دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

تمام خُوبیان الله   کے لئے جس نے گروہِ انبیاء ومرسلین کے سربراہ کے نور سے تمام مسلمانوں کی آنکھوں کو روشنی بخشی ، صلاۃ وسلام ہو اس پر جو آنکھوں کا نور ، پریشان دلوں کا سرور یعنی محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمجن کاذکر اذان ونماز میں بلند ہے۔ جس کا اسم گرامی اہلِ ایمان کے ہاں نہایت ہی محبوب ہے اور آپ کی آل واصحاب پر جن کے مبارك سینے آپ کے اسرار ورموز کے جلال کیلئے کھول دئے ، اور ان کی آنکھوں کو آپ کے انوار جمال سے منور فرمایا ، میں گواہی دیتا ہوں کہ الله   تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ ، لاشریك ہے اور حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّماس کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں جن کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا ، اور ہم پر بھی رحمت ہو ان کے ساتھ ، ان کے سبب اور ان کے صدقہ میں یاارحم الراحمین ، مولٰی جلیل کا عبدِ ذلیل عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی ، سُنّی ، حنفی ، قادری ، برکاتی ، بریلوی کہتا ہے الله   تعالٰی اس کی آنکھوں کو منور فرمائے اور اس کے تمام احوال کی اصلاح کرے درانحالیکہ وہ رب الفلق کی پناہ میں آتا ہے تمام مخلوق کے شر سے اور حمد کرتا ہے الله   کی اس پر جو اس نے عطا کی اور اس کی توفیق دے۔ (ت)

الجواب :

حضور پُرنور شفیع یوم النشور صاحبِ لولاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نام پاك اذان میں سُنتے وقت انگوٹھے یا انگشتانِ شہادت چُوم کر آنکھوں سے لگانا قطعًا جائز ، جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم ، اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا ، جو ناجائز بتائے ثبوت دینا اُس کے ذمّہ ہے کہ قائل جواز متمسك باصل ہے اورمتمسك باصل محتاجِ دلیل نہیں ، پھر یہاں تو حدیث وفقہ وار شاد علما وعمل قدیم سلف صلحا سب کچھ موجود۔ علمائے محدثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسیدنا صدیق اکبر وحضرت ریحانہ رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسیدنا امام حسن وحسین وحضرت نقیب اولیائے رسول الله   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسیدنا ابوالعباس خضر علی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاۃ والتسلیم وغیرہم اکابر دین سے حدیثیں روایت فرمائیں جس کی قدرے تفصیل امام علّامہ شمس الدین سخاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز شرح نقایتہ ، مختصر الوقایۃ وفتاوٰی صوفیہ وکنز العباد وردالمحتار حاشیہ درمختار وغیرہا کتبِ فقہ میں اس فعل کے استحباب واستحسان کے صاف تصریح آئی ، ان میں اکثر کتابیں خود مانعین اور ان کے اکابر وعمائد مثل متکلم قنوجی وغیرہ کے مستندات سے ہیں اور اُن حدیثوں کے بارے میں اُن محدثین کرام ومحققین اعلام نے جو تصحیح وتضعیف وتجریح وتوثیق میں دائرہ اعتدال سے نہیں نکلتے اور راہِ تساہل وتشدّد نہیں چلتے حکمِ اخیر وخلاصہ بحث وتنقیریہ قرار دیا کہ خود حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے جو حدیثیں یہاں روایت کی گئیں باصطلاحِ محدثین درجہ صحت کو فائز نہ ہوئیں ، مقاصد میں فرمایا :

لایصحّ فی المرفوع مِنْ کُلّ ھٰذا شیئٌ [1]۔

بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں ۔ (ت)

مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعاتِ کبیر میں فرماتے ہیں :

کل مایروی فیئ ھذٰا فلایصح رفعہ البتۃ [2]۔

اس بارے میں جو بھی روایات بیان کی گئی ہیں ان کا مرفوع ہونا حتمی صحیح نہیں ۔ (ت)

علامہ ابن عابدین شامی قدس سرّہ السامی ردالمحتار میں علّامہ اسمٰعیل جراحی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے نقل فرماتے ہیں :

لَمْ یصِحَّ فیِ الْمَرْفُوْعِ مِنْ کُلِّ ھٰذَا شَیئٌ[3]۔

بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائر نہیں ۔ (ت)

پھر خادمِ حدیث پر روشن کہ اصطلاحِ محدثین میں نفیِ صحت نفیِ حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی صلاح وتماسك وصلوح تمسک ، نہ کہ دعوٰی وضعِ کذب ، تو عندالتحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاحِ محدثین حکمِ صحت صحیح نہیں یونہی حکمِ وضع وکذب بھی ہرگز مقبول نہیں بلکہ بتصریح ائمہ فن کثرتِ طُرق سے جبر نقصان متصوّر اور عملِ علمأ وقبولِ قُدما حدیث کے لئے قوی ، دیگر اور نہ سہی تو فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول ، اور اس سے بھی گزرے تو بِلاشُبہہ یہ فعل اکابرِ دین سے مروی ومنقول اور سلف صالح میں حفظ صحتِ بصر وروشنائی چشم کے لئے مجرب اور معمول ، ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلًا نقل بھی نہ ہوتو صرف تجربہ وافی کہ آخر اُس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں ، نہ کسی سنّتِ ثابتہ کا خَلاف ، اور نفع حاصل تو منع باطل ، بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ سے خاص کرناصاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیثِ موقوفہ کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے ، ولہذا مولٰنا علی قاری نے عبارتِ مذکورہ کے بعد فرمایا :

قلت واذاثبت رفعہ الی الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ فیکفی للعمل بہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین [4]۔

یعنی صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں میں تم پر لازم کرتا ہُوں اپنی سنّت اور اپنے خلفائے راشدین کی سنت۔ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔

تو صدیق سے کسی شَے کا ثبوت بعینہٖ حضور سیدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ثبوت ہے اگرچہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تك مرفوع نہ ہو ، امام سخاوی المقاصد الحسنۃ فی الاحادیث الدائرۃ علی الالسنۃ میں فرماتے ہیں :

حدیث : مسح العینین بباطن انملتی السبابتین بعد تقبیلھما عندسماع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله  مع قولہ اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ رضیت بالله  ربا وبالاسلام دینا وبمحمد صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم نبیا ذکرہ الدیلمی فی الفردوس من حدیث ابی بکر الصدیق رضی الله  تعالٰی عنہ انہ لماسمع قول المؤذن اشھد ان محمدا رسول الله  قال ھذا وقیل باطن الانملتین السبابتین ومسح عینیہ فقال صلی الله  تعالٰی علیہ وسلم مَنْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ خَلِیْلِیْ فَقَدْ حَلَّتْ عَلَیہِ شَفَاعَتِیْ وَلَایصِحَّ [5]۔                                                                                                                                                                                                                             

یعنی مؤذن سے اشھد انّ محمدًا رسول الله   سُن کر انگشتانِ شہادت کے پورے جانبِ باطن سے چُوم کر آنکھوں پر ملنا اور یہ دُعا پڑھنا اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ ، وَرَسُوْلُہ ، رَضِیتُ بِالله  رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِینًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی الله  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ نَبِیا ط اس حدیث کو دیلمی نے مسند الفردوس میں حدیث سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ جب اس جناب نے مؤذن کو اشھد انّ محمدًا رسول الله   کہتے سُنا یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے



[1]   المقاصد الحسنہ حرف المیم حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۸۵

[2]   الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰ 

[3]   ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۳

[4]   الاسرار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ (موضوعات کبرٰی) حدیث ۸۲۹ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۱۰

[5]   المقاصد الحسنۃ حروف المی  حدیث ۱۰۲۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۸۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن