30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) ؒ [1]
فان الظاھر ان المراد بہ ماذکر عنہ ربہ عزوجل بقولہ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) [2] بہ فسرہ سعید بن جبیر ، ارشد تلامذہ ابن عباس ، الراوی عنہ تلك الکلیۃ وقد قال الحسن البصری ، کمافی المعالم : ماکانت لہ صلاۃ فی بطن الحوت؛ ولکنہ قدم عملا صالحا [3]۔ اھ بیدان ابن عباس ھھنا ایضا مشی علی اصلہ فقال رضی الله تعالٰی عنہ ، من المسبحین ، من المصلین[4]۔ ویکون المعنی حینئذ ماقال الضحاک ، انہ شکرالله تعالٰی لہ طاعتہ القدیمۃ[5] ، کمافی المعالم ایضا۔ فعلٰی ھذا الحمل واخذ الامر للوجوب ، تدل الاٰیۃ باٰخرھا علی فرضیۃ اکثر من صلاتین؟ الا ان یقال : لم یقصد الحصر ، بدلیل ان قیام اللیل کان فریضۃ من قبل قطعا؛ ولکن یبقی قولہ تعالٰی واطراف النھار؛ وحملہ علی المذکورتین یستلزم التکرار۔
اما استدلال مقاتل بقولہ تعالٰی وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ(۵۵)[6] ، فاقول : اضعف ، واضعف؛ بل لیس بشیئ اصلا ، فان الاٰیۃ من سورۃ حم المؤمن ، وقدتأخر نزولھا عن سورۃ بنی اسرائیل النازلۃ بخبر الاسراء ، بزمان طویل ، فقد روی ابن الضریس فی فضائل القراٰن عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما ، فی حدیث ترتیب نزول السور ، قال : کان اول مانزل من القراٰن اقرأ باسم ربک ، ثم ن ، فذکر الحدیث الی ان قال : ثم بنی اسرائیل ، ثم یونس ، ثم ھود ، ثم یوسف ، ثم الحجر ، ثم الانعام ، ثم الصفت ، ثم لقمان ، ثم سبا ، ثم الزمر ، ثم حم المؤمن[7]۔ الحدیث۔ فکیف یستدل بھا علی ایجاب صلاۃ قبل الاسراء؟ لاجرم ان فسرھا ترجمان القراٰن رضی الله تعالٰی عنہ بالصلوات الخمس [8] ، کمافی المعالم۔ وقد یستدل بماروی ابن ابی حاتم فی تفسیرہ عن انس رضی الله تعالٰی عنہ فی حدیث الاسراء واتیانہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بیت المقدس “ لم البث الا یسیرا حتی اجتمع ناس کثیر ، ثم اذن مؤذن واقیمت الصلاۃ “ قال : فقمنا صفوفا ننتظر من یؤمنا فاخذ جبریل علیہ الصلاۃ والسلام بیدی فقدَّمَنی فصلیت بھم ، فلما انصرفت ، قال لی جبریل : اتدری من صلی خلفک؟ قلت : لا ، قال : صلی خلفك کل نبی بعثہ الله [9]۔ وھو الحدیث المشار الیہ فی کلام الزرقانی عن الامام النعمانی۔
درمختار کی کتاب الصلٰو ۃ کے آغاز میں ہے کہ نماز (باقاعدہ طور پر) معراج میں فرض ہوئی تھی ، اس سے پہلے صرف دو۲ نمازیں تھیں ، ایك طلوع سے پہلے دُوسری غروب سے پہلے۔ شمنی اھ (ت)اور مواہب کی فصل اوّل میں جہاں اولین ایمان لانے والوں کا ذکر ہے ، اس سے تھوڑا پہلے مذکور ہے کہ مقاتل نے کہا ہے کہ ابتداء میں نماز کی صرف دو۲ رکعتیں صبح کو اور دو۲ رکعتیں رات کو فرض تھیں کیونکہ الله تعالٰی فرماتا ہے اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ رات کو اور سویرے۔ فتح الباری میں کہا ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّممعراج سے پہلے نماز تو یقینا پڑھتے تھے اور اسی طرح آپ کے صحابہ بھی پڑھتے تھے ، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے کوئی نماز فرض بھی تھی یا نہیں ! تو کہا گیا ہے کہ ایك نماز طلوع سے اور ایك غروب سے پہلے فرض تھی اور اس پر دلیل الله تعالٰی کا یہ فرمان ہے : اور تسبیح کہو اپنے رب کی حمد کے ساتھ طلوع شمس سے پہلے اور غروبِ شمس سے پہلے۔ (ت)اور نووی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ڈر سنانا اور توحید کی طرف بلانا فرض کیا گیا ، پھر الله تعالٰی نے قیام لیل فرض کردیا جس کا سورہ مزمل کی ابتداء میں ذکر ہے پھر اس کو منسوخ کردیا اس حکم سے جو سورہ مزمل کے آخر میں ہے ، پھر اس کو بھی منسوخ کردیا اور اس کے بجائے مکہ مکرمہ میں معراج کی رات کو پانچ نمازیں فرض کردیں ۔ اھ مواہب کی عبارت ختم ہُوئی۔ (ت)اور مواہب کی شرح میں علامہ زرقانی نے نویں مقصد میں لکھا ہے کہ ایك جماعت کی رائے یہ ہے کہ معراج سے پہلے کوئی نماز فرض نہیں تھی ، صرف رات کو نماز پڑھنے کا حکم تھا مگر اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں تھی۔ اور حربی کی رائے یہ ہے کہ نماز معراج سے پہلے بھی فرض تھی۔ دو۲ رکعتیں صبح کو اور دو۲ رکعتیں رات کو۔ لیکن حربی کی رائے کو اہلِ علم کی ایك جماعت نے رَد کیا ہے۔ (ت) اور مواہب و زرقانی کے پانچویں مقصد میں جوکہ معراج کے بیان میں ہے جہاں نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا باقی انبیاء کو نماز پڑھانا مذکور ہے ، وہاں لکھا ہے (اس نماز میں اختلاف پایا جاتا ہے) کہ آیا اس کی مشروعیت وہی معروف مشروعیت ہے یا لغوی مشروعیت مراد ہے؟ پہلا قول درست قرار دیا گیا ہے کیونکہ جہاں تك ممکن ہو نص کو اپنی شرعی حقیقت پر حمل کیا جاتا ہے۔ مشروعیتّ معروفہ مراد لینے کے بعد اس میں اختلاف ہے (کہ کیا یہ فرض ہے) اور جیسا کہ نعمانی نے کہا ہے اس پر انس کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ابن ابی حاتم کے ہاں پائی جاتی ہے اور تھوڑا سا پہلے مصنف نے بھی ذکر کی ہے (یا نفل ہے؟ اگر ہم کہیں کہ فرض ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی نماز ہے؟ بعض نے کہا ہے کہ اقرب یہ ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ عشاء کی نماز ہو) اور دونوں احتمال جیسا کہ شامی نے کہا ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، خواہ ہم یہ کہیں کہ یہ نماز آسمانوں پر جانے سے پہلے پڑھائی تھی یا بعد میں ، کیونکہ پانچ نمازوں میں مطلقًا پہلی نماز جو نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے پڑھی تھی وہ بالاتفاق ظہر کی نماز تھی جو آپ نے مکہ مکرمہ میں ادا فرمائی تھی۔ اور جو شخص اس روایت کو مکّہ کے ساتھ مختص کرے تو اس پر دلیل لازم ہے۔ شامی نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ کوئی نفلی نماز تھی یا ان نمازوں میں سے تھی جو رسول الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمپر شبِ معراج سے پہلے فرض تھیں اور فتاوٰی نووی سے دوسری شق کی تائید ہوتی ہے۔ (ت)
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع