دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 5 | فتاوی رضویہ جلد ۵

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۵

تھی ، اور اشعۃ اللمعات کے اس مضمون پر تعجب ہے جو حضرت جابر بن سمرۃکی اس حدیث کے تحت ذکر کیاگیا کہ میں نے نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی معیت میں ایك یا دو دفعہ سے زائد مرتبہ بغیر اذان واقامت کے عیدین کی نماز پڑھی ، کہا ایك روایت میں یہ اضافہ ہے کہ “ الصلاۃ جامعۃ “ کے الفاظ بھی نہیں کہے جاتے تھے اھ ، یہ کلمہ صحیح مسلم میں نہیں اگر ہوتو صرف عدمِ مواظبت پر دلیل ہے یعنی ہمیشگی نہیں فرمائی لہذا یہ مرسل زہری کے معارض نہیں اور مرسلِ ثقہ ہمارے ہاں حجت ہے۔ (ت)

مسئلہ (۳۶۹)            از بیکانیر مارواڑ مہادنان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب                     ۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رسولِ خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نام مبارك سن کر درود شریف ہم پڑھتے ہیں لیکن ہاتھوں کو چُومتے نہیں میں ایك شخص کہتا ہے کہ جو ہاتھ نہ چُومے وہ مردود وملعون ہے ، اب گزارش ہے کہ ہاتھ چُومناکیساہے اور چُوما جائے تو کیا ذمّے گناہ ہوگا اگر چُومنا منع ہے تو وہ شخص کو جو نہ چُومنے والوں کو کلماتِ مندرجہ بالا کہتا ہے اُس کے لئے کیا حکم ہے آیا وہ کافر ہوا یا اسلام میں رہا؟

الجواب :

رسول الله  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا نامِ اقدس اذان میں سُن کر انگوٹھے چُومنامستحب ہے اچھا ہے ثواب ہے کمافی کنزالعباد وجامع الرموز وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ کنزالعباد ، جامع الرموز اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر فرض واجب نہیں کہ نہ کرنے سے گناہ ہواور صرف اس قدر پر مردود وملعون کہنا سخت باطل ومردود ہے ہاں جوبربنائے وہابیت اسے بُرا جان کر نہ چُومے تو وہابی ضرور مردود وملعون ہے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۰)            از بریلی مسئولہ مولوی محمد افضل صاحب کاببلی                ۲۱ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ

(۱) الاقامۃ حق للمؤذن ولایقیم بغیر اذنہ ، سمعت من اساتذہ مرویۃ ، وان قال الامام بغیرہ اقم ، فھو ایضا جائز بغیر الکراھۃ ،  صحیح ،  ام لا۔

(۱) تکبیر مؤذن کا حق ہے اس کی اجازت کے بغیر دوسرا نہ کہے ، بعض اساتذہ کے حوالے سے میں نے یہ سنا ہے کہ اگرامام غیر مؤذن کوکہدے “ تکبیرپڑھ “ توبھی بلاکراہت یہ جائز ہے ، کیا یہ صحیح ہے یا غَلَط؟

(۲) والمکبّر فی یوم العید والجمعۃ ان کبر بغیر اذن الامام ، لایجوزالاخذ بقولہ ولابطلت صلوۃ من رکع اوسجد بتکبیرہ ، صح ام لا۔                                 

(۲) عید اور جمعہ کے موقع پر اگر مکبّر اجازتِ امام کے بغیر تکبیر کہہ دے اس کے قول پر عمل جائز نہیں اور اس کی تکبیر پر رکوع وسجدہ کرنے والے کی نماز باطل نہ ہُوئی ، کیا صحیح ہے یا نہیں ؟

الجواب :

(۱) ان کان المؤذن حاضرا لایقیم غیرہ الاباذنہ ولاینبغی للامام ان یامر غیرہ بالاقامۃ الابوجہ شرعی مثل ان تکون اقامتہ مشتملۃ عن لحن وذلك لانہ یوحش المؤذن بہ۔

(۲) ھذا باطل لااصل لہ ، ویجوز التبلیغ عن الحاجۃ وان لم یاذن الامام ، بل وان نھی۔  وھو تعالٰی اعلم۔           

(۱) اگر مؤذن موجودہے تو اس کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا تکبیر نہ کہے اور امام کے لئے بھی مناسب نہیں کہ شرعی عذر کے بغیر کسی دوسرے کو تکبیر کے لئے کہے ، شرعی عذر مثلًا اس کی اقامت لحن پر مشتمل ہو ، اجازت مؤذن کے بغیراقامت کہنا مناسب نہیں کہ شاید وہ اسے ناپسند کرتا ہو۔ (ت)

(۲) یہ باطل ہے اس کی کوئی اصل نہیں ، ضرورت کے موقع پر تبلیغ جائز ہے اگرچہ امام اجازت نہ دے بلکہ وہ منع بھی کردے تب بھی جائز ہے۔ (ت)

مسئلہ (۳۷۱)            ۲۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مقتدیوں کو جب تکبیر نماز کہی جائے تو تکبیر شروع ہوتے ہی کھڑاہونا چاہئے یا جب حی علی الفلاح مکبّر کہے تب کھڑے ہوں اور مقتدی وامام اس میں یعنی قیام وقعودمیں مساوی ہیں یا ہر ایك کے واسطے جداگانہ حکم ہے ، مثلًا جو کہے کہ مقتدی بیٹھے رہیں اور حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں لیکن امام فورًا جب تکبیر شروع ہو کھڑاہوجائے اس کا فعل صحیح ہے یا غلط؟

الجواب :

حی علی الفلاح پر کھڑے ہوں جس نے کہا امام فورًا کھڑا ہوجائے غلط کہا ، حوالہ وہ دے ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۲)            از چتوڑ گڈھ میواڑ مرسلہ فتح محمد صاحب                          ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں امام ہو اور تکبیر مکبّر شروع کردے اب امام حجرہ سے روانہ ہو ختم تکبیر سے پہلے حی علی الفلاح کے وقت یا بعد ختم تکبیر مصلّے پر پہنچ جاوے اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے بصورت احیانا یا بصورت دواما ، ہر دوصورت کا کیا حکم ہے؟

الجواب :

اس صورت میں کوئی حرج نہیں نہ امام مکبّر کا پابند ہوسکتا ہے بلکہ مکبر کو امام کی پابندی چاہئے حدیث میں ہے المؤذن املك بالاذان ، والامام املك  بالاقامۃ [1](اذان کا اختیار مؤذن کو ہے اور اقامت کا اختیار امام کو۔ ت)

اور اگر وہ تکبیر ہوتے میں چلا تو اُسے بیٹھنے کی بھی حاجت نہیں مصلّے پر جائے اور حی علی الفلاح یا ختم تکبیر پر تکبیر تحریمہ کہے ، یوں ہی بعد خطبہ اُسے اختیار ہے کہیں منقول نہیں کہ خطبہ فرماکر تکبیر ہونے تك جلوس فرماتے یہ حکم قوم کے لئے ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۳)            از جرودہ ضلع میرٹھ مسئولہ سید سراج احمد صاحب           ۱۲ شعبان ۱۳۳۷ھ

تکبیر سے پہلے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور کچھ لوگ کھڑے ہوں تو کیا تکبیر شروع ہوتے ہی سب کو کھڑا ہوجانا چاہئے یا بیٹھ جانا چاہئے ، اگر بیٹھے رہیں تو کس لفظ پر کھڑا ہونا چاہئے ، اگر تکبیر شروع ہوتے ہی فورًا کھڑے ہوجائیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔

الجواب :

تکبیر کھڑے ہوکر سُننا مکروہ ہے یہاں تك کہ علما نے فرمایا ہے کہ اگر تکبیر ہورہی ہے اور مسجد میں آیا تو بیٹھ جائے اور جب مکبّر حی علی الفلاح پر پہنچے اس وقت سب کھڑے ہوجائیں ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ (۳۷۴)            محمد عبدالرشید ازحصار مدرسہ انجمن محاسن اسلام احاطہ عبدالغفور صاحب۱۴     محرم۶ ۱۳۳ھ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن