دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

(۲) اذان نابالغ دے تو جائز ہے یا ناجائز؟

(۳) تکبیر واجب ہے یا سنّت؟

(۴) مصلّی پر امام نہ ہوتو تکبیر جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب

(۱) جمعہ وجماعت پنجگانہ کے لئے اذان سنّتِ مؤکدہ وشعارِ اسلام وقریب بواجب ہے ، والله تعالٰی اعلم۔

(۲) نابالغ اگر عاقل ہے اور اس کی اذان اذان سمجھی جائے تو جائز ہے ، والله تعالٰی اعلم۔

(۳) یوں ہی تکبیر بھی ، والله تعالٰی اعلم۔

(۴) جب امام مسجد میں بہ تہیہ نماز آئے تو تکبیر کہہ سکتے ہیں اگرچہ مصلّے تك نہ پہنچے ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۶)            از شہر مسئولہ وکیل الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام                  ۶ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بہت ہی پکّا سُنّی ہے اہلسنّت کے طریقہ پر قدم بقدم چلتا ہے ایك ذرّہ بھی وہابیت کا نقص نہیں پایا جاتا وہابیوں سے منتفر رہتا ہے الغرض عقائد میں کسی قسم کی خرابی نہیں ایسے شخص کو بکر وہابی وکافر کہتا ہے چونکہ بکر نے زید کو بوقت اذان کے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے نامِ مبارك پر انگشت کو بوسہ لیتے ہوئے اور درود شریف بآوازِ بلند پڑھتے ہوئے نہ دیکھا زید کہتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اور درود شریف حضور کے نام مبارك پر اس وقت پڑھنا دل میں چاہئے لہذا میں دل میں پڑھتا ہوں اور جوابِ اذان دیتا ہوں اور زید انگشت چُومنے سے انکار بھی نہیں کرتا ہے اس وجہ سے بکر نے زید کو اسلام سے خارج کرکے کفر میں داخل کردیا ہے اور زید کے عقائد کی حالت بھی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس صورت میں بکر کا یہ کلام زبان سے نکالنا صحیح ہے یا نہیں ، اگر صحیح نہیں تو بکر پر شارع علیہ السلام کا کیا حکم جاری ہوگا؟ بینّوا توجّروا۔

الجواب :

اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید کو وہابی کہنا جائز نہیں اور اسے خارج از اسلام ٹھہرانا سخت اشد کبیرہ ہے بکر پر تو بہ فرض ہے اور اس وقت درود شریف دل میں پڑھنے سے اگر زید کی مراد یہ ہے کہ زبان سے نہ پڑھا جائے تو غلط ہے زبان سے پڑھنا لازم ہے اور بآواز ہونا مستحب ہے کہ اوروں کو بھی ترغیب وتذکیر ہو اور اس پر درود شریف نہ پڑھنے کی بدگمانی نہ ہو ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۷)            از شہر محلہ ملوك پور مسئولہ شفیق احمد خاں صاحب                           ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تکبیر کے شروع ہونے کے وقت امام ومقتدی کو کھڑا رہنا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے اور بیٹھ جانے میں کیا فضیلت ہے اور کھڑا رہنے میں کیا نقصان ہے؟

الجواب :

امام کے لئے اس میں کوئی خاص حکم نہیں مقتدیوں کو حکم ہے کہ تکبیر بیٹھ کر سُنیں حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں ، کھڑے کھڑے تکبیر سُننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علمگیری میں فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایسے وقت میں مسجد میں آئے کہ تکبیر ہورہی ہو فورًا بیٹھ جائے اور حی علی الفلاح پر کھڑا ہو اور اس میں راز مکبر کے اس قول کی مطابقت ہے کہ قدقامت الصلاۃ ادھر اس نے حی علی الفلاح کہا کہ آؤ مراد پانے کو ، جماعت کھڑی ہوئی ، اس نے کہا قدقامت الصلاۃ جماعت قائم ہوگئی۔ والله تعالٰی اعلم

مسئلہ (۳۷۸)            از شہر بازار شہامت گنج مسئولہ مشیت خاں                      ۹ صفر المظفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد اذان کے اور جماعت سے ذرا قبل الصلٰوۃ والسلام علیك یارسول الله  الصلٰوۃ والسلام علیك یاحبیب الله  پڑھنا بآوازِ بلند چاہئے یا نہیں ؟ ایك شخص کہتا ہے کہ صلاۃ وسلام پڑھنے سے اذان کی حیثیت گھٹتی ہے کوئی ضرورت نہیں ہے جواب سے مشرف فرمایا جائے۔

الجواب :

پڑھنا چاہئے اور صلاۃ وسلام سے اذان کی حیثیت بڑھتی ہے کہ وہ اعلام کے لئے تھی اور یہ اسی کی ترقی ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۹)            از شہر محلہ صالح نگر مسئولہ کفایت دری ساز                                    ۱۱ صفر ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص وہابی ہے یا ان کا ہمخیال ہے اگر وہ اذان دے سُنّی کی مسجد میں تو اس کا جواب سُنّی دے یا نہیں ؟ اور جب سُنّی اس مسجد میں نماز کے کیلئے جائے تو اپنی اذان کہے یا اس کی اذان پر اکتفا کرے اور دوسری اذان نہ کہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب :

اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نامِ رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگرچہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سے اداہوں مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں ، اور اہلسنت کو اُس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں ، درمختار میں ہے : ویعاداذان کافر وفاسق [1](کافر اور فاسق کی اذان لوٹائی جائے۔ ت) والله تعالٰی اعلم

مسئلہ (۳۸۰)            موضع بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخان صاحب رضوی                 ۲۷صفر۹ ۱۳۳ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلاۃ جو بعد اذان بلفظ الصلاۃ والسلام علیك یارسول الله  پڑھی جاتی ہے مخالف کہتا ہے کہ یہ فعل قرآن شریف اور حدیث شریف کے باہر ہے اور شارع اسلام کے خلاف ہے یا کوئی مجھے بتائے کہ فرض ہے یا واجب یا سنّت ہے یا مستحب ، اور یہ فعل نیم مولوی کا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں اس کو امام بنانا چاہئے یا نہیں ؟

(۲) بروقت جماعت کے قبل جو تکبیر پڑھی جاتی ہے اس کو زید کہتا ہے کہ امام ومقتدی بیٹھ کر سُنیں ، عمرو کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر سُننا چاہئے اور یہ رواج قدیم ہے اور یہ نئے مولویوں کی فتنہ انگیزی کی بات ہے۔

الجواب :

مخالف جھُوٹا ہے اور شریعتِ مطہرہ پر افترا کرتا ہے ثبوت دے شرع مطہر نے اسے کہاں منع فرمایا ہے کہ خلافِ شرع کہتا ہے ہاں وہ فردًا مستحب ہے اور اصلا فرد فرض ہے قال الله تعالٰی :

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)[2]

بیشك الله  اور اس کے سب فرشتے درود بھیجتے ہیں اس نبی پر ، اے ایمان والو! درود بھیجو ان پر اور خوب سلام عرض کرو ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



[1]   دُرمختار باب الاذان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۴

[2]   القرآن ۳۳ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن