دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

یعنی طاؤسی فرماتے ہیں اُنہوں نے خواجہ شمس الدین محمد بن ابی نصر بخاری سے یہ حدیث سُنی کہ جو شخص مؤذن سے کلماتِ شہادت سُن کر انگوٹھوں کے ناخن چُومے اور آنکھوں سے ملے اور یہ دُعا پڑھے اَللّٰھُمَّ احْفَظْ حَدَقْتَیَ وَنُوْرَھُمَا بِبَرْکَہٍ حُدَقَتَیْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ الله  صَلَّی الله  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَنُوْرَھُمَا ، اندھا نہ ہو۔

شرح نقایہ میں ہے :

واعلم انہ یستحب ان یقال عند سماع الاولٰی من الشھادۃ الثانیۃ “ صلی الله  تعالٰی علیك یارسول الله   “ وعند الثانیۃ منھا “ قرۃ عینی بك یارسول الله   “ ثم یقال “ اللھم متعنی بالسمع والبصربعدوضع ظفری الابھامین علی العینین “ فانہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم یکون قاعدًا لہ الی الجنۃ کذافی کنزالعباد[1]۔

یعنی خبر دار ہو بیشك مستحب ہے کہ جب اذان میں پہلی بار اشھد ان محمدًا رسول الله  سُنے صَلَّی الله  عَلَیك یارَسُوْلَ الله  ط کہے اور دوسری بار قُرَّۃَ عَینِیْ بِك یارَسُوْلَ الله  ط پھر انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں پر رکھ کر کہے اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ باِلسَّمْعِ وَالْبَصَرِ ط کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماپنے پیچھے پیچھے اُسے جنّت میں لے جائیں گے ، ایسا ہی کنزالعباد میں ہے۔

علّامہ شامی قدس سرّہ السّامی اسے نقل کرکے فرماتے ہیں : ونحوہ فی الفتاوی الصّوفیۃ [2] یعنی اسی طرح امام فقیہ عارف بالله   سیدی فضل الله   بن محمد بن ایوب سہر وردی تلمیذ امام علّامہ یوسف بن عمر صاحب جامع المضمرات شرح قدوری قدس سرہمانے فتاوٰی صوفیہ میں فرمایا) شیخ مشایخنا خاتم المحققین سیدالعلماء الحنفیہ بمکّہ المحمیہ مولٰنا جمال بن عبدالله   عمر مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :

سئلت عن تقبیل الابھامین ووضعھماعلی العینین عندذکراسمہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم فی الاذان ، ھل ھو جائز ام لا ، اجبت بمانصہ نعم تقبیل الابھامین ووضعھما علی العینین عند ذکر اسمہ صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم فی الاذان جائز ، بل ھو مستحب صرح بہ مشایخنا فی غیر ماکتاب [3]۔                                       

یعنی مجھ سے سوال ہواکہ اذان میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ذکر شریف سُن کر انگوٹھے چُومنا اور آنکھوں پر رکھنا جائز ہے یا نہیں ، میں نے ان لفظوں سے جواب دیا کہ ہاں اذان میں حضور والا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نام پاك سُن کر انگوٹھے چُومنا آنکھوں پر رکھا جائز بلکہ مستحب ہے ہمارے مشایخ نے متعدد کتابوں میں اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔

علامہ محدث محمد طاہر فتنی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ“ تکملہ مجمع بحار الانوار “ میں حدیث کو صرف لایصح فرماکر لکھتے ہیں : وروی تجربۃ ذلك عن کثیرین [4]یعنی اس کے تجربہ کی روایات بکثرت آئیں ۔

فقیر مجیب غفرالله   تعالٰی لہ کہتا ہے ، اب طالب تحقیق وصاحب تدقیق ، افادات چند نافع وسودمندپر لحاظ کرے ، تاکہ بحول الله   تعالٰی چہرہ حق سے نقاب اُٹھے اور صدر کلام میں جن لطیف مباحث پر ہم نے نہایت اجمالی اشارے کیے اُن کی قدرے تفصیل زیور گوشِ سا معین بنے کہ یہاں بسط کامل وشرح کا فل کے لئے تو دفتر وسیط ، بلکہ مجلد بسیط درکار والله  الموفق ونعم المعین فاقول وبالله  التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔

افادہ اوّل : (حدیث صحیح نہ ہونے کے یہ معنٰی نہیں کہ غلط ہے) محدثین کرام کا کسی حدیث کو فرمانا کہ صحیح نہیں اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ غلط وباطل ہے ، بلکہ صحیح اُن کی اصطلاح میں ایك اعلٰی درجہ کی حدیث ہے  جس کے شرائط سخت ودشوار اور موانع وعلائق کثیر وبسیار ، حدیث میں اُن سب کا اجتماع اور اِن سب کا ارتفاع کم ہوتا ہے ، پھر اس کمی کے ساتھ اس کے اثبات میں سخت دقتیں ، اگر اس مبحث کی تفصیل کی جائے کلام طویل تحریر میں آئے ان کے نزدیك جہاں ان باتوں میں کہیں بھی کمی ہوئی فرمادیتے ہیں “ یہ حدیث صحیح نہیں “ یعنی اس درجہ علیا کو نہ پہنچی ، اس سے دوسرے درجہ کی حدیث کو حَسَن کہتے ہیں یہ باآنکہ صحیح نہیں پھر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ورنہ حَسن ہی کیوں کہلاتی ، فقط اتنا ہوتا ہے کہ اس کا پایہ بعض اوصاف میں اس بلند مرتبے سے جھُکا ہوتا ہے ، اس قسم کی بھی سَیکڑوں حدیثیں صحیح مسلم وغیرہ کتب صحاح بلکہ عندالتحقیق بعض صحیح بخاری میں بھی ہیں ، یہ قسم بھی استناد واحتجاج کی پُوری لیاقت رکھتی ہے۔ وہی علماء جو اُسے صحیح نہیں کہتے برابر اُس پر اعتماد فرماتے اور احکامِ حلال وحرام میں حجت بناتے ہیں ، امام محقق محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحلیہ شرح منیہ عـــہ۱ میں فرماتے ہیں :

قول الترمذی “ لایصح عن النبی صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم فی ھذا الباب شیئٌ انتھٰی لاینفی وجود الحسن ونحوہ والمطلوب لایتوقف ثبوتہ علی الصحیح ، بل کمایثبت بہ یثبت بالحسن ایضا [5]۔

ترمذی کا یہ فرمانا کہ اس باب میں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کوئی صحیح حدیث نہیں ملی انتہی حسن اور اُس کے مثل کی نفی نہیں کرتا اور ثبوت مقصود کچھ صحیح ہی پر موقوف نہیں ، بلکہ جس طرح اس سے ثابت ہوتا ہے یونہی حسن سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

اُسی عـــہ۲ میں ہے :

علی المشی علی مقتضی الاصطلاح الحدیثی لایلزم من نفی الصحۃ نفی الثبوت علی وجہ الحسن [6]۔

یعنی اصطلاح علم حدیث کی رُو سے صحت کی نفی حسن ہوکر ثبوت کی نافی نہیں ۔

امام ابن حجر مکی صواعقِ محرقہ عـــہ۳  میں فرماتے ہیں :

قول احمد “ انہ حدیث لایصح ای

یعنی امام احمد کا فرمانا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ، اس کے

 

عـــہ۱ :  ذکرہ فی مسئلۃ المسح بالمندیل بعد الوضوء ۱۲ منہ  : عـــہ۲ :  آخر صفۃ الصلاۃ قبیل فصل فیما کرہ فعلہ فی الصلٰوۃ ۱۲ منہ  : عـــہ۳ :  ذکرہ فی حدیث التوسعۃ علی العیال یوم العاشوراء فی اٰخر الفصل الاول من الباب الحادی عشر قبیل الفصل الثانی ۱۲ منہ                                        

وضو کے بعدتولیہ استعمال کرنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)

صفۃ الصلوٰۃ کے آخر میں فیما کرہ فعلہ فی الصلٰوۃ سے تھوڑا پہلے اسے ذکر کیاہے ۱۲ منہ (ت)

گیارھویں باب کی فصل اول کے آخر اور فصل ثانی سے تھوڑا پہلے عاشورا کے دن اہل وعیال پر وسعت والی حدیث میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

لذاتہ فلاینفی کونہ حسنا لغیرہ ، والحسن لغیرہ یحتج بہ کمابین فی علم الحدیث[7]۔

یہ معنے ہیں کہ صحیح لذاتہ نہیں تو یہ حسن لغیرہ ہونے کی نفی نہ کریگا اور حسن اگرچہ لغیرہ ہو حجت ہے جیسا کہ علمِ حدیث میں بیان ہوچکا۔

 



[1]   $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن