السعود الازھری ، ثم حاشیۃ الدر للعلامۃ السید احمد الطحطاوی ، وھذا لفظ القسطلانی ، مزیدا من الزرقانی ، (قد روی) مرَّضہ لان لہ طرقا لا تخلو من مقال؛ لکنھا متعددۃ یحصل باجتماعھا القوۃ (ان جبریل بدا لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم) وھو باعلی مکۃ ، کماعند ابن اسحٰق ، ای بجبل الحراء ، کمافی الخمیس (فی احسن صورۃ  و اطیب رائحۃ فقال :  یامحمد! ان الله یقرئك السلام ویقول لک :  انت رسولی الی الجن والانس فادعھم الٰی قول لاالٰہ الااللّٰہ ، ثم ضرب برجلہ الارض فنبعت عین ماء فتوضأ منھا جبریل) زاد ابن اسحٰق ، ورسول الله ینظر الیہ ، لیریہ کیف الطھور الی الصلاۃ (ثم امرہ ان یتوضأ ، وقام جبریل یصلی ، وامرہ ان یصلی معہ) زاد فی روایۃ ابی نعیم عن عائشۃ رضی الله تعالٰی عنھا ، فصلی رکعتین نحوا الکعبۃ (فعلمہ الوضوء والصلاۃ ، ثم عرج الی السماء ورجع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، لایمر بحجر ولامدر ولاشجر الا وھو یقول :  السلام علیك یارسول اللّٰہ! حتی اتی خدیجۃ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن