دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

سندالحفاظ امام ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِعلیہ اذکار امام نووی کی تخریج احادیث میں فرماتے ہیں :

من نفی الصحۃ لاینتفی الحسن [1] اھ لایصح ملخصا

ملخصا یعنی صحت کی نفی سے حدیث کا حسن ہونا منتفی نہیں ہوتا۔ اھ ملخصا

یہی امام نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر میں فرماتے ہیں :

ھذا القسم من الحسن مشارك للصحیح فی الاحتجاج بہ وان کان دونہ[2]۔

یعنی حدیث حسن لذاتہ اگرچہ صحیح سے کم درجہ میں ہے مگر حجت ہونے میں صحیح کی شریك ہے۔

مولٰنا علی قاری موضوعاتِ کبیر میں فرماتے ہیں :

لایصح لاینافی الحسن [3] اھ ملخصا

یعنی محدثین کا قول کہ یہ حدیث صحیح نہیں اُس کے حسن ہونے کی نفی نہیں کرتا۔ اھ ملخصا

سیدی نورالدین علی سمہودی جواہر العقدین فی فضل الشرفین میں فرماتے ہیں :

قدیکون غیر صحیح وھوصالح للاحتجاج بہ ، اذالحسن رتبۃ بین الصحیح والضعیف[4]۔

یعنی کبھی حدیث صحیح نہیں ہوتی اور باوجود اس کے وہ قابلِ حجّت ہے ، اس لئے کہ حسن کا رتبہ صحیح وضعیف کے درمیان ہے۔

حدیث کان النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ینھی ان ینتعل الرجل قائما [5] (حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرمایا نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ایك آدمی کو کھڑے ہوکر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ت)کو امام ترمذی نے جابر وانسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کرکے فرمایا :

کلا الحدیثین لایصح عند اھل الحدیث[6]۔

دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیك صحیح نہیں ۔

علامہ عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں عـــہ :

نفیہ الصحۃ لاینافی انہ حسن کماعلم [7]۔

صحت کی نفی حسن ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے۔

شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدّث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِشرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں :

حکم بعدم صحت کردن بحسب اصطلاح محدثین غرابت ندارد چہ صحت درحدیث چنانچہ درمقدمہ معلوم شددرجہ اعلٰی ست دائرہ آں تنگ ترجمیع احادیث کہ درکتب مذکور ست ، حتی دریں شش کتاب کہ آنرا صحاح ستہ گویند ہم بہ اصطلاح ایشاں صحیح نیست ، بلکہ تسمیہ آنہا صحاح باعتبار تغلیب ست[8]۔              

اصطلاحِ محدثین میں عدمِ صحت کا ذکر غرابت کا حکم نہیں رکھتا کیونکہ حدیث کا صحیح ہونا اس کا اعلٰی ترین درجہ ہے جیسا کہ مقدمہ میں معلوم ہوچکا ہے اور اس کا دائرہ نہایت ہی تنگ ہے تمام احادیث جو کتابوں میں مذکور ہیں حتی کہ ان چھ۶ کتب میں بھی جن کو صحاح ستّہ کہا جاتا ہے۔ محدثین کی اصطلاح کے مطابق صحیح نہیں ہیں بلکہ ان کو تغلیبًا صحیح کہا جاتا ہے۔ (ت)

مرقاۃ شرح مشکوٰۃمیں امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الحق والدین محمد بن الہمام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے منقول :

وقول من یقول فی حدیث انہ لم یصح ان سلم لم یقدح لانہ الحجیۃ لاتتوقف علی الصحۃ ، بل الحسن کاف [9]۔

یعنی کسی حدیث کی نسبت کہنے والے کا یہ کہنا کہ وہ صحیح نہیں اگر مان لیا جائے تو کچھ حرج نہیں ڈالتاکہ حجیت کچھ صحیح ہونے پر موقوف نہیں بلکہ حسن کافی ہے۔

 عـــہ :  المقصد الثالث النوع الثانی ذکر نعلہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)                                   

تیسرے مقصد دوسری نوع نعلِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے ذکر میں اس کا بیان ہے۔ (ت)

تو یہ بات خوب یاد رکھنے کی ہے کہ صحتِ حدیث سے انکار نفی حسن میں بھی نص نہیں جس سے قاببلیت احتجاج منتفی ہو نہ کہ صالح ولائق اعتبار نہ ہونانہ کہ محض باطل وموضوع ٹھہرناجس کی طرف کسی جاہل کا بھی ذہن نہ جائیگاکہ صحیح وموضوع دونوں ابتداء وانتہاء کے کناروں پر واقع ہیں ، سب سے اعلٰی صحیح اور سب سے بدتر موضوع اور وسط میں بہت اقسامِ حدیث ہیں درجہ بدرجہ ، (حدیث کے مراتب اور اُن کے احکام) مرتبہ صحیح کے بعد حسن لذاتہٖ بلکہ صحیح لغیرہ پھر حسن لذاتہ ، پھر حسن لغیرہ ، پھر ضعیف بضعف قریب اس حد تك کہ صلاحیتِ اعتبار باقی رکھے جیسے اختلاطِ راوی یا سُوءِ حفظ یا تدلیس وغیرہا ، اوّل کے تین بلکہ چاروں قسم کو ایك مذہب پر اسم ثبوت متناول ہے اور وہ سب محتج بہاہیں اور آخر کی قسم صالح ، یہ متابعات وشواہد میں کام آتی ہے اور جابر سے قوّت پاکر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہوجاتی ہے ، اُس وقت وہ صلاحیت احتجاج وقبول فی الاحکام کا زیور گرانبہاپہنتی ہے ، ورنہ دربارہ فضائل تو آپ ہی مقبول وتنہا کافی ہے ، پھر درجہ ششم میں ضعف قوی ووہن شدید ہے جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروك ہونا بشرطیکہ ہنوز سرحد کذب سے جُدائی ہو ، یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں ، ہاں فضائل میں مذہب راجح پر مطلقًا اور بعض کے طور پر بعد انجبار بتعدد مخارج وتنوع طرق منصب قبول وعمل پاتی ہے ، کماسَنُبَینُہ اِن شاء الله  تعالٰی (اِن شاء الله   تعالٰی عنقریب ان کی تفصیلات آرہی ہیں ۔ ت) پھر درجہ ہفتم میں



[1]   نتائج الافکار فی تخریج احادیث الاذکار

[2]   نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر بحث حدیث حسن لذاتہ مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳۳

[3]   الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ حدیث ۹۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۳۶

[4]   جواہر العقدین فی فضل الشرفین

[5]   جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ المشی فی النعل الواحدۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۹

[6]   جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ المشی فی النعل الواحدۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰۹

[7]   شرح الزرقانی علی المواہب ذکر نعلہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  مطبعۃ عامرہ مصر ۵ / ۵۵

[8]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن