30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانب زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے ، اس پر حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے ، اور یہ حدیث اس درجہ کو نہ پہنچی جسے محدثین اپنی اصطلاح میں درجہ صحت نام رکھتے ہیں ۔
پھر فرمایا :
وکذامااوردہ ابوالعباس احمد بن ابی بکرن الرداد الیمانی المتصوف فی کتابہ “ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرۃ “ بسند فیہ مجاھیل مع انقطاعہ عن الخضر علیہ السلام انہ قال من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله ، مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، ثم یقبل ابھا میہ ویجعلھما علی عینیہ لم یرمد ابدا [1]
یعنی ایسے ہی وہ حدیث کہ حضرت ابوالعباس احمد بن ابی بکررداد یمنی صوفی نے اپنی کتاب “ موجبات الرحمۃ وعزائم المغفرہ “ میں ایسی سند سے جس میں مجاہیل ہیں اور منقطع بھی ہے حضرت سیدنا خضرعَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے روایت کی کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مؤذّن سے اشھد ان محمدا رسول الله سن کر مرحبا بجبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکہے پھر دونوں انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں ۔
پھر فرمایا :
ثم روی بسند فیہ من لم اعرفہ عن اخی الفقیہ محمد بن البابا فیما حکی عن نفسہ انہ ھبت ریح ، فوقعت منہ حصاۃ فی عینہ فاعیاہ خروجھا والمتہ اشد الالم ، وانہ لماسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدا رسول الله ، قال ذلك فخرجت الحصاۃ من فورہ ، قال الرداد رحمہ الله تعالٰی ، وھذا یسیر فی جنب فضائل الرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [2]۔
یعنی پھر ایسی سند کے ساتھ جس کے بعض رواۃ کو میں نہیں پہچانتا فقیہ بن البابا کے بھائی سے روایت کی کہ وہ اپنا حال بیان کرتے تھے ایك بار ہوا چلی ایك کنکری ان کی آنکھ میں پڑگئی نکالتے تھك گئے ہرگز نہ نکلی اور نہایت سخت درد پہنچایاانہوں نے مؤذن کواشھد ان محمدارسول الله کہتے ہوئے یہی کہا فورًا نکل گئی رواد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے فضائل کے حضور اتنی بات کیا چیز ہے۔
پھر فرمایا :
وحکی الشمس محمد بن صالح نالمدنی امامھا وخطیبھا فی تاریخہ عن المجد احد القدماء من المصریین ، انہ سمعہ یقول من صلی علی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذاسمع ذکرہ فی الاذان ، وجمع اصبعیہ المسبحۃ والابھام وقبلھا ومسح بھما عینیہ لم یرمد ابدا[3]۔
یعنی شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے اُنہیں فرماتے سُنا جو شخص نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا ذکر پاك اذان میں سُن کرکلمہ کی اُنگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اُس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں ۔
پھر فرمایا :
قال ابن صالح ، وسمعت ذلك ایضا من الفقیہ محمد بن الزرندی عن بعض شیوخ العراق اوالعجم انہ یقول عندمایمسح عینیہ ، صلی الله علیك یاسیدی یارسول الله یاحبیبَ قلبی ویانورَ بصری ویاقرۃ عینی ، وقال لی کل منھما منذفعلہ لم ترمد عینی[4]۔
یعنی ابن صالح فرماتے ہیں میں نے یہ امر فقیہ محمد بن زرندی سے بھی سناکہ بَعض مشایخ عراق یا عجم سے راوی تھے اور اُن کی روایت میں یوں ہے کہ آنکھوں پر مَس کرتے وقت یہ درود عرض کرے صَلَّی الله عَلَیك یاسَیدیْ یا رَسُوْلَ الله یاحَبِیبَ قَلْبِیْ وَیانُوْرَ بَصَرِیْ وَیا قُرَّۃَ عَینِیْ ، اور دونوں صاحبوں یعنی شیخ مجد وفقیہ محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب سے ہم یہ عمل کرتے ہیں ہماری آنکھیں نہ دُکھیں ۔
پھر فرمایا :
قال ابن صالح واناولله الحمد والشکر منذسمعۃ منھما استعملتہ ، فلم ترمد عینی وارجو ان عافیتھما تدوم وانی اسلم من العمی ان شاء الله تعالٰی ٣[5]۔
یعنی امام ابن صالح ممدوح نے فرمایا الله کے لئے حمد وشکر ہے جب سے مَیں نے یہ عمل اُن دونوں صاحبوں سے سُنا اپنے عمل میں رکھا آج تك میری آنکھیں نہ دُکھیں اور اُمید کرتا ہوں کہ ہمیشہ اچھی رہیں گی اور میں کبھی اندھا نہ ہوں گا اِن شاء الله تعالٰی۔
پھر فرمایا :
قال وروی عن الفقیہ محمد بن سعید الخولانی قال اخبرنی الفقیہ العالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید الحسینی ، اخبرنی الفقیہ الزاھد ابلالی عن الحسن علیہ السلام ، انہ قال ، من قال حین یسمع المؤذن یقول اشھد ان محمدًا رسول الله مرحبا بجیبی وقرۃ عینی محمد بن عبدالله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، ویقبل ابھامیہ ویجعلھما علی عینیہ لم یعم ولم یرمد [6]۔
یعنی یہی امام مدنی فرماتے ہیں فقیہ محمد سعید خولانی سے مروی ہُواکہ انہوں نے فرمایا مجھے فقیہ عالم ابوالحسن علی بن محمد بن حدید حسینی نے خبر دی کہ مجھے فقیہ زاہد بلالی نے حضرت امام حسن علی جدہ الکریم وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے خبر دی کہ حضرت امام نے فرمایا کہ جو شخص مؤذن کو اشھد ان محمدًا رسول الله کہتے سُن کر یہ دعا پڑھے مَرْحَبَا بِحَبِیْبِیْ وَقُرَّۃَ عَینِیْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِ الله صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمْ ط اور اپنے انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے نہ کبھی اندھا ہو نہ آنکھیں دُکھیں ۔
پھر فرمایا :
وقال الطاؤسی ، انہ سمع من الشمس محمد بن ابی نصر البخاری خواجہ ، حدیث من قبل عند سماعہ من المؤذن کلمۃ الشھادۃ ظفری ابھامیہ ومسھما علی عینیہ ، وقال عندالمس “ اللھم احفظ حدقتی ونورھما ببرکۃ حدقتی محمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ونورھما لم یعم [7]۔
[1] المقاصد الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[2] المقاصد الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[3] المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[4] المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[5] المقاصد الحسنہ حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴
[6] المقاصد الحسنۃ باب المیم حدیث ۱۰۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع