30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرتبہ مطروح ہے جس کا مدار وضاع کذاب یا متہم بالکذب پر ہو ، یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کے رُو سے مطلقًا اور ایك اصطلاح پر اس کی نوعِ اشد یعنی جس کا مدار کذب پر ہو عین موضوع ، یا نظرِ تدقیق میں یوں کہے کہ ان اطلاقات پر داخل موضوع حکمی ہے۔ ان سب کے بعد درجہ موضوع کاہے ، یہ بالاجماع نہ قابلِ انجبار ، نہ فضائل وغیرہا کسی باب میں لائق اعتبار ، بلکہ اُسے حدیث کہنا ہی توسع وتجوز ہے ، حقیقۃً حدیث نہیں محض مجعول وافترا ہے ، والعیاذ بالله تبارك وتعالٰی۔ وسیرد علیك تفاصیل جل ذلك ان شاء الله العلی الاعلٰی(اس کی روشن تفاصیل ان شاء الله تعالٰی آپ کے لئے بیان کی جائیں گی۔ ت)طالبِ تحقیق ان چند حرفوں کو یاد رکھے کہ باوصف وجازت محصل وملخص علم کثیر ہیں اور شاید اس تحریر نفیس کے ساتھ ان سطور کے غیر میں کم ملیں ، ولله الحمد والمنۃ(سب خوبیاں اور احسان الله تعالٰی کیلئے ہے۔ ت)خیر بات دُور پڑتی ہے کہنا اس قدر ہے کہ جب صحیح اور موضوع کے درمیان اتنی منزلیں ہیں تو انکارِ صحت سے اثباتِ وضع ماننا زمین وآسمان کے قلابے ملانا ہے ، بلکہ نفیِ صحت اگر بمعنی نفیِ ثبوت ہی لیجئے یعنی اُس فرقہ محدثین کی اصطلاح پر جس کے نزدیك ثبوت صحت وحسن دونوں کو شامل ، تاہم اُس کا حاصل اس قدر ہوگا کہ صحیح وحسن نہیں نہ کہ باطل وموضوع ہے کہ حسن موضوع کے بیچ میں بھی دُور دراز میدان پڑے ہیں ۔
میں اس واضح بات پر سندیں کیا پیش کرتامگر کیاکیجئے کہ کام اُن صاحبوں سے پڑاہے جو اغوائے عوام کے لئے دیدہ ودانستہ محض اُمّی عامی بن جاتے اور مہر منیر کو زیردامن مکرو تزویر چھپانا چاہتے ہیں ۔ لہذا کلماتِ علماء سے اس روشن مقدمہ کی تصریحیں لیجئے :
۱امام سندالحفّاظ و۲امام محقق علی الاطلاق و۳امام حلبی و۴امام مکی و۵علامہ زرقانی و۶علامہ سمہودی و۷علامہ ہروی کی عبارات کہ ابھی مذکور ہُوئیں بحکم دلالۃ النص وفحوی الخطاب اس دعوٰی بینہ پر دلیل مبین کہ جب نفیِ صحت سے نفیِ حسن تك لازم نہیں تو اثباتِ وضع تو خیال محال سے ہمدوش وقرین۔
(حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے)تاہم عبارات النص سُنئے :
امام بدرالدین زرکشی کتاب النکت علی ابن الصلاح پھر امام جلال الدین سیوطی لآلی مصنوعہ پھر علامہ علی بن محمد بن عراق کنانی تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعہ پھر علامہ محمد طاہر فتنی خاتمہ مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں :
بین قولنا لم یصح وقولنا موضوع بون کبیر ، فان الوضع اثبات الکذب والاختلاق ، وقولنا لم یصح لا یلزم منہ اثبات العدم ، وانما ھو اخبار عن عدم الثبوت ، وفرق بین الامرین [1]۔
یعنی ہم محدثین کا کسی حدیث کو کہنا کہ یہ صحیح نہیں اور موضوع کہنا ان دونوں میں بڑا بل ہے ، کہ موضوع کہنا تو اسے کذب وافتراء ٹھہرانا ہے اور غیر صحیح کہنے سے نفیِ حدیث لازم نہیں ، بلکہ اُس کا حاصل تو سلب ثبوت ہے ، اور ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
یہ لفظ لآلی کے ہیں اور اسی سے مجمع میں مختصرًا نقل کیا ، تنزیہ میں اس کے بعد اتنا اور زیادہ فرمایا :
وھذا یجیئ فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی “ لایصح “ او “ نحوہ “ [2]۔
یعنی امام ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں جس جس حدیث کو غیر صحیح یا اس کے مانند کوئی لفظ کہا ہے ان سب میں یہی تقریر جاری ہے کہ ان اوصاف کے عدم سے ثبوت وضع سمجھنا حلیہ صحت سے عاطل وعاری ہے۔
امام ابنِ حجر عسقلانی القول المسددفی الذب عن مسند احمد میں فرماتے ہیں :
لایلزم من کون الحدیث لم یصح ان یکون موضوعا[3]۔
یعنی حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
امام سیوطی کتاب التعقبات علی الموضوعات میں فرماتے ہیں :
اکثر ماحکم الذھبی علی ھذا الحدیث ، انہ قال متن لیس بصحیح وھذا صادق بضعفہ [4]۔
یعنی بڑھ سے بڑھ اس حدیث پر امام ذہبی نے اتنا حکم کیا یہ متن صحیح نہیں ، یہ بات ضعیف ہونے سے بھی صادق ہے۔
علی قاری موضوعات میں زیر بیان احادیث نقل فرماتے ہیں :
لایلزم عن عدم الصحۃ وجود الوضع کما لا یخفی [5]۔
یعنی کھلی ہُوئی بات ہے کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا ،
اسی میں روزِ عاشورا سُرمہ لگانے کی حدیث پر امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا حکم “ لایصح ھذا الحدیث “ (یہ حدیث صحیح نہیں ۔ ت) نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت لایلزم من عدم صحتہ ثبوت وضعہ وغایتہ انہ ضعیف [6]۔
یعنی میں کہتا ہوں اس کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں ، غایت یہ کہ ضعیف ہو۔
علامہ طاہر صاحبِ مجمع تذکرۃ الموضوعات میں امام سند الحفاظ عسقلانی سے ناقل :
ان لفظ “ لایثبت “ لایثبت الوضع فان الثابت یشمل الصحیح فقط ، والضعیف دونہ[7]۔
یعنی کسی حدیث کو بے ثبوت کہنے سے اس کی موضوعیت ثابت نہیں ہوتی کہ ثابت تو وہی حدیث ہے جو صحیح ہو اور ضعیف کا درجہ اس سے کم ہے۔
بلکہ مولٰنا علی قاری آخر موضوعات کبیر میں حدیث البطیخ قبل الطعام یغسل البطن غسلا ویذھب بالداء اصلا(کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خُوب دھودیتا ہے اور بیماری کو جڑ سے ختم کردیتا ہے۔ ت)کی نسبت قولِ امام ابن عساکر “ شاذلایصح “ (یہ شاذ ہے صحیح نہیں ۔ ت)نقل کرکے فرماتے ہیں :
ھو یفیدانہ غیر موضوع کمالایخفی [8]۔
[1] مجمع بحارالانوار فصل وعلومہ واصطلاحتہ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۵۰۶
[2] تنزیہ الشریعۃ کتاب التوحید فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ / ۱۴۰
[3] القول المسدد الحدیث السابع مطبوعہ دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن ہند ص ۴۵
[4] التعقبات علی الموضوعات باب بدء الخلق والانبیاء مکتبہ اشرعیہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ۴۹
[5] موضوعات ملا علی قاری بیان احادیث العقل حدیث ۱۲۲۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۱۸
[6] موضوعات ملاعلی قاری بیان احادیث الاکتحال یوم عاشورا الخ حدیث ۱۲۹۸ مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۳۴۱
[7] مجمع تذکرۃ الموضوعات الباب الثانی فی اقسام الواضعین کتب خانہ مجیدیہ ملتان ص ۷
[8] موضوعات ملاعلی قاری حدیث البطیخ قبل الطعام حدیث ۱۳۳۳$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع